اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

 حسرت موہانی کی خوبصورت غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم۔ حسرت موہانی اردو شاعری میں “رئیس المتغزلین” کے لقب سے جانے جاتے ہیں، جن کی شاعری میں عشق کی پاکیزگی اور سیاست کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔

شعر نمبر 1

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

گھبرا گئے ہیں بے دلیِ ہم رہاں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

شوق: لگن، تڑپ، جذبہ۔

بے دلی: افسردگی، جوش و خروش کا نہ ہونا۔

ہم رہاں: ساتھ چلنے والے، ساتھی۔

مفہوم:

شاعر کہتا ہے کہ جو تڑپ اور سچا جذبہ میرے دل میں ہے، وہ میں دوسروں میں کہاں سے پیدا کروں؟ میں اپنے ساتھیوں کی بے حسی اور سرد مہری سے تنگ آ گیا ہوں۔

تشریح:

اس شعر میں حسرت موہانی اپنے گردوپیش کے لوگوں کے رویوں کا شکوہ کر رہے ہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی مقصد یا عشق کی راہ پر نکلتا ہے تو اسے ایسے ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اسی کی طرح پرجوش ہوں۔ لیکن حسرت یہاں تنہائی محسوس کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا عشق اور میرا مقصد اتنا بلند ہے کہ اس کے لیے جس تڑپ کی ضرورت ہے، وہ مجھے اپنے ساتھیوں میں نظر نہیں آتی۔ میرے ساتھ چلنے والے لوگ تو ہیں، لیکن ان کے دلوں میں وہ آگ نہیں جو میرے سینے میں جل رہی ہے۔ یہ “بے دلی” دراصل مقصد سے دوری کی علامت ہے۔ شاعر کو لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے قافلے کا حصہ ہے جو منزل کی طرف تو بڑھ رہا ہے لیکن ان میں وہ ولولہ نہیں جو تھکن کو مٹا دے۔ جب ہم سفر سست اور بے جان ہوں تو مسافر کا اپنا حوصلہ بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہ شعر نہ صرف مجازی عشق پر صادق آتا ہے بلکہ حسرت کی سیاسی زندگی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ تحریکِ آزادی میں اپنے ساتھیوں سے اسی درجے کی قربانی اور تڑپ کی توقع رکھتے تھے جو ان کا اپنا خاصہ تھی۔ دوسروں کے دلوں میں اپنا سا جوش پیدا کرنا ناممکن ہے، اس لیے وہ ایک گہری اداسی اور گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

بقول شاعر:

ہر ایک قدم پہ ٹھٹکنا یہ کس لیے حسرت

اب آ گئے ہیں بہت دور کارواں سے ہم

شعر نمبر 2

کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزلِ مراد

لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

منزلِ مراد: وہ منزل جس کی آرزو ہو۔

چھوٹ چلیں: الگ ہو جائیں، پیچھے چھوڑ دیں۔

کارواں: قافلہ۔

مفہوم:

ہماری منزل ہم سے زیادہ دور نہیں ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ہمیں اس سست رفتار قافلے کا ساتھ چھوڑ کر تنہا آگے بڑھنا ہوگا۔

تشریح:

اس شعر میں حسرت ایک بہت بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ بعض اوقات اجتماعی جدوجہد میں گروہ کی سستی انفرادی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ شاعر کو اپنی منزل صاف نظر آ رہی ہے، وہ جانتا ہے کہ کامیابی بس چند قدم کے فاصلے پر ہے، لیکن اس کے پاؤں میں کارواں کی سست روی کی زنجیریں ہیں۔ یہاں “کارواں” سے مراد وہ معاشرہ یا وہ ساتھی ہیں جو تبدیلی یا عشق کی انتہا سے ڈرتے ہیں۔ حسرت کا پیغام یہ ہے کہ اگر انسان میں ہمت ہو تو وہ روایات اور سست لوگوں کا ساتھ چھوڑ کر اپنی منزل خود پا سکتا ہے۔ یہ شعر خود اعتمادی اور انفرادیت کا درس دیتا ہے۔ سیاسی تناظر میں دیکھیں تو یہ ان لوگوں پر چوٹ ہے جو مصلحت پسندی کی وجہ سے آزادی کی منزل کو دور سمجھتے تھے۔ شاعر کے نزدیک منزل تک پہنچنے کے لیے ہجوم کی ضرورت نہیں بلکہ سچی لگن اور تنہا چلنے کا حوصلہ چاہیے۔ جب تک انسان دوسروں کے سہارے اور دوسروں کی رفتار کے مطابق چلتا رہے گا، وہ کبھی بھی وقت پر منزلِ مراد تک نہیں پہنچ سکے گا۔ لہٰذا، کامیابی کی قیمت تنہائی بھی ہو سکتی ہے جسے قبول کرنا ضروری ہے۔

بقول شاعر:

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

شعر نمبر 3

اے یادِ یار دیکھ کہ باوصفِ رنجِ ہجر

مسرور ہیں تری خلشِ ناتواں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

باوصف: کے باوجود۔

رنجِ ہجر: جدائی کا دکھ۔

مسرور: خوش۔

خلشِ ناتواں: ہلکی سی چبھن۔

مفہوم:

اے محبوب کی یاد! دیکھ کہ جدائی کے اس غم کے باوجود میں تیری اس ہلکی سی چبھن سے خوش ہوں اور سکون پاتا ہوں۔

تشریح:

اردو غزل کی روایت میں غمِ عشق کو ایک نعمت سمجھا جاتا ہے، اور حسرت اس شعر میں اسی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ محبوب مجھ سے دور ہے اور ہجر کی تکلیف بہت زیادہ ہے، لیکن اس کی یاد کا میرے دل میں موجود ہونا ہی میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ یہ “خلشِ ناتواں” یعنی یاد کی وہ ہلکی سی چبھن جو دل میں مسلسل محسوس ہوتی رہتی ہے، شاعر کے لیے زندگی کا سرمایہ ہے۔ عاشق کبھی نہیں چاہتا کہ وہ اپنے محبوب کو مکمل طور پر بھول جائے، چاہے وہ اسے مل سکے یا نہ مل سکے۔ جدائی کا رنج اپنی جگہ سچ ہے، لیکن اس رنج کے اندر جو میٹھا درد چھپا ہے، وہی عاشق کو زندہ رکھتا ہے۔ حسرت یہاں دکھ کو خوشی میں بدلنے کا فن جانتے ہیں۔ وہ یادِ یار کو مخاطب کر کے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ تو مجھے جتنا بھی تڑپا لے، میں اس تڑپ سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ یہ عشق کی وہ معراج ہے جہاں تکلیف اور راحت کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یاد کی یہ چبھن اس بات کی گواہی ہے کہ عشق اب بھی زندہ ہے، اور جب تک یہ خلش موجود ہے، عاشق خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔

بقول شاعر:

لذتِ سوزِ جگر پوچھ نہ مانی ہم سے

ایک میٹھا سا کسک دل میں ہوا کرتی ہے

شعر نمبر 4

معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا

اب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

مدعا: مقصد، مطلب، دل کی بات۔

زباں سے: لفظوں میں بیان کرنا۔

مفہوم:

آپ کو سب کچھ معلوم ہے کہ میرے دل میں کیا ہے، پھر بھی آپ پوچھ رہے ہیں؟ اب ہم زبان سے کیا کہیں جو آپ کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں ہے۔

تشریح:

یہ شعر محبوب کی تغافلانہ ادا اور عاشق کی بے بسی کی خوبصورت تصویر ہے۔ حسرت کہتے ہیں کہ عشق میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب لفظ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ عاشق کی آنکھیں، اس کا چہرہ اور اس کی حالت پکار پکار کر اس کا مدعا بیان کر رہی ہوتی ہے۔ محبوب سب جاننے کے باوجود جب انجان بن کر پوچھتا ہے کہ “تمہاری خواہش کیا ہے؟” تو یہ ایک طرح کا امتحان ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ کا یہ سوال کرنا کہ میرا مقصد کیا ہے، محض ایک بہانہ ہے۔ آپ بخوبی واقف ہیں کہ میں آپ کا طالب ہوں اور آپ کی رضا چاہتا ہوں۔ ایسی صورتحال میں زبان سے کچھ کہنا بے معنی معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو بات دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے وہ لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ محبوب کی “جان بوجھ کر انجان بننے” کی ادا پر ایک لطیف سا طنز بھی ہے اور اپنی سچائی کا اظہار بھی۔ حسرت یہاں خاموشی کو بیان کا بہترین ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جہاں نگاہیں گفتگو کرتی ہیں اور دل دل سے بات کرتا ہے۔

بقول شاعر:

ان کا جو کام ہے وہ جفا ہی کریں گے اب

اپنا جو کام ہے وہ دعا ہی کریں گے ہم

شعر نمبر 5

اے زہدِ خشک تیری ہدایت کے واسطے

سوغاتِ عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

زہدِ خشک: بے لذت عبادت، خشک پرہیزگاری۔

ہدایت: رہنمائی۔

سوغاتِ عشق: محبت کا تحفہ۔

کوئے بتاں: محبوب کی گلی۔

مفہوم:

