انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36)

نظم: انسانِ کامل ﷺ کی برکات (حفیظ جالندھری)

اشعار 21 تا 36: تفصیلی و علمی تشریح

شعر نمبر 21

یہاں سرمایہ و محنت سے غائب تھی حدِ فاصل

کہ جس کا نام سرمایہ ہے، محنت ہی کو تھا حاصل

مفہوم: اسلامی معاشرے میں دولت اور مزدوری کے درمیان کوئی دیوار نہیں تھی؛ دولت صرف وہی تھی جو محنت سے کمائی جائے۔

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک ایسا معاشی نظام دیا جس میں سرمایہ دار اور مزدور کی طبقاتی تقسیم ختم ہوگئی۔ عام طور پر سرمایہ دارانہ نظام میں دولت چند ہاتھوں میں ہوتی ہے اور مزدور صرف اس کا آلہ کار ہوتا ہے، لیکن مدینہ کی ریاست میں “سرمایہ” اور “محنت” ایک دوسرے سے جدا نہ تھے۔ وہاں دولت وراثت یا لوٹ مار سے نہیں بلکہ خالصتاً حلال مشقت سے حاصل کی جاتی تھی، جس سے معاشرے میں معاشی توازن پیدا ہوا۔

شعر نمبر 22

متاعِ محنت و سرمایہ تھے شیر و شکر دونوں

دفاعِ جب و شخص کے لیے سینہ سپر دونوں

مفہوم: محنت کی کمائی اور سرمایہ ایک دوسرے میں گھل مل گئے تھے اور دونوں مل کر انسانی وقار کی حفاظت کرتے تھے۔

تشریح: اس شعر میں “شیر و شکر” کا استعارہ استعمال ہوا ہے۔ یعنی مزدور اور مالک کے مفادات الگ نہیں تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ تھے۔ جب بھی انسانیت کی عزت (شخصیت کے وقار) پر آنچ آتی، تو یہ دونوں طبقے ایک ہو کر اس کا دفاع کرتے۔ اسلام نے معاشی اکائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا محافظ بنا دیا۔

شعر نمبر 23

نہ یہ احساس تھا محنت کشوں کو ہم ہیں ذلیل و خوار

نہ یہ پندار تھا سرمایہ داروں کو کہ ہم ہیں مختار

مفہوم: مزدور خود کو حقیر نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی دولت مندوں کو اپنی طاقت پر غرور تھا۔

تشریح: نفسیاتی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ نے محنت کش کو “حبیب اللہ” کا لقب دے کر اس کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اب مزدور کو اپنی غربت پر شرمندگی نہیں ہوتی تھی۔ دوسری طرف، مالداروں کے دل سے یہ تکبر نکل گیا کہ وہ معاشرے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ دونوں طبقوں کو معلوم تھا کہ اصل بڑائی صرف تقویٰ میں ہے۔

شعر نمبر 24

جو حاکم تھا وہ خادم تھا، جو آقا تھا وہ چاکر تھا

جو رہبر تھا وہ رہرو تھا، جو مرشد تھا وہ پیکر تھا

مفہوم: حکمران عوام کے خادم بن گئے اور بڑے عہدوں والے عجز و انکساری کا نمونہ بن گئے۔

تشریح: اس شعر میں اسلامی طرزِ حکمرانی کا خلاصہ ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ “قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے”۔ حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ اس دور میں حکمران (حاکم) خود کو عوام کا نوکر (خادم) سمجھتا تھا۔ جو راستہ دکھانے والے (رہبر) تھے، وہ خود اسی راستے پر چل کر دکھاتے تھے۔ قول اور فعل کا یہ تضاد ختم ہو چکا تھا جو آج کے معاشروں کا المیہ ہے۔

شعر نمبر 25

نہ کوئی اونچ تھی باقی، نہ کوئی نیچ باقی تھی

نہ کوئی کھینچ تھی باقی، نہ کوئی بھینچ باقی تھی

مفہوم: معاشرے سے ہر قسم کا امتیاز اور کھینچ تان ختم ہو چکی تھی۔

تشریح: شاعر نے صوتی آہنگ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں انسانیت کے درمیان کوئی طبقہ بندی (High or Low) نہیں رہی۔ “کھینچ اور بھینچ” سے مراد وہ سماجی دباؤ اور گروہ بندی ہے جس میں ایک انسان دوسرے کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے ایک ہموار اور پرسکون معاشرہ تشکیل دیا جہاں سب برابر تھے۔

شعر نمبر 26

وہ ندی کی طرح یکساں بہا دیتی تھی سب کو ساتھ

امیر و شاہ و گدا و بندہ و آزاد کے تھے ہاتھ

مفہوم: اسلام کی لہر سب کو برابر لے کر چلی، جہاں بادشاہ، فقیر، غلام اور آزاد سب متحد تھے۔

تشریح: حفیظ جالندھری نے اسلام کی تعلیمات کو ایک “ندی” سے تشبیہ دی ہے جو اپنے بہاؤ میں ریت کے ذرے اور قیمتی پتھر کو ایک ساتھ لے کر چلتی ہے۔ مسجد کی ایک ہی صف میں بادشاہ اور فقیر کا ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہونا اس مساوات کی عملی تصویر تھی، جس نے نسل اور رنگ کے تمام بت توڑ دیے۔

