سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں منیر نیازی کی یہ غزل ان کے مخصوص لب و لہجے، خوف، حیرت اور ماضی کی بازگشت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح اور معانی درج ذیل ہیں۔ شعر نمبر 1 سن بستیوں کا

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں کر یاد ان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں صرصر کی زد میں آئے ہوئے بام و در