اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح) شعر نمبر 1: اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی مشکل الفاظ کے معنی: ہم سخن: ساتھ گفتگو کرنے والا، دوست۔ تقاضا: مطالبہ، ضرورت۔ ہونٹ سینا: خاموشی اختیار کرنا۔ مفہوم: اے میرے دوست! موجودہ

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی(غزل)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی شور برپا ہے خانۂ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے