ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے نقش قدم

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا شعر نمبر 1 دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا مشکل الفاظ کے معانی: سبب: وجہ دل دھڑکنا: بے چین ہونا، بے قرار ہونا یاد آیا: سمجھ آیا، ذہن میں آیا مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ میرے دل کی بے قراری اور دھڑکن

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا شعر نمبر 1 تجاہل، تغافل، تساہل کیا ہوا کام مشکل، توکل کیا مشکل الفاظ کے معانی: تجاہل: جان بوجھ کر انجان بننا، دانستہ بے خبری۔ تغافل: غفلت برتنا، لاپرواہی، بے التفاتی۔ تساہل: سستی کرنا، دیر کرنا، غفلت کرنا۔ توکل: اللہ پر بھروسہ کرنا، معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ مفہوم:

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا(تشریح)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا شعر نمبر 1: دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا مشکل الفاظ کے معنی: اندوہ گیں: غم زدہ، دکھی۔ ہمدم: دوست، ساتھی۔ کہیں: یہاں مراد پاس یا ساتھ ہے۔ مفہوم: جب تک میں اس

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا ( غزل)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا رونے سے کام بس کہ شب اے ہم نشیں رہا  آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا نازُک مزاج تھا میں بہت اس چمن کے بیچ  جب

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا فیڈرل اور پنجاب بورڈ اردو جماعت نہم کی غزل کی تشریح ۔۔۔۔۔۔ شعر  نمبر 1 :  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم : کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے

ن م راشد

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1:  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم :  کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں  شعر نمبر 1 : سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مشکل الفاظ کے معانی: لالہ و گل = پھول، کلیاں، خوشبو دار پھول نمایاں = ظاہر ہونا، سامنے آنا پنہاں =