سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

شعر نمبر 1

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

سودا: جنون، عشق کی دیوانگی (سر کی کیفیت)۔

تمنا: خواہش، آرزو (دل کی کیفیت)۔

ترکِ محبت: محبت چھوڑ دینا، دستبردار ہونا۔

بھروسہ: یقین، اعتبار۔

مفہوم:

سر میں عشق کا کوئی جنون باقی نہیں رہا اور نہ ہی دل میں کسی وصال کی خواہش ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ محبت چھوڑنے کے اس فیصلے پر کب تک قائم رہ سکوں گا۔

تشریح:

فراق گورکھپوری اس شعر میں انسانی جذبات کی ایک عجیب کشمکش اور تضاد کو بیان کر رہے ہیں۔ پہلے مصرعے میں وہ اپنی حالت کی مکمل سرد مہری اور بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب وہ وقت گزر گیا جب میرے سر پر عشق کا بھوت سوار تھا اور میں دیوانگی کی حد تک کسی کی محبت میں مبتلا تھا۔ اب نہ تو وہ سودا رہا اور نہ ہی دل میں محبوب کو پانے کی وہ تڑپ یا تمنا باقی رہی ہے جو کبھی میری زندگی کا محور تھی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاعر نے عشق کے تمام جھگڑوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ مگر دوسرے مصرعے میں وہ ایک بہت بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگرچہ میں نے محبت ترک کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن مجھے اپنے اس فیصلے پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں ہے۔ انسانی نفسیات مستقل نہیں رہتی، آج جو دل بیزار ہے، کل وہی کسی ایک یاد سے دوبارہ تڑپ سکتا ہے۔ محبت کی جڑیں دل کی گہرائیوں میں اس قدر مضبوط ہوتی ہیں کہ انسان بظاہر اسے چھوڑ دینے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اسے ڈر رہتا ہے کہ کسی بھی لمحے یہ دبی ہوئی چنگاری دوبارہ بھڑک اٹھے گی۔ یہ شعر شاعر کی داخلی بے یقینی اور عشق کی لافانی فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔

شعر نمبر 2

ایک مدت سے تیری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

مدت: ایک طویل عرصہ، بہت زیادہ وقت۔

یاد آنا: کسی کا خیال آنا۔

بھول جانا: فراموش کر دینا، ذہن سے نکال دینا۔

مفہوم:

ایک طویل عرصہ بیت گیا کہ ہمیں تیرا خیال تک نہ آیا، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم نے تجھے مکمل طور پر بھلا دیا ہے۔

تشریح:

یہ شعر انسانی یادداشت اور لاشعور کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کی مصروفیت اور وقت کی گرد نے محبوب کی یادوں کو دھندلا دیا ہے۔ ایک بہت لمبا عرصہ گزر چکا ہے کہ میں نے شعوری طور پر تجھے یاد نہیں کیا اور نہ ہی تیری یاد نے میری روزمرہ زندگی میں خلل ڈالا ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ “یاد نہ آنے” اور “بھول جانے” میں بہت فرق ہے۔ بھول جانا وہ ہوتا ہے جب کسی کا نقش ہی ذہن سے مٹ جائے، جبکہ یاد نہ آنا زندگی کے تھپیڑوں اور وقت کے تقاضوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ محبوب کی یاد اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں محفوظ ہے، جو اگرچہ سطح پر نظر نہیں آتی لیکن ختم بھی نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ وقت کے ساتھ یادیں ماند پڑ سکتی ہیں مگر جس سے سچی محبت ہو اسے کلی طور پر فراموش کرنا ناممکن ہے۔ شاعر اس نفسیاتی حقیقت کو بیان کر رہا ہے کہ محبوب اس کے وجود کا حصہ بن چکا ہے، چاہے اسے مسلسل یاد نہ کیا جائے۔

شعر نمبر 3

آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا

آج ہی خاطرِ بیمار شکیبا بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

غفلت: بے توجہی، لاپروائی، بے رخی۔

سوا: زیادہ، بڑھ کر۔

خاطرِ بیمار: بیمار دل، عشق میں مبتلا دل۔

شکیبا: صبر کرنے والا، پُرسکون۔

مفہوم:

