دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا
شعر نمبر 1:
دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا
غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
اندوہ گیں: غم زدہ، دکھی۔
ہمدم: دوست، ساتھی۔
کہیں: یہاں مراد پاس یا ساتھ ہے۔
مفہوم:
جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہا، غمگین ہی رہا۔ غم میرے دل کے ساتھ اور میرا دل غم کے ساتھ ہمیشہ جڑا رہا۔
تشریح :
اس مطلع میں مصحفی نے انسانی زندگی اور غم کے اٹوٹ رشتے کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اس دنیا میں قدم رکھا اور شعور کی آنکھ کھولی، میں نے خود کو مصائب اور پریشانیوں کے نرغے میں پایا۔ دنیا میں میرا قیام دراصل دکھوں کی ایک طویل داستان ہے۔ وہ غم کو اپنا “ہمدم” یعنی جگری دوست قرار دیتے ہیں۔ جس طرح دو گہرے دوست ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے، اسی طرح غم اور ان کا دل ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ شاعر کا اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کی مادی زندگی خوشیوں سے زیادہ غموں سے عبارت ہے۔ خوشیاں تو محض پل دو پل کی چمک ہوتی ہیں جو آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں، لیکن غم انسان کا مستقل ہم سفر بن جاتا ہے۔ مصحفی کی اپنی زندگی بھی معاشی تنگدستی اور لکھنؤ کے ادبی معرکوں کی وجہ سے پریشانیوں کا شکار رہی، اسی لیے ان کے کلام میں یہ دکھ نہایت گہرا نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا دل اور غم ایک ہی وجود کے دو نام بن چکے ہیں، جہاں دل ہے وہاں غم ہے اور جہاں غم ہے وہاں میرا دل موجود ہے۔
بقول شاعر:
قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
(غالب)
شعر نمبر 2:
رونے سے کام بسکہ شبِ اے ہم نشیں رہا
آنکھوں پہ کھینچتا میں سرِ آستیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
بسکہ: اس قدر، چونکہ۔
ہم نشیں: دوست، ساتھی (یہاں مخاطب دوست ہے)۔
سرِ آستیں: آستین کا کنارہ۔
مفہوم:
اے میرے دوست! رات بھر میرا کام صرف رونا ہی رہا اور میں مسلسل اپنی آستین کے کنارے سے اپنے آنسو پونچھتا رہا۔
تشریح :
اس شعر میں شاعر اپنی تنہائی اور رات کے کرب کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ اپنے کسی دوست یا ہم نشیں سے مخاطب ہو کر اپنی رودادِ غم سناتے ہیں کہ گزشتہ رات مجھ پر بہت بھاری گزری۔ ساری رات میری آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری رہی۔ “سرِ آستیں” کھینچنے کا استعارہ نہایت بلیغ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آنسو اتنی کثرت سے بہہ رہے تھے کہ انہیں پونچھنے کے لیے بار بار آستین کا استعمال کرنا پڑا۔ یہ ایک سچے عاشق کی کیفیت ہے جو رات کی خاموشی میں اپنے محبوب کی یاد میں تڑپتا ہے اور اس کے پاس اپنے دکھ بانٹنے کے لیے کوئی نہیں ہوتا۔ تنہائی اسے سانپ بن کر ڈستی ہے اور یادِ یار آنسو بن کر بہتی ہے۔ مصحفی نے یہاں دکھ کی اس کیفیت کو ابھارا ہے جہاں انسان لفظوں سے زیادہ اپنے آنسوؤں سے گفتگو کرتا ہے۔ یہ کیفیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ شاعر کا دکھ کتنا عمیق اور خاموش ہے کہ وہ کسی اور کے سامنے زبانی اظہار کے بجائے تنہائی میں آہیں بھرنے اور آنسو بہانے کو ترجیح دیتا ہے۔
بقول شاعر:
مت پوچھ تیرا عاشق راتوں کو کیا کرے ہے
گاہے بکا کرے ہے، گاہے دعا کرے ہے
شعر نمبر 3:
نازک مزاج تھا بہت میں اس چمن کے بیچ
جب تک رہا تو خندہِ گل سے حزیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
چمن: دنیا، باغ۔
خندہِ گل: پھول کا ہنسنا یا کھلنا۔
حزیں: غمگین، اداس۔
مفہوم:
میں اس دنیا (باغ) میں بہت ہی نازک طبع واقع ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ یہاں پھولوں کو کھلتا دیکھ کر بھی مجھے دکھ ہی ہوتا رہا۔
تشریح :
اس شعر میں مصحفی نے اپنی حساس طبیعت اور دنیا کے تضادات کا ذکر کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں ایک نہایت نازک مزاج اور حساس انسان ہوں، اس لیے اس دنیا کے باغ میں جب بھی میں نے کسی پھول کو مسکراتے یا کھلتے دیکھا تو مجھے خوشی کے بجائے رنج ہوا۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں؛ ایک تو یہ کہ پھول کا کھلنا اس کے فنا ہونے کا آغاز ہے، دوسرا یہ کہ جب انسان خود اندر سے ٹوٹا ہوا ہو تو دوسروں کی خوشی اسے اپنی محرومیوں کا احساس دلاتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ پھول اس کی حالت پر ہنس رہے ہیں۔ ایک حساس شاعر کے لیے کائنات کا ہر منظر اس کے باطنی کرب سے جڑا ہوتا ہے۔ مصحفی کا یہ اندازِ فکر ظاہر کرتا ہے کہ وہ دنیا کی ناپائیداری سے اس قدر واقف ہیں کہ انہیں بہار کے رنگوں میں بھی خزاں کا عکس نظر آتا ہے۔ جب انسان غم کا عادی ہو جائے تو اسے خوشی کے لمحات بھی اجنبی اور تکلیف دہ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہ ان کی “نازک مزاجی” ہی ہے کہ وہ دوسروں کی مسکراہٹ میں بھی اپنے لیے درد کا سامان پاتے ہیں۔
بقول شاعر:
گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش
رہتی ایک آدھ بہار اے کاش
شعر نمبر 4:
ہمدم جو دیکھتا ہوں تو پہلو میں دل نہیں
بیٹھا تھا اس کے پاس میرا دل وہیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
پہلو: سینہ، بغل۔
وہیں رہا: محبوب کے پاس ہی رہ گیا۔
مفہوم:
اے دوست! جب میں نے غور کیا تو دیکھا کہ میرے سینے میں میرا دل موجود نہیں، مجھے یاد آیا کہ میں ابھی محبوب کے پاس بیٹھا تھا، میرا دل وہیں رہ گیا ہے۔
تشریح :
یہ اردو غزل کا ایک روایتی مگر نہایت خوبصورت مضمون ہے جسے مصحفی نے بڑی سادگی سے بیان کیا ہے۔ شاعر اپنے دوست سے کہتا ہے کہ محبوب سے ملاقات کے بعد جب میں واپس آیا اور اپنے باطن کا جائزہ لیا تو مجھے اپنا دل غائب ملا۔ وہ نہایت معصومیت سے اعتراف کرتے ہیں کہ میرا دل اب میرا نہیں رہا بلکہ وہ تو محبوب کی محفل کی نذر ہو چکا ہے۔ یہ “دل کا کھو جانا” دراصل عشق میں مکمل سپردگی کی علامت ہے۔ عاشق جب محبوب کے سامنے ہوتا ہے تو وہ اپنی ہستی سے بے خبر ہو جاتا ہے اور جب وہاں سے اٹھتا ہے تو اس کا وجود تو لوٹ آتا ہے مگر روح اور دل وہیں محبوب کی قدموں میں رہ جاتے ہیں۔ مصحفی نے یہاں اس نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ محبوب کی کشش اس قدر زیادہ تھی کہ دل نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور وہیں مستقل بسیرا کر لیا۔ اب شاعر کا جسم تو یہاں ہے مگر جینے کی اصل تڑپ یعنی دل وہاں محبوب کے پاس ہے۔ یہ شعر عشق کے اس عالم کو ظاہر کرتا ہے جہاں عاشق کی اپنی کوئی مرضی باقی نہیں رہتی۔
بقول شاعر:
دل گیا رونقِ حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی
شعر نمبر 5:
