ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے مرزا غالب کی یہ غزل ان کے فلسفہ، انانیت اور طرزِ بیان کا شاہکار ہے۔ ذیل میں مرزا غالب کی اس غزل کے ہر شعر کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم درج ہے ۔ شعر نمبر 1 ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے