دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

یہ خواجہ حیدر علی آتش کی ایک شاہکار غزل ہے جو لکھنوی دبستانِ شاعری کی جمالیات اور تصوف کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح، معانی اور مفہوم درج ہیں۔
شعر نمبر 1
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
دہن: منہ۔
گماں: شک، وہم، خیال۔
درمیاں: بیچ میں۔
مفہوم:
محبوب کے منہ سے نکلنے والی باتوں کے بارے میں لوگ مختلف طرح کے شکوک و شبہات رکھتے ہیں اور گفتگو کے دوران طرح طرح کی باتیں سامنے آتی ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں آتش نے محبوب کی گفتگو اور اس کے لب و لہجے کی پراسراریت کو بیان کیا ہے۔ لکھنوی شاعری میں محبوب کے سراپے اور اس کی گفتگو پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ شاعر کہتا ہے کہ جب محبوب گفتگو کرتا ہے تو سننے والوں کے ذہنوں میں مختلف خیالات جنم لیتے ہیں۔ کوئی اس کی بات کو محبت پر محمول کرتا ہے تو کوئی اسے طنز سمجھتا ہے۔ محبوب کا دہن یعنی اس کا منہ اتنا چھوٹا اور نازک ہے (جو کہ ایک کلاسیکی صفت ہے) کہ اس کے ہونے یا نہ ہونے پر گماں ہوتا ہے۔ جب وہ کلام کرتا ہے تو الفاظ کی تراش خراش اور گفتگو کے انداز سے نت نئے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ عاشق حیران ہے کہ ایک ہی گفتگو سے کتنے پہلو نکل رہے ہیں۔ یہ انسانی نفسیات کی بھی عکاسی ہے کہ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کی ہر بات کو کریدتے ہیں اور اس کے ہر لفظ کے پیچھے چھپے ہوئے مقاصد ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آتش یہاں محبوب کی ادائے گفتگو اور اس کے اثرات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر رہے ہیں۔
بقول شاعر:
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے (غالب)
شعر نمبر 2
زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
گل کھلانا: انوکھی بات ہونا، پھول کھلنا۔
رنگ بدلنا: حالت تبدیل ہونا۔
مفہوم:
دنیا میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے ہیں اور حالات پلک جھپکتے میں بدل جاتے ہیں۔
تشریح:
یہ آتش کا سب سے مشہور اور ضرب المثل شعر ہے۔ اس میں کائنات کی بوقلمونی اور تغیر پذیری کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ دنیا ایک باغ کی مانند ہے جہاں ہر روز نئے گل کھلتے ہیں۔ یہاں “گل کھلانا” محاورتاً انوکھے واقعات کے ظہور کے لیے استعمال ہوا ہے۔ کائنات میں سکون نہیں ہے بلکہ ہر لمحہ تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ کبھی خوشی ہے تو کبھی غم، کبھی عروج ہے تو کبھی زوال۔ آسمان کے رنگ بدلنے سے مراد تقدیر کے فیصلے ہیں جو انسان کی سوچ سے بالا تر ہوتے ہیں۔ آج جو حالات ہیں، ضروری نہیں کہ کل بھی وہی رہیں۔ یہ شعر انسان کو صبر اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے کہ حالات کے بدلاؤ پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ فطرت کا اصول ہے۔ آتش نے فلسفہ تغیر کو اتنی سادگی اور سلاست سے بیان کیا ہے کہ یہ شعر اردو ادب کا حصہ بن گیا۔ دنیا کی بے ثباتی اور گردشِ ایام کا یہ نقشہ کھینچنا آتش کا کمال ہے۔
بقول شاعر:
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں (حیرت)
شعر نمبر 3
تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
گل و لالہ: مختلف سرخ پھول۔
ارغواں: ایک سرخ رنگ کا پھول۔
مفہوم:
اے محبوب! تمہاری محبت میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ قدرت کے خوبصورت پھول بھی قربان ہو کر تمہارے عشاق کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے حسن و عشق کی وسعت کو بیان کیا ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ محبوب کا حسن اتنا عالمگیر ہے کہ صرف انسان ہی اس کے اسیر نہیں بلکہ فطرت کے رنگین پھول بھی اس پر فدا ہیں۔ یہاں شاعر نے پھولوں کی سرخی کو خونِ عاشق سے تشبیہ دی ہے۔ گویا باغ میں کھلے ہوئے سرخ پھول دراصل وہ شہیدِ محبت ہیں جنہوں نے محبوب کے حسن کے صدقے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ “گل و لالہ و ارغواں” کا استعارہ خوبصورت اور جوان لوگوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے جو عشق کی راہ میں مٹ گئے۔ شاعر محبوب کی عظمت بیان کر رہا ہے کہ تیری گلی میں قربان ہونے والوں کی فہرست بہت طویل ہے اور اس میں ایک سے بڑھ کر ایک حسین انتخاب شامل ہے۔ یہ مضمون لکھنوی شعراء کا پسندیدہ رہا ہے جہاں وہ حسن کو کائناتی حقیقت بنا کر پیش کرتے تھے۔
بقول شاعر:
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر (غالب)
شعر نمبر 4
بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں
مریدان پیر مغاں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
مریدان: مرید کی جمع، پیروکار۔
پیر مغاں: شراب خانے کا مالک، مرشد۔
مفہوم:
فصلِ بہار کی آمد پر میخوار اور رند خوشی سے جھوم رہے ہیں اور اپنے مرشد کی عنایات کا جشن منا رہے ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں صوفیانہ اور رندانہ رنگ موجود ہے۔ “پیر مغاں” تصوف کی اصطلاح میں مرشدِ کامل کو کہتے ہیں اور “مرید” طالبِ حق کو۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بہار آتی ہے تو ہر طرف ہریالی اور تازگی ہوتی ہے، ایسے میں رند (عاشق) وجد کی کیفیت میں آ جاتے ہیں۔ بہار کا موسم عشق کی آگ کو مہمیز دیتا ہے۔ میخانے میں رونق بڑھ جاتی ہے اور پیرِ مغاں کے چاہنے والے اس کی دی ہوئی معرفت یا شرابِ محبت کے نشے میں چور ہو کر رقص کرنے لگتے ہیں۔ یہ نشہ دراصل زندگی کی لذت اور محبوب کے وصال کی خوشی کا استعارہ ہے۔ آتش کے ہاں نشاطیہ رنگ نمایاں ہے، وہ غم کے بجائے خوشی اور مستی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں وہ دکھا رہے ہیں کہ بہار کی آمد نے کس طرح عام لوگوں کو بھی خاص کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
بقول شاعر:
آئی بہار ساقی مے خانہ ہو گیا
پھر ہر گلستاں بادہ و پیمانہ ہو گیا (نامعلوم)
شعر نمبر 5
عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن
لٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
جامۂ تن: جسم کا لباس۔
لٹے: برباد ہوئے۔
مفہوم:
اگر روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے، اس دنیا کے راستے میں بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے قافلے لٹ گئے اور وہ فنا ہو گئے۔
تشریح:
آتش اس شعر میں موت کی حقیقت اور انسانی بے بسی کو بیان کر رہے ہیں۔ انسانی جسم کو ایک لباس (جامہ) قرار دیا گیا ہے جسے روح نے اوڑھ رکھا ہے۔ موت کے وقت یہ لباس اتر جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے اس سفر میں ہم اکیلے نہیں ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ ہم سے پہلے بڑے بڑے عظیم المرتبت لوگ، لشکر اور کارواں اس دنیا کے سفر میں مٹ گئے۔ زندگی کا راستہ پرخطر ہے جہاں موت ہر لمحہ گھات لگائے بیٹھی ہے۔ یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ جو پیدا ہوا ہے اسے فنا ہونا ہے۔ آتش کا انداز یہاں صوفیانہ ہے جو دنیا کی رنگینیوں کے پیچھے چھپی ہوئی فنا کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ انسان کو متنبہ کر رہے ہیں کہ اپنی ہستی پر ناز نہ کرو کیونکہ یہاں بڑے بڑے جاہ و جلال والے بھی خاک میں مل گئے۔
بقول شاعر:
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے (شوق لکھنوی)
شعر نمبر 6
تپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیں
جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
تپ ہجر: جدائی کا بخار۔
کاہشوں: گھلانے والی کیفیت، کمزوری۔
پوست: کھال۔
استخواں: ہڈیاں۔
مفہوم:
جدائی کی تپش اور دکھوں نے عاشقوں کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ ان کی ہڈیاں کھال سے الگ ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔
تشریح:
یہ شعر عشق میں دی گئی جسمانی اذیت کی تصویر کشی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ فراق اور جدائی کا دکھ ایک بخار کی طرح ہے جو انسان کو اندر سے جلا دیتا ہے۔ اس تپش نے عاشق کو اتنا نحیف و نزار کر دیا ہے کہ وہ گوشت پوست سے عاری ہو گیا ہے۔ لکھنوی شاعری میں مبالغہ آرائی ایک عام فن تھا، یہاں بھی آتش نے مبالغے سے کام لیتے ہوئے عاشق کی نقاہت کو بیان کیا ہے کہ ہڈیاں کھال چھوڑ رہی ہیں۔ یہ دراصل اس شدید ذہنی اور قلبی اذیت کا استعارہ ہے جو ایک عاشق اپنے محبوب سے دور رہ کر سہتا ہے۔ جدائی کی گھڑیاں انسان کو گھلا دیتی ہیں اور اسے ڈھانچہ بنا دیتی ہیں۔ آتش نے بہت دردناک طریقے سے ہجر کے اثرات کو لفظوں میں ڈھالا ہے۔
بقول شاعر:
گئی ہے اب تو جدائی میں یہ نحافتِ جسم
کہ ہو گیا ہے رگِ جاں کا تانا بانا ہم (مصحفی)
شعر نمبر 7
نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
بے درد قاتل: بے رحم محبوب۔
نیم جاں: آدھا مرا ہوا، جاں بہ لب۔
مفہوم:
محبوب کی بے رخی کا یہ عالم ہے کہ اس نے اپنی اداؤں سے ہمیں زخمی کر دیا اور پھر پلٹ کر دیکھا تک نہیں کہ ہم کس حال میں تڑپ رہے ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں محبوب کے تغافل اور بے نیازی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کو اکثر “قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ادائیں اور نگاہیں عاشق کے دل کو زخمی کرتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے اپنی بے رخی سے ہمیں ادھ موا (نیم جاں) کر دیا لیکن اسے ذرا بھی ترس نہ آیا۔ وہ اتنا بے درد ہے کہ اس نے ایک بار مڑ کر یہ بھی نہ دیکھا کہ اس کے پیچھے تڑپنے والوں کا کیا حال ہو رہا ہے۔ یہ عاشق کی مظلومیت اور محبوب کی سنگدلی کا تقابل ہے۔ عاشق کی تڑپ کی کوئی انتہا نہیں، مگر محبوب کی بے نیازی اس سے بھی زیادہ گہری ہے۔ یہ کلاسیکی غزل کا ایک روایتی مگر پر اثر مضمون ہے جسے آتش نے بہت صفائی سے بیان کیا ہے۔
بقول شاعر:
قتیلِ تیغِ جفا کا نہ حال بھی پوچھا
کمالِ مہر و مروت کا شکریہ پیارے (داغ)
شعر نمبر 8
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
گور: قبر۔
نامیوں: مشہور لوگ۔
مفہوم:
دنیا کے بڑے بڑے فاتحین جیسے سکندر اور دارا کے نشانات بھی مٹ گئے، یہاں نامور لوگ خاک میں مل کر گمنام ہو گئے۔
تشریح:
یہ شعر تاریخ کی عبرت کا مرقع ہے۔ سکندرِ اعظم اور دارا (ایرانی بادشاہ) اپنی طاقت اور وسیع سلطنتوں کے لیے مشہور تھے۔ لیکن موت نے انہیں بھی نہیں بخشا۔ آج نہ ان کی اصلی قبروں کا پتا ہے اور نہ ان کا وہ جاہ و جلال باقی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب اتنے بڑے بادشاہوں کا یہ حال ہوا تو عام انسان کی کیا حیثیت؟ وقت کی لہریں ہر نام و نشان کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جہاں شہرت اور طاقت سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ آتش یہاں انسان کو عاجزی کی تلقین کر رہے ہیں اور دنیا کی بے ثباتی کا درس دے رہے ہیں۔ یہ شعر اپنی معنویت کے لحاظ سے آفاقی ہے کیونکہ یہ ہر دور کے طاقتور انسان کو اس کے انجام کی یاد دلاتا ہے۔
بقول شاعر:
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے (حفیظ جالندھری)
شعر نمبر 9
بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
آمد آمد: آنے کی خبر۔
باغباں: مالی، باغ کی حفاظت کرنے والا۔
مفہوم:
باغ میں بہار آنے والی ہے اور اس خوشخبری سے مالی اور باغ کے رکھوالے بے حد خوش و خرم نظر آ رہے ہیں۔
تشریح:
آتش کی شاعری میں رجائیت (Optimism) کا رنگ نمایاں ہے۔ وہ ناامیدی کے قائل نہیں تھے۔ اس شعر میں وہ خوشی کے ایک ماحول کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔ بہار صرف پھولوں کے کھلنے کا نام نہیں بلکہ یہ امید کی علامت ہے۔ جب بہار آنے والی ہوتی ہے تو فضا میں ایک خاص قسم کی مہک اور چہل پہل پیدا ہو جاتی ہے۔ باغبانی کرنے والے، جنہوں نے خزاں کے دکھ جھیلے ہوتے ہیں، اب خوشی سے نہال ہیں کہ ان کی محنت رنگ لانے والی ہے۔ استعاراتی طور پر یہ شعر زندگی میں آنے والے اچھے دنوں کی نوید دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مشکل وقت (خزاں) گزرنے والا ہے اور اب خوشیوں کا دور شروع ہونے کو ہے۔
بقول شاعر:
آئی بہار باغ میں جوشِ خروش ہے
گل ہے ہنسی میں غرق تو بلبل خموش ہے (نامعلوم)
شعر نمبر 10
توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کئے ناتواں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
مسیحا: شفا دینے والا، محبوب۔
توانا: طاقتور۔
ناتواں: کمزور۔
مفہوم:
اے ہمارے چارہ گر! تمہاری ایک نظرِ التفات نے ہم جیسے کمزوروں اور بیماروں کو زندگی اور طاقت بخش دی ہے۔
تشریح:
محبوب کو “مسیحا” کہنا اردو شاعری کی ایک قدیم روایت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے، اسی رعایت سے محبوب کی توجہ کو زندگی بخش قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم عشق کے ہاتھوں لاغر اور ناتواں ہو چکے تھے، لیکن جیسے ہی محبوب نے ہماری طرف کرم کی نظر کی، ہمیں نئی زندگی مل گئی۔ محبوب کی توجہ میں وہ تاثیر ہے کہ وہ مرجھائے ہوئے دلوں کو تروتازہ کر دیتی ہے۔ یہ شعر محبوب کی قدر و منزلت اور اس کے اثرِ رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ آتش یہاں اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کی تمام تر توانائی اور زندگی کا راز محبوب کی عنایات میں پوشیدہ ہے۔
بقول شاعر:
ان کے دیکھے سے جو آتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے (غالب)
شعر نمبر 11
دل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہے
تمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
دیدہ: آنکھ۔
اہلِ عالم: دنیا والے۔
مفہوم:
اے محبوب! تمہاری رہائش کے لیے دنیا والوں کے دل اور ان کی آنکھیں موجود ہیں، تمہارے ٹھکانے تو بہت ہی عالی شان ہیں۔
تشریح:
شاعر محبوب کی عالمگیر مقبولیت کو بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تجھے کسی اینٹ پتھر کے مکان کی ضرورت نہیں، کیونکہ تو لوگوں کے دلوں میں بستا ہے اور ان کی آنکھوں کا نور ہے۔ ہر شخص تیرے حسن کا اسیر ہے اور اس نے تجھے اپنے وجود کے سب سے پاکیزہ حصے یعنی دل میں جگہ دے رکھی ہے۔ لکھنوی رنگ میں حسن کی ایسی تعریف عام تھی جہاں محبوب کو ایک آفاقی حقیقت بنا دیا جاتا ہے۔ یہ شعر اس بات کی بھی علامت ہے کہ سچی محبت کرنے والوں کے لیے محبوب کی یاد ہی ان کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مکانات محبوب کے اس مقام کے سامنے ہیچ ہیں جو اسے انسانی قلوب میں حاصل ہے۔
بقول شاعر:
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے (آتش)
شعر نمبر 12
غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
اندوہ: دکھ۔
حرماں: محرومی، ناامیدی۔
مفہوم:
غم، غصہ، دکھ اور محرومی جیسے جذبات میرے اوپر بہت مہربان ہیں، یعنی یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتے ہیں۔
تشریح:
یہ شعر آتش کے مخصوص طنزیہ اور عاشقانہ انداز کا حامل ہے۔ عام طور پر لوگ غم اور دکھ سے بھاگتے ہیں، لیکن شاعر یہاں کہتا ہے کہ یہ تمام منفی جذبات میرے سچے ساتھی بن چکے ہیں۔ اس نے ان دکھوں کو “مہربان” کہا ہے کیونکہ یہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ جب دنیا ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو یہ غم ہی ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں بس جاتے ہیں۔ یہاں ایک صوفیانہ رنگ بھی ہے کہ صوفی اپنے دکھوں سے پیار کرتا ہے کیونکہ یہی اسے خدا یا محبوب کی یاد دلاتے ہیں۔ آتش نے دکھوں کی ایک فہرست دی ہے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ ان کی زندگی کن کٹھن حالات سے گزر رہی ہے، مگر وہ انہیں بوجھ سمجھنے کے بجائے اپنا رفیقِ سفر مان رہے ہیں۔
بقول شاعر:
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں (غالب)
شعر نمبر 13
ترے کلک قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
کلکِ قدرت: قدرت کا قلم۔
خوش رو: خوبصورت چہرے والے۔
مفہوم:
میں خدا کی قدرت کے اس قلم پر قربان جاؤں جس نے اس کائنات میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت نوجوان اور حسین چہرے تخلیق کیے۔
تشریح:
یہ شعر براہِ راست خالقِ کائنات کی صناعی کی تعریف ہے۔ “کلکِ قدرت” سے مراد وہ قلم ہے جس سے تقدیر لکھی جاتی ہے اور کائنات کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ شاعر حیران ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس قدر حسن اس دنیا میں بکھیر دیا ہے۔ ہر طرف خوبصورتی اور رعنائی بکھری ہوئی ہے۔ آتش کا یہ شعر ان کی جمالیاتی حس کا عکاس ہے۔ وہ حسنِ فطرت اور حسنِ انسانی کو دیکھ کر خدا کی حمد و ثناء کر رہے ہیں۔ یہ لکھنوی دبستان کی خصوصیت تھی کہ وہ انسانی حسن کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔ یہاں شاعر کی آنکھیں اس حسن کو دیکھ کر فرطِ جذبات سے قربان ہونے کو تیار ہیں۔
بقول شاعر:
حسن تھا اس کا سراپا چشمِ بینا کے لیے
جو نظر آتی تھی شے وہ آئینہ تھی اس کے لیے (نامعلوم)
شعر نمبر 14
کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے
مشکل الفاظ کے معانی:
شکرِ نعمت: نعمت کا شکر ادا کرنا۔
مفہوم:
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں، خاص طور پر بولنے اور چکھنے کی قوت، اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے، کیونکہ یہ زبان طرح طرح کے لطف حاصل کرتی ہے۔
تشریح:
یہ غزل کا آخری شعر ہے جس میں شکر گزاری کا پہلو نمایاں ہے۔ زبان کے دو بڑے کام ہیں: ایک ذائقہ چکھنا اور دوسرا کلام کرنا۔ آتش کہتے ہیں کہ ہم اس زبان سے دنیا کی نعمتوں کے مزے بھی لیتے ہیں اور خوبصورت کلام (شاعری) بھی کرتے ہیں۔ یہ دونوں اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ خاص طور پر ایک شاعر کے لیے اس کی زبان اس کا سب سے بڑا ہتھیار اور نعمت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ آتش کا یہ مثبت انداز ان کی شخصیت کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ زندگی کی تلخیوں کے باوجود اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا نہیں بھولتے۔ یہ شعر پوری غزل کا ایک پرسکون اور شکر آمیز اختتام ہے۔
بقول شاعر:
تیرا شکر کیسے ادا کریں، تیری نعمتیں ہیں بے شمار
تری مہر و لطف کی انتہا، نہ کرم کا کوئی حساب ہے (نامعلوم)