اے خشک زاہد! تیری اصلاح کے لیے ہم محبوب کی گلی سے عشق کا ایک خوبصورت تحفہ لائے ہیں تاکہ تجھے محبت کی حقیقت سمجھ آ سکے۔

تشریح:

اس شعر میں حسرت موہانی نے روایتی “زاہد” (عبادت گزار) کو نشانے پر لیا ہے جو صرف ظاہری عبادات پر زور دیتا ہے اور دل کی تڑپ یعنی عشق سے ناواقف ہے۔ حسرت کے نزدیک وہ زہد جو عشق سے خالی ہو، “خشک” ہے اور اس میں کوئی روحانی لذت نہیں۔ وہ زاہد کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تو جو ہمیں ہدایت دینے کی کوشش کرتا ہے، اصل میں تجھے خود ہدایت کی ضرورت ہے۔ اور وہ ہدایت تجھے کسی کتاب سے نہیں بلکہ “کوئے بتاں” (محبوب کی گلی) سے ملے گی۔ ہم وہاں سے عشق کا جو تحفہ لائے ہیں، وہ تیرے دل کی خشکی کو ختم کر دے گا۔ صوفیانہ رنگ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی معرفت عشقِ الٰہی کے بغیر ناممکن ہے۔ ظاہری نماز روزے اپنی جگہ، لیکن جب تک دل میں تڑپ اور محبت نہ ہو، انسان خدا کے قریب نہیں ہو سکتا۔ حسرت نے یہاں مجازی عشق کو حقیقی عشق کا زینہ بنا کر پیش کیا ہے اور زاہد کی بے حسی پر بھرپور چوٹ کی ہے۔

بقول شاعر:

عشق کی گرمی سے ہے معرکہِ کائنات

علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب

شعر نمبر 6

بیتابیوں سے چھپ نہ سکا حالِ آرزو

آخر بچے نہ اس نگہِ بدگماں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

بیتابیوں: بے چینی، تڑپ۔

حالِ آرزو: دل کی تمنا کی کیفیت۔

نگہِ بدگماں: شک کرنے والی نظر۔

مفہوم:

میری بے چینی نے میرے دل کا راز فاش کر دیا، اور آخر کار میں محبوب کی اس مشکوک نظروں سے بچ نہ سکا جس نے میرا حال پہچان لیا۔

تشریح:

عشق میں لاکھ کوشش کے باوجود راز چھپائے نہیں چھپتا۔ حسرت کہتے ہیں کہ میں نے بہت چاہا کہ میرا حالِ دل محبوب پر ظاہر نہ ہو اور میں ضبط سے کام لوں، لیکن میرے اندر کی بے چینی اور اضطراب نے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ عاشق کی بے قراری اس کے چہرے سے عیاں ہو جاتی ہے۔ محبوب، جو پہلے ہی عاشق کی حرکات و سکنات پر شک کر رہا تھا، اس کی “نگہِ بدگماں” نے فوراً بھانپ لیا کہ ماجرا کیا ہے۔ یہاں “بدگمان” کا لفظ محبوب کی اس صفت کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ عاشق کی ہر ادا کو بغور دیکھتا ہے تاکہ اس کی نیت جان سکے۔ شاعر اعتراف کرتا ہے کہ وہ اس امتحان میں ہار گیا اور اس کی خاموشی کے پردے چاک ہو گئے۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ جب جذبات کا سیلاب حد سے گزر جائے تو وہ کسی نہ کسی صورت باہر آ ہی جاتا ہے، اور حسرت کی بیتابی نے ان کے چھپے ہوئے عشق کو سب کے سامنے، خصوصاً محبوب کے سامنے، آشکار کر دیا۔

بقول شاعر:

ضبط اپنا شعار تھا لیکن

دیکھ کر تم کو بے قرار ہوئے

شعر نمبر 7

پیرانہ سر بھی شوق کی ہمت بلند ہے

خواہانِ کامِ جاں ہیں جو اس نوجواں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

پیرانہ سر: بڑھاپے میں، بوڑھے ہونے کے باوجود۔

شوق: جذبہ، عشق۔

خواہان: چاہنے والے، طلب گار۔

کامِ جاں: زندگی کا مقصد، دل کی مراد۔

مفہوم:

بڑھاپے کے باوجود میرے عشق کا جذبہ اور ہمت جوان ہے۔ میں آج بھی اس نو عمر محبوب سے اپنی زندگی کی خوشیاں اور مرادیں پانے کا خواہش مند ہوں۔

