جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا شعر نمبر 1: جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا مشکل الفاظ کے معانی: تاجوری: بادشاہت، سر پر تاج ہونا۔ نوحہ گری: ماتم کرنا، رونا دھونا۔ غرور: تکبر، گھمنڈ۔ مفہوم: آج جس شخص کو اپنی

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں