دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا
دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا
غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا
رونے سے کام بس کہ شب اے ہم نشیں رہا
آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا
نازُک مزاج تھا میں بہت اس چمن کے بیچ
جب تک رہا تو خندہءِ گل سے حزیں رہا
ہمدم جو دیکھتا ہوں تو پہلو میں دل نہیں
بیٹھا تھا اس کے پاس، مرا دل وہیں رہا
آخر کو ہو کے لالہ اُگا نوبہار میں
خونِ شہیدِ عشق نہ زیرِزمیں رہا
دی جان ایسے ہوش سے اپنی کہ خلق کو
جینے کا میرے تادمِ آخر یقیں رہا
یارانِ گرم رو تو سب آگے نکل گئے
ان سے میں ننگِ قافلہ پیچھے کہیں رہا
رکھوں میں روک کیوں کر، دل اپنے کو مصحفیؔ
میرے کہے میں اب تو میرا دل نہیں رہا