آج محبوب کی آنکھوں میں پہلے سے کہیں زیادہ بے رخی اور غفلت نظر آ رہی ہے، اور ستم یہ کہ آج ہی میرا بیمار دل بھی صبر کرنے کی ہمت نہیں پا رہا۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے دوہری اذیت کا ذکر کیا ہے۔ ایک طرف محبوب کا رویہ ہے جو پہلے ہی بے رخ تھا، لیکن آج اس کی آنکھوں میں غفلت اور لاپروائی کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ وہ آج کچھ زیادہ ہی بیزار اور غصے میں معلوم ہوتا ہے۔ دوسری طرف خود شاعر کی اپنی حالت ہے، اس کا دل جو پہلے محبوب کی جفاؤں پر صبر کر لیا کرتا تھا اور خاموشی سے صدمے سہہ لیتا تھا، آج وہ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔ آج دل میں بے قراری اور بے چینی اتنی زیادہ ہے کہ وہ محبوب کی ذرا سی بے رخی کو بھی برداشت نہیں کر پا رہا۔ گویا محبوب کی تلخی بڑھ گئی ہے اور عاشق کی برداشت ختم ہو گئی ہے۔ یہ اتفاقِ بد ہے کہ جس دن محبوب نے زیادہ بے رخی برتی، اسی دن عاشق کا دل بھی صبر و قرار کی دولت سے محروم ہو گیا۔ یہ صورتحال ایک تڑپتے ہوئے عاشق کی بے بسی کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے۔

شعر نمبر 4

بات یہ ہے کہ سکونِ دلِ وحشی کا مقام

کنجِ زنداں بھی نہیں وسعتِ صحرا بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

دلِ وحشی: دیوانہ اور بے قرار دل۔

کنجِ زنداں: قید خانے کا تنگ گوشہ، تنہائی کی جگہ۔

وسعتِ صحرا: ریگستان کی پھیلی ہوئی جگہ۔

مفہوم:

میرے دیوانے دل کو سکون پانے کے لیے نہ تو قید خانے کی تنہائی کافی ہے اور نہ ہی ریگستان کی وسعتیں اسے قرار دے سکتی ہیں۔

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ جب دل عشق کی وحشت میں مبتلا ہو جائے تو وہ کسی بھی جگہ چین نہیں پاتا۔ اسے نہ تو قید خانے (زنداں) کا وہ تنگ گوشہ سکون دیتا ہے جہاں انسان دنیا سے کٹ کر تنہا ہو جاتا ہے، اور نہ ہی اسے صحرا کی وہ بے پناہ وسعتیں قرار دے پاتی ہیں جہاں وہ ہر طرف دوڑ سکتا ہے۔ یہ دراصل انسانی روح کی اس بے چینی کا اظہار ہے جو مادی حدود سے ماورا ہے۔ شاعر کے نزدیک دنیا میں کہیں بھی حقیقی سکون میسر نہیں ہے۔ انسان سکون کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے، کبھی تنہائی میں پناہ لیتا ہے تو کبھی ہجوم اور وسعتوں میں نکل جاتا ہے، مگر وحشی دل کی پیاس کہیں نہیں بجھتی۔ اس شعر میں اس نکتے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ حقیقی سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے، اس کے علاوہ دنیا کی کسی بھی تنگ یا وسیع جگہ میں دلِ وحشی کو قرار نہیں مل سکتا۔ یہ انسانی فطرت کی اس بے کلی کا نقشہ ہے جو اسے ہر دم متحرک اور بے قرار رکھتی ہے۔

شعر نمبر 5

اے صیاد ہم ہی گل ہیں ہم ہی بلبل ہیں

تو نے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

صیاد: شکاری، (یہاں مراد ظالم سماج یا بے حس محبوب ہے)۔

گل: پھول (خوبصورتی اور نزاکت کی علامت)۔

بلبل: محبت کا نغمہ گانے والا پرندہ (عاشق کی علامت)۔

مفہوم:

اے شکاری! ہم ہی نزاکت والے پھول ہیں اور ہم ہی محبت کے گیت گانے والے بلبل ہیں، مگر افسوس کہ تو نے نہ ہماری فریاد سنی اور نہ ہماری حالت پر نظر ڈالی۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے استعاراتی زبان استعمال کی ہے۔ وہ اپنے آپ کو “گل” اور “بلبل” دونوں قرار دے رہا ہے۔ “گل” کہہ کر وہ اپنی نزاکت، حسنِ فطرت اور معصومیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ “بلبل” کہہ کر وہ اپنی اس صفت کو بیان کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ محبت کے نغمے الاپتا ہے اور اپنی تکلیف کو فریاد (آہ) کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ “صیاد” یہاں اس سنگدل قوت کی علامت ہے جو ان خوبصورت احساسات کو کچل دیتی ہے۔ شاعر شکوہ کر رہا ہے کہ اے ظالم قوت یا اے بے حس محبوب! تو اتنا اندھا اور بہرا ہو چکا ہے کہ تجھے نہ تو ہماری معصومیت (گل) نظر آئی اور نہ ہی ہماری تڑپ اور فریاد (بلبل کی آہ) سنائی دی۔ یہ شعر معاشرے کی اس بے حسی کی طرف اشارہ ہے جہاں حساس دلوں اور محبت کرنے والوں کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور ان کی قدر نہیں کی جاتی۔

شعر نمبر 6

یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانہِ عشق

مگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانہ بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

دیوانہِ عشق: وہ جو محبت میں جنون کی حد تک پہنچ گیا ہو۔

ہنگامے اٹھانا: شور و غل کرنا، افراتفری پیدا کرنا۔

ٹھکانہ نہ ہونا: کسی بات کا اعتبار نہ ہونا، ناقابلِ پیش گوئی ہونا۔

مفہوم:

عشق کے دیوانے عام طور پر شور نہیں مچاتے اور خاموش رہتے ہیں، لیکن اے دوست! ان لوگوں کا کچھ اعتبار بھی نہیں کہ وہ کب کیا کر بیٹھیں۔

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ سچے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ عام طور پر باوقار، خاموش اور اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ وہ گلی کوچوں میں ہنگامے برپا نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی محبت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ وہ اپنی آگ میں خود ہی جلتے رہتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک انتباہ (Warning) بھی ہے کہ ان دیوانوں کی خاموشی کو ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کا کوئی “ٹھکانہ” نہیں، یعنی جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے یا جب انہیں عشق میں مکمل ناکامی ہو جائے، تو یہی خاموش لوگ ایسا طوفان کھڑا کر سکتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ جائے۔ ان کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ اہل دہل بظاہر پرسکون نظر آتے ہیں مگر ان کے اندر جذبوں کا ایک آتش فشاں چھپا ہوتا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

شعر نمبر 7 (مقطع)

منہ سے ہم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراق

ہے دوست تیرا مگر آدمی اچھا بھی نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

فراق: شاعر کا تخلص۔

برا کہنا: عیب جوئی کرنا۔

آدمی اچھا نہ ہونا: سیرت و کردار میں خامیاں ہونا۔

مفہوم:

اے محبوب! ہم فراق کو خود اپنے منہ سے برا تو نہیں کہتے کیونکہ وہ تیرا دوست ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کوئی اچھا آدمی نہیں ہے۔

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں فراق گورکھپوری نے خود ملامتی (Self-criticism) کا انداز اپنایا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مخاطب کر کے یا محبوب کے حوالے سے کہتے ہیں کہ بظاہر میں فراق کو برا نہیں کہتا، اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ بہت نیک ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اس کی نسبت “تجھ سے” (محبوب سے) ہے۔ چونکہ وہ تیرا دوست ہے اور تیرا قرب اسے حاصل ہے، اس لیے اس کی عزت کرنا مجھ پر لازم ہے۔ اگر میں اسے برا کہوں گا تو اس سے تیری پسند یا تیری دوستی پر آنچ آئے گی۔ مگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ فراق کوئی اچھا انسان نہیں ہے، اس کے اندر بہت سی برائیاں اور خامیاں ہیں۔ یہ شعر انتہا درجے کی عاجزی اور محبوب سے عقیدت کو ظاہر کرتا ہے کہ محبوب سے جڑی ہر چیز قابلِ احترام ہو جاتی ہے، چاہے وہ بذاتِ خود کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو۔ اس شعر میں ایک صوفیانہ رخ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ سے نسبت کی وجہ سے گناہ گار بندہ بھی قابلِ ملامت نہیں رہتا۔

بقولِ شاعر  :

ہو گئی ہو آپ سے نسبت جسے اے دل ربا

میری کیا طاقت کہ اس کو میں برا کہتا پھروں

Leave a Reply