پیام لطیف از پروفیسر آفاقی صدیقی

پیام لطیف از پروفیسر آفاقی صدیقی

یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام “پیامِ لطیف” کا اردو ترجمہ ہے جو پروفیسر آفاق صدیقی نے کیا ہے۔ ذیل میں ہر بند کے اشعار، معنی، مفہوم اور تفصیلی تشریح دی گئی ہے:

بند نمبر 1

اشعار:

اول نام اللہ کا اعلیٰ اور علیم

قادر اپنی قدرت سے قائم اور قدیم

واحد وحدہ رازق رب رحیم

بڑھ کر ہے ہم سے اس کی حمد حکیم

ہے سارے سنسار کا مالک وہی کریم

مشکل الفاظ کے معانی:

علیم: بہت زیادہ علم رکھنے والا، سب کچھ جاننے والا۔

قدیم: ہمیشہ سے رہنے والا، جس کی کوئی ابتدا نہ ہو۔

واحد وحدہ: اکیلا، یکتا، جس کا کوئی شریک نہ ہو۔

سنسار: دنیا، کائنات، عالم۔

حکیم: حکمت والا، دانا۔

مفہوم:

اس بند کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفاتِ کمالیہ کا بیان کرنا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا آغاز اللہ کے نام سے ہے جو قادرِ مطلق ہے اور پوری کائنات کا واحد پروردگار اور رازق ہے۔

تشریح:

شاہ عبداللطیف بھٹائی اپنے صوفیانہ کلام کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے بھی اللہ کی ذات موجود تھی اور جب سب کچھ فنا ہو جائے گا تب بھی وہی باقی رہے گا۔ وہ ‘علیم’ ہے، یعنی وہ ہمارے دلوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے اور کائنات کے ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے۔ اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے پیدا کرے اور جو چاہے فنا کر دے۔ وہ ‘قائم’ ہے یعنی اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں بلکہ پوری کائنات اس کے سہارے قائم ہے۔ وہ ‘قدیم’ ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کا وجود ازلی ہے اور اس پر وقت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ شاعر اللہ کی وحدانیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ‘واحد وحدہ’ ہے، اس کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ وہی ‘رازق’ ہے جو کیڑے مکوڑوں سے لے کر انسانوں تک ہر جاندار کو رزق پہنچاتا ہے۔ وہ ‘رب رحیم’ ہے، اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے اور وہ اپنے بندوں پر بے انتہا مہربان ہے۔ شاعر اعتراف کرتے ہیں کہ انسان چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے، وہ اللہ کی حمد و ثنا کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس کی حکمت انسانی عقل سے بالا تر ہے۔ کائنات کے ہر منظر میں اس کی حکمت نظر آتی ہے۔ وہ ‘کریم’ ہے جو بن مانگے بھی عطا کرتا ہے اور خطاکاروں کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے۔ یہ سارا سنسار اسی کا تخلیق کردہ ہے اور وہی اس کا حقیقی مالک ہے۔ اس لیے ہر کام کا آغاز اسی کے بابرکت نام سے ہونا چاہیے کیونکہ وہی حقیقی کامیابی کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اتنی وسیع ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں، بس ایک عاجز بندہ اس کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کر سکتا ہے۔

بند نمبر 2

اشعار:

اگر اللہ پر رکھتے ہو ایمان

رسولِ پاک سے بھی لو لگا لو

سمائے جس میں دونوں ہی کا سودا

کسی در پر نہ اس سر کو جھکاؤ

مشکل الفاظ کے معانی:

لو لگانا: گہری محبت کرنا، لو لگانا، دھیان جمانا۔

سودا: یہاں مراد عشق، سوداگری یا ایمان کا معاملہ ہے۔

در: چوکھٹ، دروازہ۔

مفہوم:

اس بند میں ایمان کی تکمیل کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اس کے رسول حضرت محمد ﷺ سے سچی محبت کرنا لازمی ہے، اور جب انسان کے دل میں یہ دونوں محبتیں سما جائیں تو اسے پھر کسی غیر کے آگے جھکنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

تشریح:

شاہ عبداللطیف بھٹائی اس بند میں عقیدہ توحید اور عشقِ رسول ﷺ کے گہرے تعلق کو واضح کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو، تو تمہارا یہ ایمان تب تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تم رسولِ پاک ﷺ کی محبت کو اپنے دل میں جگہ نہ دے لو۔ اللہ کی اطاعت کا راستہ رسول ﷺ کی اتباع سے ہو کر گزرتا ہے۔ ‘لو لگانا’ سے مراد یہ ہے کہ انسان کا اٹھنا بیٹھنا، جاگنا سونا اور زندگی کا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کے تابع ہو جائے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جس دل میں اللہ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کا عشق ایک ساتھ سما جائے، وہی دل حقیقی معنوں میں مومن کا دل ہے۔ ‘سودا’ کا لفظ یہاں بڑے گہرے معنی رکھتا ہے، یہ ایمان کا وہ سودا ہے جہاں انسان اپنی مرضی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی کے بدلے فروخت کر دیتا ہے۔ جب انسان کو یہ سچی معرفت حاصل ہو جاتی ہے، تو اس کے اندر سے غیر اللہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ وہ پھر دنیا کے جھوٹے معبودوں، جاہ و حشمت اور ظاہری طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ تمام طاقتوں کا سرچشمہ اللہ ہے اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ نبی کریم ﷺ ہیں۔ توحید کا تقاضا ہی یہ ہے کہ پیشانی صرف ایک اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو۔ کسی آستانے یا کسی دنیاوی طاقت کے سامنے جھکنا ایمان کی نفی ہے۔ شاہ صاحب پیغام دیتے ہیں کہ جس نے حق کو پہچان لیا، اس کی غیرتِ ایمانی اسے کسی اور کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے یا سر جھکانے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ ایمان انسان کو آزادی عطا کرتا ہے، اسے توہم پرستی اور غلامی کی زنجیروں سے نکال کر حقیقی بندگی کے مقام پر فائز کر دیتا ہے۔

بند نمبر 3

اشعار:

جنہوں نے دل سے اس کو یکتا مانا

محمدؐ کو بس اخلاق جانا

کہ کبھی بھٹکے نہ سیدھی راہ سے وہ

جنہیں حاصل ہوا سچا ٹھکانہ

مشکل الفاظ کے معانی:

یکتا: اکیلا، بے مثل۔

اخلاق: یہاں مراد خلقِ عظیم یا نمونہ عمل ہے۔

ٹھکانہ: منزل، مقصد، مقامِ سکون۔

مفہوم:

جو لوگ سچے دل سے اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور ان کے بلند اخلاق کو اپنی زندگی کا رہنما بناتے ہیں، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتے اور اپنی اصل منزل یعنی اللہ کی رضا پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

تشریح:

اس بند میں شاہ صاحب ان لوگوں کی کامیابی کا تذکرہ کر رہے ہیں جنہوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے صرف زبان سے نہیں بلکہ ‘دل سے’ اللہ کو اکیلا اور واحد تسلیم کر لیا، وہی اصل میں موحد ہیں۔ دل سے ماننے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا یقین ہر شک و شبہ سے بالاتر ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نبی کریم ﷺ کی ذات کو سراپا اخلاق تسلیم کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا خلقِ عظیم پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جنہوں نے آپ ﷺ کی سیرت کو اپنایا اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالا، وہی لوگ ہیں جو ہدایت کے راستے پر گامزن ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ زندگی کے کسی موڑ پر بھی بھٹکتے نہیں ہیں۔ دنیا میں بہت سے فتنے اور گمراہ کن راستے موجود ہیں، لیکن جن کا ایمان مضبوط ہو اور جن کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سنت کا روشن راستہ ہو، انہیں کوئی چیز گمراہ نہیں کر سکتی۔ ‘سیدھی راہ’ سے مراد صراطِ مستقیم ہے، جس پر چلنے والے انعام یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔ ‘سچا ٹھکانہ’ سے مراد وہ ابدی کامیابی اور روحانی سکون ہے جو صرف اللہ کے قرب سے حاصل ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کی عارضی آسائشوں میں نہیں الجھتے بلکہ ان کی نظر اپنی اصل منزل پر ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کا مقصد خالقِ حقیقی کی پہچان اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک اخلاق ہی وہ پیمانہ ہے جس سے انسان کی روحانی ترقی کو ناپا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے توحید کو دل میں بسایا اور اتباعِ رسول کو اپنا شیوہ بنایا، انہیں اللہ نے وہ مقام عطا کیا کہ وہ زمانے کے لیے خود ہدایت کا ذریعہ بن گئے۔

بند نمبر 4

اشعار:

جس کی فطرت میں ہو تن آسانی

جس کی آرام سے گزرتی ہے

کیا خبر اس کو خستہ حالی پر

بھی کتنے وار کرتی ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

تن آسانی: آرام طلبی، عیش و عشرت کی عادت۔

خستہ حالی: بدحالی، غریبی، پریشان حالی۔

وار کرنا: حملہ کرنا، ضرب لگانا، تکلیف دینا۔

مفہوم:

جو لوگ ہمیشہ عیش و آرام میں رہتے ہیں اور جن کی زندگی میں کوئی تکلیف نہیں آئی، وہ ان لوگوں کے دکھوں اور مصیبتوں کا اندازہ کبھی نہیں کر سکتے جو غربت اور بدحالی کی وجہ سے قدم قدم پر مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

تشریح:

اس بند میں شاہ عبداللطیف بھٹائی نے انسانی نفسیات اور معاشرتی تضاد کی ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی فطرت میں ‘تن آسانی’ شامل ہو چکی ہے، یعنی جو پیدا ہی عیش و عشرت میں ہوئے اور جنہیں کبھی زندگی کی تلخیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا، وہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جس انسان کی زندگی بغیر کسی مشقت کے آرام و سکون سے گزر رہی ہو، اسے کیا معلوم کہ بھوک کیا ہوتی ہے یا بے گھری کی تکلیف کیا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ ‘خستہ حالی’ یعنی غربت اور بدحالی انسان پر کس طرح وار کرتی ہے۔ غریب انسان کی زندگی میں ہر نیا دن ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ اسے نہ صرف اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے لڑنا پڑتا ہے بلکہ معاشرے کے تلخ رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدحالی کے یہ وار انسان کی ہمت توڑ دیتے ہیں۔ لیکن امیر اور آسودہ حال شخص ان تکلیفوں سے بے خبر اپنی رنگین دنیا میں مست رہتا ہے۔ اس کے پاس وہ دل ہی نہیں ہوتا جو کسی کے دکھ پر تڑپ اٹھے۔ شاہ صاحب یہاں دراصل ہمدردی اور انسانیت کا درس دے رہے ہیں۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ حقیقی انسان وہی ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے۔ صرف اپنی ذات تک محدود رہنا اور عیش و عشرت میں مگن رہنا انسانیت نہیں ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو حالات کی چکی میں پس رہے ہیں، جن کی زندگی مسلسل جدوجہد اور تکالیف سے عبارت ہے۔ ان کی خستہ حالی انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دیتی ہے۔ شاعر تنبیہ کرتے ہیں کہ اے آرام پسند انسان! اپنی آسائشوں کے حصار سے باہر نکل کر دیکھ کہ تیرے آس پاس کتنے لوگ حالات کے وار سہہ رہے ہیں۔ یہ کلام ہمیں حساس بننے اور دوسروں کے کام آنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Leave a Reply