تشریح:

یہ شعر حسرت کی زندہ دلی اور ان کی شخصیت کے عزم و حوصلے کا آئینہ دار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جسم تو بوڑھا ہو سکتا ہے لیکن روح کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔ “پیرانہ سر” یعنی سفید بالوں کے ساتھ بھی میرے شوق کی بلند پروازی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شاعر کا محبوب جوان ہے اور وہ خود زندگی کے آخری ایام میں ہیں، لیکن ان کی تمنائیں اب بھی ویسی ہی توانا ہیں جیسی جوانی میں تھیں۔ یہ صرف عشقِ مجازی تک محدود نہیں، بلکہ حسرت کے سیاسی عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ آخری دم تک آزادی کے اسی جذبے سے سرشار رہے جس سے وہ جوانی میں تھے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ ہمت اور ارادہ عمر کے محتاج نہیں ہوتے۔ اگر انسان کا شوق سچا ہو تو وہ بڑھاپے میں بھی نئی منزلیں سر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ حسرت کی شاعری میں یہ خود اعتمادی ان کا خاصہ ہے، جہاں وہ اپنی کمزوریوں کو بھی طاقت بنا کر پیش کرتے ہیں۔

بقول شاعر :

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

شعر نمبر 8

مایوس بھی تو کرتے نہیں تم ز راہِ ناز

تنگ آ گئے ہیں کشمکشِ امتحاں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

ز راہِ ناز: نخرے کے طور پر، اندازِ دلبری سے۔

کشمکشِ امتحاں: آزمائش کی الجھن۔

مفہوم:

آپ اپنے ناز و انداز کی وجہ سے ہمیں مکمل طور پر مایوس بھی نہیں کرتے اور نہ ہی کھل کر اپناتے ہیں۔ ہم اس مسلسل آزمائش اور ادھوری امید کی الجھن سے تنگ آ گئے ہیں۔

تشریح:

یہ شعر محبوب کی اس ادا کی عکاسی کرتا ہے جسے “امید و بیم” (امید اور خوف) کی کیفیت کہا جاتا ہے۔ محبوب عاشق کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتا، بلکہ گاہے بگاہے ایسی توجہ دیتا ہے کہ عاشق کو لگتا ہے شاید اسے منزل مل جائے گی۔ لیکن ساتھ ہی وہ ایسا تغافل بھی برتتا ہے کہ عاشق تڑپ کر رہ جاتا ہے۔ حسرت کہتے ہیں کہ اے محبوب! تیرا یہ انداز کہ نہ تو ہمیں “ہاں” کہتا ہے اور نہ ہی مکمل “ناں”، ہمارے لیے وبالِ جان بن گیا ہے۔ ہم اس الجھن میں ہیں کہ آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں۔ یہ “کشمکشِ امتحاں” یعنی مسلسل امتحان کی صورتحال انسان کو تھکا دیتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ فیصلہ ہو جائے، چاہے وہ حق میں ہو یا خلاف۔ لیکن محبوب کی “راہِ ناز” اسے ایک لامتناہی انتظار میں رکھتی ہے۔ یہ کیفیت کسی عذاب سے کم نہیں جہاں امید کی ایک کرن عاشق کو ہمت دیتی ہے اور پھر محبوب کی بے رخی اسے واپس اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔

بقول شاعر:

نہ رکیے رنجشِ بے جا پہ اتنا

کہ اب ہم بھی خفا ہونے لگے ہیں

شعر نمبر 9

خلوت بنے گی تیرے غمِ جاں نواز کی

لیں گے یہ کام اپنے دلِ شادماں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

خلوت: تنہائی، گوشہِ سکون۔

غمِ جاں نواز: جان کو سکون دینے والا غم۔

دلِ شادماں: خوش رہنے والا دل۔

مفہوم:

تمہارا غم جو میری جان کو عزیز ہے، وہی میری تنہائی کا ساتھی بنے گا۔ ہم اپنے اس خوش رہنے والے دل کو تمہارے غم کی پناہ گاہ بنا لیں گے۔

تشریح:

حسرت یہاں غمِ عشق کی ایک نئی اور مثبت جہت پیش کر رہے ہیں۔ عام طور پر غم کو دکھ کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن حسرت اسے “جاں نواز” (روح کو سکون دینے والا) قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی بھیڑ میں جب مجھے تنہائی کی ضرورت ہوگی، تو تمہاری یادیں اور تمہارا دیا ہوا غم ہی میرے کام آئے گا۔ میرا دل جو فطرتاً “شادماں” یعنی خوش رہنے والا ہے، وہ اس غم کو بوجھ نہیں سمجھے گا بلکہ اسے ایک خلوت گاہ بنا لے گا جہاں میں اور تیری یادیں سکون سے رہ سکیں گے۔ یہ صوفیانہ خیال ہے کہ سچا عاشق اپنے دل کے اندر ایک ایسی دنیا آباد کر لیتا ہے جہاں اسے کسی خارجی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ محبوب کا غم اس کے لیے ایک دولت ہے جسے وہ دنیا کی نظروں سے چھپا کر اپنے دل میں رکھتا ہے۔ حسرت کا یہ اندازِ فکر ظاہر کرتا ہے کہ وہ غم سے گھبرانے والے نہیں بلکہ اسے سینے سے لگانے والے شاعر ہیں۔

بقول شاعر:

غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

شعر نمبر 10

ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق

پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

انتہائے یاس: مایوسی کی حد۔

ابتدائے شوق: جذبے کی نئی شروعات۔

مفہوم:

مایوسی جب اپنی حد کو پہنچ جاتی ہے تو وہیں سے دوبارہ شوق اور امید کا نیا سفر شروع ہوتا ہے۔ ہم گھوم پھر کر پھر اسی مقام پر آ گئے ہیں جہاں سے چلے تھے۔

تشریح:

یہ شعر فلسفہِ حیات اور نفسیاتِ انسانی کی ایک گہری حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ زندگی اور عشق میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ حسرت کہتے ہیں کہ جب انسان بالکل مایوس ہو جاتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے، تو اسی ناامیدی کی کوکھ سے ایک نیا جذبہ جنم لیتا ہے۔ “انتہائے یاس” دراصل ایک نقطہِ آغاز ہے، کیونکہ اس کے بعد کھونے کے لیے کچھ نہیں بچتا اور انسان نئے سرے سے جدوجہد شروع کرتا ہے۔ یہ ایک دائرے کے سفر کی مانند ہے جہاں انجام ہی دراصل آغاز ہوتا ہے۔ شاعر کا یہ کہنا کہ “پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم” یہ ظاہر کرتا ہے کہ عشق ایک لازوال سفر ہے، جس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ ہارنے کے بعد پھر سے وہی تڑپ پیدا ہونا ہی سچے عاشق کا خاصہ ہے۔ یہ شعر حسرت کی سیاسی جدوجہد پر بھی پورا اترتا ہے، جہاں جیل اور صعوبتیں انہیں مایوس کرنے کے بجائے ان کے جذبہِ آزادی کو مزید جلا بخشتی تھیں۔

بقول شاعر:

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر

اب جو ہو جائے وہی بہتر ہے

شعر نمبر 11 (مقطع)

حسرتؔ پھر اور جا کے کریں کس کی بندگی

اچھا جو سر اٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم

مشکل الفاظ کے معانی:

بندگی: غلامی، عبادت، اطاعت۔

آستاں: چوکھٹ، در۔

مفہوم:

اے حسرت! اگر ہم محبوب کی اس چوکھٹ سے سر اٹھا بھی لیں (یعنی یہاں سے چلے جائیں) تو پھر دنیا میں اور کون ہے جس کی ہم بندگی کریں؟ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

تشریح:

غزل کے آخری شعر میں حسرت اپنی مکمل وابستگی اور وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بالفرض میں محبوب کی جفاؤں سے تنگ آ کر اس کا در چھوڑ دوں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں جاؤں گا کہاں؟ میرے لیے کائنات میں اس ایک در کے سوا کوئی دوسرا ٹھکانہ ہے ہی نہیں۔ یہ “بندگی” صرف ایک انسان کی نہیں بلکہ اس نظریے اور اس عشق کی ہے جو حسرت کی پہچان بن چکا ہے۔ عاشق کے لیے محبوب کی چوکھٹ ہی پوری کائنات ہوتی ہے۔ اس سے دور ہونا گویا اپنی ذات سے دور ہونا ہے۔ یہاں شاعر اپنی بے بسی کو ایک فخریہ انداز میں بیان کر رہا ہے کہ میری وفاداری اتنی پختہ ہے کہ مجھے کسی اور در کی تلاش ہی نہیں۔ حسرت کا یہ انداز روایتی غزل کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے، جہاں محبوب کی ذات ہی کل کائنات ٹھہرتی ہے۔ اگر وہاں سے ناطہ ٹوٹ جائے تو زندگی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ

شرم تم کو مگر نہیں آتی

Leave a Reply