اب دل ہے مقام بے کسی کا

اب دل ہے مقام بے کسی کا داغ دہلوی کی یہ غزل سہلِ ممتنع (سادہ مگر مشکل) کا بہترین نمونہ ہے۔ داغ اپنی صفائیِ زبان اور محاورہ بندی کے لیے مشہور ہیں، اور اس غزل میں انہوں نے عشق کے نازک جذبات کو بہت ہی دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں اس غزل