آخر کو ہو کے لالہ اُگا نو بہار میں
خونِ شہیدِ عشق نہ زیرِ زمیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
لالہ: سرخ رنگ کا پھول جس کے اندر سیاہ داغ ہوتا ہے۔
تیشہِ عشق: عشق کی کلہاڑی (مراد عشق کی سختیاں)۔
زمیں رہا: زمین کے نیچے دبا رہا۔
مفہوم:
بہار کے موسم میں جو لالہ کا پھول اگا ہے، وہ اصل میں ان شہیدوں کا خون ہے جو عشق کی راہ میں قربان ہوئے اور ان کا لہو زمین کے نیچے دبا رہا۔
تشریح :
اس شعر میں مصحفی نے “حسنِ تعلیل” کا بہترین استعمال کیا ہے، یعنی کسی بات کی ایسی وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں نہ ہو مگر شاعرانہ طور پر بہت خوبصورت ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ صحراؤں اور باغوں میں جو سرخ لالہ نظر آتا ہے، وہ کوئی عام پھول نہیں بلکہ ان عاشقوں کا خون ہے جو راہِ عشق میں قربان ہو گئے۔ ان شہیدوں کا خون زمین میں جذب ہو گیا تھا اور اب بہار کے موسم میں وہ جوش مار کر پھول کی صورت میں باہر نکل آیا ہے۔ لالہ کے پھول کے اندر جو سیاہ داغ ہوتا ہے، شاعر اسے عاشق کے دل کا وہ داغ قرار دیتا ہے جو محبوب کی بے وفائی یا ہجر کی تپش سے پیدا ہوا تھا۔ یہ شعر قربانیِ عشق کی لافانیت کو ظاہر کرتا ہے کہ سچے عاشقوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا بلکہ وہ قدرت کے مناظر میں رنگ بن کر بکھر جاتا ہے۔ مصحفی نے یہاں عشق کو ایک عظیم جذبہ قرار دیا ہے جو موت کے بعد بھی اپنی علامتیں چھوڑ جاتا ہے۔ یہ زمین ان لوگوں کے لہو سے رنگین ہے جنہوں نے محبت میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔
بقول شاعر:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں (غالب)
شعر نمبر 6:
دی جان ایسے ہوش سے اپنی کہ خلق کو
جینے کا میرے تادمِ آخر یقیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
خلق: لوگ، دنیا والے۔
دمِ بازپسیں: آخری سانس۔
مفہوم:
میں نے اتنے سکون اور ہوش و حواس کے ساتھ اپنی جان دی کہ آخری سانس تک لوگوں کو یقین ہی نہ آیا کہ میں مر رہا ہوں۔
تشریح :
یہ شعر عاشق کے استقلال اور حوصلے کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ موت بالعموم ایک ہولناک تجربہ ہوتا ہے جس میں انسان حواس کھو دیتا ہے، لیکن مصحفی کہتے ہیں کہ میں نے موت کا استقبال اس جرات اور مسکراہٹ کے ساتھ کیا کہ دیکھنے والوں کو گمان ہی نہ ہوا کہ میں زندگی کی بازی ہار رہا ہوں۔ آخری لمحے تک میرے چہرے پر وہ اطمینان تھا کہ لوگ اسے زندگی کی علامت سمجھتے رہے۔ یہ اس عاشق کا حال ہے جو موت کو فنا نہیں بلکہ محبوب سے وصال کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اس نے عشق کی راہ میں اتنی سختیاں جھیلی ہوتی ہیں کہ اب موت اسے ایک راحت محسوس ہوتی ہے۔ شاعر کا “ہوش” میں جان دینا اس کی ثابت قدمی کی دلیل ہے۔ وہ بزدلوں کی طرح روتے دھوتے نہیں بلکہ بہادروں کی طرح ہنستے مسکراتے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ یہ شعر ہمیں سبق دیتا ہے کہ اگر مقصد بلند ہو تو انسان موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی مسکرا سکتا ہے۔ لوگوں کا شک میں رہنا شاعر کی باطنی قوت کا اعتراف ہے۔
بقول شاعر:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
یا
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
شعر نمبر 7:
یارانِ گرم رو تو سب آگے نکل گئے
ان سے میں ننگِ قافلہ پیچھے کہیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
یارانِ گرم رو: تیز رفتار دوست، ہمت والے ساتھی۔
ننگِ قافلہ: قافلے کے لیے شرمندگی کا باعث۔
مفہوم:
میرے تمام ہمت والے اور تیز رفتار دوست اپنی منزلوں پر پہنچ گئے، اور میں اپنی سستی کی وجہ سے قافلے کے لیے باعثِ ندامت بن کر پیچھے رہ گیا۔
تشریح :
اس شعر میں مصحفی نے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے دکھ اور احساسِ کمتری کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے وہ ساتھی جو باہمت تھے اور جن کے ارادے جوان تھے، وہ وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کو پا گئے۔ لیکن میں، جو شاید سست گام تھا یا حالات کے جبر کا شکار ہو گیا، پیچھے رہ گیا۔ وہ خود کو “ننگِ قافلہ” کہتے ہیں، یعنی ایسا شخص جس کی وجہ سے پورے قافلے کی بدنامی ہو یا جو دوسروں کے لیے بوجھ بن جائے۔ یہ شعر انسانی زندگی کی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے یا سستی دکھاتے ہیں، وہ منزل سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر عمر بھر پچھتاوا ان کا مقدر بنتا ہے۔ مصحفی نے یہاں اپنی ناکامیوں کا اعتراف بڑے دکھ بھرے انداز میں کیا ہے۔ یہ شعر ہر اس شخص کی ترجمانی کرتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال نہ کر سکنے کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے اور پھر اپنے کامیاب ساتھیوں کو دیکھ کر نادم ہوتا ہے۔
بقول شاعر:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
یا
بہت پیچھے رہے ہیں ہم قدم اپنے ہی سائے سے
شعر نمبر 8
رکھوں میں روک کیوں کر، دل اپنے کو مصحفیؔ
میرے کہے میں اب تو میرا دل نہیں رہا
مشکل الفاظ کے معنی:
کہے میں ہونا: بس میں ہونا، فرمانبردار ہونا۔
مفہوم:
اے مصحفی! میں اپنے دل کو محبوب کی چاہت سے کیسے روکوں؟ کیونکہ اب یہ دل میرا کہنا نہیں مانتا اور میرے بس سے باہر ہو گیا ہے۔
تشریح :
مقطع میں مصحفی نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ وہ خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میں لاکھ کوشش کروں کہ اپنے دل کو عشق کی اس آگ سے نکال لوں یا اسے محبوب کی گلی میں جانے سے باز رکھوں، مگر میں ناکام رہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل اب خود مختار ہو چکا ہے یا یوں کہیے کہ وہ اب محبوب کا غلام بن چکا ہے۔ عشق میں ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں عقل جواب دے جاتی ہے اور دل اپنی من مانی شروع کر دیتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ رسوائی سے بچے، دکھوں سے دور رہے، لیکن دل اسے وہیں لے جاتا ہے جہاں درد ملتا ہے۔ یہ دل کی وہ نافرمانی ہے جو عاشق کو مجبورِ محض بنا دیتی ہے۔ مصحفی نے یہاں انسانی نفسیات کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ ہم اکثر اپنے جذبات کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے دل کو ایک اجنبی کی طرح دیکھتے ہیں جو ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ یہ بے بسی ہی دراصل عشق کی معراج ہے جہاں عاشق کا وجود تو اس کا اپنا ہے مگر اس کی ڈور محبوب کے ہاتھ میں ہے۔
بقول شاعر:
ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
جی چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں