دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

مرزا غالب کی یہ غزل اردو ادب کے شاہکار پاروں میں سے ایک ہے۔ اس میں انسانی جذبات، فلسفہِ زندگی اور عشق کے نازک پہلوؤں کو جس مہارت سے بیان کیا گیا ہے، وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔

ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی مفصل تشریح، معانی اور مفہوم درج ہیں۔

شعر نمبر 1

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

سنگ و خشت: پتھر اور اینٹ۔

درد سے بھر آنا: غمگین ہونا، متاثر ہونا۔

مفہوم:

انسان کا دل گوشت پوست کا بنا ہے، یہ اینٹ پتھر نہیں ہے کہ اسے تکلیف نہ ہو۔ اس لیے اگر ہمیں دکھ پہنچے گا تو ہم ضرور روئیں گے، کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں۔

تشریح:

غالب اس شعر میں انسانی جبلت اور جذبات کی وکالت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کوئی بے جان چیز یا جمادات (پتھر یا اینٹ) کا ٹکڑا نہیں ہے جو حالات کی سختیوں اور حوادثِ زمانہ سے متاثر نہ ہو۔ دل تو احساس کا مرکز ہے، اور جب اس پر غم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں یا محبوب کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس کا بوجھل ہونا اور تڑپنا ایک قدرتی عمل ہے۔ غالب معاشرے کے ان رویوں پر طنز کر رہے ہیں جو عاشق کو رونے یا آہ و زاری کرنے سے روکتے ہیں۔ وہ بڑے واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنی محرومیوں اور دکھوں پر زار و قطار روتے ہیں تو یہ ہمارا حق ہے، کیونکہ ہم صاحبِ دل ہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمارے رونے پر اعتراض کرے یا ہمیں ملامت کرے۔ انسانی فطرت ہے کہ جب اسے دکھ پہنچتا ہے تو وہ آنسوؤں کے ذریعے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔ غالب یہاں خود کو ایک حساس انسان کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو پتھر بن کر زندگی گزارنے کے قائل نہیں۔ یہ شعر دراصل انسانی ہمدردی اور جذبات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ دکھ میں آنسو بہانا کمزوری نہیں بلکہ زندہ دل ہونے کی علامت ہے۔

بقولِ شاعر:

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے

دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے

شعر نمبر 2

دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں

بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

دیر: مندر۔

حرم: کعبہ/مسجد۔

آستاں: چوکھٹ/درگاہ۔

رہ گزر: راستہ۔

مفہوم:

ہم کسی مقدس جگہ یا کسی کی نجی ملکیت میں نہیں بیٹھے بلکہ عام راستے پر ہیں، تو پھر غیروں کو کیا تکلیف ہے کہ وہ ہمیں یہاں سے اٹھائیں۔

تشریح:

اس شعر میں غالب کی خودداری اور کج کلاہی نمایاں ہے۔ عاشق محبوب کی گلی میں یا اس کے قریب کسی راستے پر بیٹھا ہے اور لوگ اسے وہاں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ غالب دلیل دیتے ہیں کہ ہم نے کسی کی مخصوص جگہ پر قبضہ نہیں کیا۔ نہ ہم مندر میں بیٹھے ہیں، نہ مسجد میں، اور نہ ہی کسی کے آستانے یا چوکھٹ پر جا کر سوالی بنے ہیں۔ ہم تو ایک عام گزرگاہ پر بیٹھے ہیں جو سب کے لیے ہے، لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمیں وہاں سے زبردستی اٹھائے۔ دراصل یہاں “غیر” سے مراد رقیب یا وہ لوگ ہیں جو عاشق کے حال پر تنقید کرتے ہیں۔ غالب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میری موجودگی سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، میں تو اپنی دھن میں ایک گوشے میں پڑا ہوں، پھر یہ دنیا والے کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟ یہ شعر سماجی پابندیوں اور بلاوجہ کی مداخلت کے خلاف ایک احتجاج ہے۔ غالب اپنی بے گھری اور بے سروسامانی کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ جب ہمارا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا اور ہم راستوں پر آ گئے ہیں، تو اب ہمیں یہاں تو سکون سے بیٹھنے دیا جائے۔

بقولِ شاعر:

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

شعر نمبر 3

جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروز

آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

جمالِ دلفروز: دل کو روشن کرنے والا حسن۔

مہرِ نیمروز: دوپہر کا سورج۔

نظارہ سوز: نظروں کو خیرہ کر دینے والا۔

مفہوم:

جب تمہارا حسن دوپہر کے سورج کی طرح روشن اور نمایاں ہے اور خود ہی نظروں کو متاثر کرتا ہے، تو پھر پردے میں چھپنے کی کیا ضرورت ہے؟

تشریح:

یہ شعر غالب کے فلسفہِ حسن و عشق کا عکاس ہے۔ وہ محبوب کے حسن کو “مہرِ نیمروز” یعنی تپتے ہوئے دوپہر کے سورج سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ سورج کی روشنی کبھی چھپائے نہیں چھپتی، اس کی تپش اور چمک دور سے ہی محسوس ہو جاتی ہے۔ غالب سوال کرتے ہیں کہ جب تمہارا حسن اتنا عالمگیر اور تابناک ہے کہ وہ پردوں کو چیر کر اپنی جھلک دکھا دیتا ہے، تو پھر یہ تکلف کیوں؟ پردہ نشینی کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں حسن میں کوئی کمی ہو یا اسے چھپایا جا سکے، لیکن جو حسن کائنات پر محیط ہو، اسے چھپانا ممکن ہی نہیں۔ یہاں ایک صوفیانہ رنگ بھی جھلکتا ہے کہ باری تعالیٰ کا نور پوری کائنات میں بکھرا ہوا ہے، وہ ہر شے سے ظاہر ہے، پھر بھی انسان اسے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ غالب محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تیرا وجود خود اپنی گواہی دے رہا ہے، تیری تجلی نظروں کو خیرہ کر رہی ہے، اس لیے یہ پردہ محض ایک رسمی حجاب ہے جس کا کوئی منطقی جواز نہیں بنتا۔

بقولِ شاعر:

عیاں ہے نورِ حق جلوہ گر ہے ہر شے سے

نظر ہو جس کی حقیقت شناس کیا کہنا

شعر نمبر 4

دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہ

تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

دشنہ: خنجر۔

غمزہ: اشارہ/ادا۔

جاں ستاں: جان لینے والا۔

ناوک: چھوٹا تیر۔

مفہوم:

تمہاری ادائیں اور ناز تیر و خنجر کی طرح جان لیوا ہیں، اگرچہ آئینہ تمہارے رخ کا عکس ہی ہے، لیکن وہ بھی تمہارے سامنے آنے کی تاب نہیں رکھتا۔

تشریح:

اس شعر میں غالب محبوب کے حسن کی تیزی اور اس کے انداز و ادا کی کاٹ کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کی ایک جنبشِ ابرو یا ایک ادائے ناز کسی زہریلے خنجر یا تیر سے کم نہیں جو سیدھا دل میں ترازو ہوتا ہے۔ محبوب کا حسن اتنا ہیبت ناک اور جاہ و جلال والا ہے کہ کوئی اس کا سامنا نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ آئینہ، جس کا کام ہی عکس دکھانا ہے، جب محبوب کے سامنے آتا ہے تو وہ بھی لرز جاتا ہے۔ غالب یہاں ایک باریک نکتہ پیدا کر رہے ہیں کہ اگرچہ آئینہ محبوب کا اپنا ہی عکس پیش کرتا ہے، لیکن وہ عکس بھی اصل کی تابناکی اور جلال کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ گویا محبوب کا حسن اتنا بے پناہ ہے کہ اس کا سایہ یا عکس بھی اس کے سامنے آنے سے کتراتا ہے۔ یہ مبالغہ آرائی غالب کی شاعری کا خاص انداز ہے جس کے ذریعے وہ محبوب کی برتری اور اس کے حسن کی بے پناہ طاقت کو واضح کرتے ہیں۔

بقولِ شاعر:

وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا تھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

شعر نمبر 5

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

قیدِ حیات: زندگی کی قید۔

بندِ غم: غم کی زنجیر۔

نجات: چھٹکارا۔

مفہوم:

زندگی اور غم ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ جب تک زندگی ہے، غم ساتھ رہے گا، اس لیے موت سے پہلے غم سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

تشریح:

یہ غالب کے کلام کے مشہور ترین فلسفیانہ اشعار میں سے ایک ہے۔ غالب یہاں زندگی کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غم زندگی کا جزوِ لاینفک ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ دکھوں اور آلام کے ایک سلسلے میں بندھ جاتا ہے۔ جسے ہم زندگی کہتے ہیں، وہ دراصل مصائب کی ایک طویل زنجیر ہے۔ غالب کے نزدیک زندگی بذاتِ خود ایک قید ہے اور غم اس قید کی دیواریں ہیں۔ جس طرح ایک قیدی جب تک جیل میں ہے، وہ آزادی کا تصور نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک زندہ انسان جب تک سانس لے رہا ہے، وہ غم سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ لوگ اکثر غموں سے نجات کی دعائیں مانگتے ہیں، لیکن غالب انہیں بتاتے ہیں کہ یہ کوشش فضول ہے، کیونکہ غم کا خاتمہ صرف اور صرف زندگی کے خاتمے یعنی موت سے ہی ممکن ہے۔ یہ یاسیت پسندانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے جو زندگی کی تلخیوں کو تسلیم کرنے کا درس دیتا ہے۔

بقولِ شاعر:

نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے

بے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن

شعر نمبر 6

حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم

اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

حسنِ ظن: اچھا گمان۔

بوالہوس: لالچی/ہوس پرست۔

آزمائے: امتحان لے۔

مفہوم:

محبوب کو اپنے حسن پر ناز ہے اور وہ دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے، اسی وجہ سے ہوس پرستوں کی لاج رہ گئی، ورنہ محبوب کو کسی کے امتحان کی ضرورت نہیں۔

تشریح:

اس شعر میں غالب محبوب کی سادگی اور ہوس پرستوں کی مکاری کا تقابل کر رہے ہیں۔ محبوب اتنا معصوم اور اپنے حسن میں مگن ہے کہ وہ ہر آنے والے کو سچا عاشق سمجھ لیتا ہے (حسنِ ظن)۔ اس کی اسی سادگی کی وجہ سے وہ لوگ بھی بچ جاتے ہیں جو دل میں عشق نہیں بلکہ ہوس رکھتے ہیں۔ اگر محبوب ذرا بھی سمجھدار ہوتا یا لوگوں کو پرکھنے کی کوشش کرتا تو ان “بوالہوس” لوگوں کی قلعی کھل جاتی اور وہ شرمندہ ہو جاتے۔ لیکن محبوب کو اپنی ذات پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ کسی کو آزمانے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو بھی اس کے پاس آ رہا ہے وہ اس کے حسن کا اسیر ہے۔ غالب یہاں رقیبوں پر طنز کر رہے ہیں کہ تم لوگ محبوب کی اس بے خبری اور حسنِ ظن کی وجہ سے بچے ہوئے ہو، ورنہ تمہاری اوقات کچھ بھی نہیں۔

بقولِ شاعر:

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

شعر نمبر 7

واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع

راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

عز و ناز: عزت اور فخر۔

حجابِ پاسِ وضع: رکھ رکھاؤ کا پردہ/شرم۔

بزم: محفل۔

مفہوم:

وہاں محبوب کی اپنی شان اور غرور ہے، اور یہاں ہماری اپنی انا اور رکھ رکھاؤ ہے، تو پھر ملاقات کیسے ہو؟ نہ وہ ہمیں محفل میں بلاتا ہے، نہ ہم اسے راستے میں مل سکتے ہیں۔

تشریح:

یہ شعر دو متضاد رویوں کی عکاسی کرتا ہے جن کی وجہ سے عاشق اور محبوب کے درمیان دوری قائم ہے۔ ایک طرف محبوب ہے جو اپنی خوبصورتی، رتبے اور جاہ و جلال کے غرور میں مبتلا ہے، وہ کسی کے سامنے جھکنا یا کسی کو اہمیت دینا اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔ دوسری طرف غالب (عاشق) ہیں جو اگرچہ عشق میں مبتلا ہیں، لیکن اپنی خودداری اور سماجی رکھ رکھاؤ (پاسِ وضع) کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وہ اتنے گرے ہوئے نہیں ہیں کہ راستوں میں محبوب کا پیچھا کریں یا اس کی منتیں کریں۔ اس “انا” اور “عزتِ نفس” کے ٹکراؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملاقات کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ محبوب اسے محفل میں بلانے کی زحمت نہیں کرتا کیونکہ اسے اپنے غرور کی فکر ہے، اور غالب راستے میں اس سے ملنے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی وضع داری عزیز ہے۔ یہ شعر انسانی نفسیات کے اس پہلو کو بیان کرتا ہے جہاں محبت کے باوجود “انا” دیوار بن جاتی ہے۔

بقولِ شاعر:

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے

غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی

شعر نمبر 8

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی

جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

خدا پرست: اللہ کو ماننے والا/نیک۔

دین و دل عزیز: مذہب اور سکونِ قلب پیارا ہونا۔

مفہوم:

ٹھیک ہے، میں مانتا ہوں کہ وہ بے وفا ہے اور اس کا کوئی دین نہیں، لیکن جسے اپنی عاقبت اور دل کی سلامتی عزیز ہو، وہ اس کے پاس جائے ہی کیوں؟

تشریح:

غالب اس شعر میں ناصحوں اور معترضین کو لاجواب کر رہے ہیں۔ جب لوگ غالب کو طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارا محبوب تو بے وفا ہے، وہ سنگدل ہے، وہ تو خدا سے بھی نہیں ڈرتا، تو غالب ان کی بات تسلیم کر لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہاں! میں مانتا ہوں کہ اس میں یہ تمام برائیاں موجود ہیں، لیکن میرا سوال ان لوگوں سے ہے جو یہ باتیں کر رہے ہیں۔ اگر وہ اتنا ہی برا ہے تو تم اس کے کوچے کا رخ ہی کیوں کرتے ہو؟ اصل میں غالب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عشق میں محبوب کی برائیاں نہیں دیکھی جاتیں۔ اگر کوئی شخص اپنے دین اور دل کی سلامتی چاہتا ہے تو اسے عشق کے راستے پر قدم ہی نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ عشق تو نام ہی بربادی اور بے وفائی سہنے کا ہے۔ یہ شعر ایک طرح کا چیلنج ہے کہ جو لوگ عشق کی تلخیوں کا گلہ کرتے ہیں، وہ دراصل اس مقامِ عشق سے ناواقف ہیں۔

بقولِ شاعر:

بندگی میں بھی وہ آزاد و خود بیں ہیں کہ ہم

الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا

شعر نمبر 9

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں

مشکل الفاظ کے معانی:

غالبِ خستہ: تھکا ہوا یا رنجیدہ غالب۔

زار زار: بہت زیادہ (رونا)۔

مفہوم:

اگر غالب (میں) مر بھی جاؤں یا نہ رہوں، تو دنیا کا کوئی کام نہیں رکے گا۔ اس لیے میری حالت پر رونے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں غالب نے انتہا درجے کی انکساری اور قلندرانہ بے نیازی کا اظہار کیا ہے۔ وہ اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وسیع و عریض کائنات میں میری کیا حیثیت ہے؟ میں ایک معمولی اور رنجیدہ حال انسان ہوں، اگر میں اس دنیا سے چلا بھی گیا تو نظامِ ہستی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ سورج اسی طرح نکلے گا، محفلیں اسی طرح سجیں گی اور زندگی رواں دواں رہے گی۔ غالب یہاں موت کی حقیقت اور انسانی وجود کی بے ثباتی پر طنز کر رہے ہیں۔ وہ خود کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اے غالب! اپنی محرومیوں پر اتنا گریہ و زاری کرنے اور “ہائے ہائے” کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تم نہ ہو گے تو کوئی اور ہو گا، دنیا کا میلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ شعر غالب کی اس عظمت کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ اپنی ذات کے غم کو کائنات کے تناظر میں دیکھ کر چھوٹا کر دیتے ہیں۔

بقولِ شاعر:

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

Leave a Reply