شعر نمبر 27

نہ تھا ہندو، نہ تھا یونانی و شامی و تاتاری

مٹائی تھی محمد ﷺ نے زمانے سے وطن داری

مفہوم: آپ ﷺ نے جغرافیائی اور نسلی تعصبات کو ختم کر کے عالمی بھائی چارہ قائم کیا۔

تشریح: اسلام سے قبل لوگ اپنے قبائل اور علاقوں (ہند، یونان، شام) پر فخر کرتے تھے جس سے جنگیں جنم لیتی تھیں۔ حضور ﷺ نے “وطن داری” یعنی تنگ نظر قوم پرستی کا خاتمہ کیا۔ آپ ﷺ نے سکھایا کہ مسلمان ایک ملت ہیں، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں۔ انسانیت کو جغرافیائی حدود سے نکال کر آفاقی پہچان دی گئی۔

شعر نمبر 28

بشر کو دی بشر ہونے کی، عزت کی خبر اس نے

سکھائی آدمیت کو فضیلت کی خبر اس نے

مفہوم: آپ ﷺ نے انسان کو اس کے اصل مقام اور انسانیت کی عظمت سے آگاہ کیا۔

تشریح: انسان بھٹک کر پتھروں اور جانوروں کے سامنے جھک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ وہ “اشرف المخلوقات” ہے۔ اسے اپنی عزتِ نفس کا احساس دلایا اور بتایا کہ آدمیت کا جوہر مادی ترقی میں نہیں بلکہ بلند اخلاق اور دوسروں کی خدمت (فضیلت) میں چھپا ہوا ہے۔

شعر نمبر 29

تھے جو مٹی کے ذرے، بن گئے تابندہ سیارے

گئے جو قعرِ دریا میں، ہوئے روشن وہی تارے

مفہوم: معمولی اور گمنام لوگ آپ ﷺ کی تربیت سے چمکتے ہوئے ستارے بن گئے۔

تشریح: یہ شعر اصحابِ رسول ﷺ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ وہ لوگ جو عرب کے صحراؤں میں مٹی کی طرح گمنام تھے، آپ ﷺ کی نگاہِ فیض سے آسمانِ ہدایت کے ستارے بن گئے۔ “قعرِ دریا” (دریا کی گہرائی) میں ڈوبے ہوئے یعنی جہالت کی پستیوں میں گرے ہوئے لوگ علم و حکمت کے روشن چراغ بن کر ابھرے۔

شعر نمبر 30

وہ مٹی جس کی قسمت میں ہمیشہ پائمالی تھی

مقدر میں تو جس کے بس ابد تک تیرہ حالی تھی

مفہوم: وہ قوم جس کا نصیب صرف ذلت اور اندھیرا تھا، اسے نئی زندگی ملی۔

تشریح: عرب کی قوم پسماندہ تھی، اسے بڑی طاقتیں (روم و فارس) پاؤں تلے روندتی تھیں۔ ان کی زندگی جہالت کے اندھیروں (تیرہ حالی) میں ڈوبی ہوئی تھی اور بظاہر ان کا کوئی مستقبل نہ تھا۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی برکات نے ان کی قسمت بدل ڈالی۔

شعر نمبر 31

پلٹ دی اس کی کایا ایک ہی چشمِ بصیرت نے

جلا بخشی ہے ذروں کو کمالِ نورِ وحدت نے

مفہوم: آپ ﷺ کی ایک نگاہ اور توحید کے نور نے قوم کی حالت یکسر بدل دی۔

تشریح: “کایا پلٹنا” یعنی مکمل تبدیلی آ جانا۔ آپ ﷺ کی بصیرت افروز تعلیمات اور اللہ کی وحدانیت کے نور نے ان انسانوں کو (جو ذروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے) ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا۔ توحید نے ان کے اندر وہ خود اعتمادی پیدا کی کہ وہ دنیا کے فاتح بن گئے۔

شعر نمبر 32

گرائے ہم نے اپنے ہاتھ سے لات و منات اپنے

بدل ڈالے ہم ہی نے آپ اپنے معجزات اپنے

مفہوم: ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے پرانے بت توڑ دیے اور اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔

تشریح: یہ تبدیلی کسی جبر سے نہیں بلکہ دلوں کی تبدیلی سے آئی۔ مسلمانوں نے اپنے آبائی جھوٹے معبودوں (لات و منات) کو خود ٹھکرا دیا۔ جب انسان کا عقیدہ بدلتا ہے تو اس کے اعمال معجزہ بن جاتے ہیں۔ یہ خود مسلمانوں کی محنت اور ایمان کا کرشمہ تھا کہ وہ قلیل ہونے کے باوجود غالب آئے۔

شعر نمبر 33

وہ عورت جس کو قدرت نے بنایا تھا سکوں بخشا

ذلیل و خوار تھی اس درجہ، کچھ اس کا نہ تھا پرسہ

مفہوم: عورت جسے سکون کا ذریعہ بنایا گیا تھا، وہ معاشرے میں انتہائی بے وقعت اور بے سہارا تھی۔

تشریح: یہاں سے شاعر عورتوں کے حقوق کا ذکر شروع کرتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کو بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ جس ہستی کو گھر کا سکون بننا تھا، اسے معاشرہ قدموں کی دھول سمجھتا تھا اور اس کی داد رسی کرنے والا (پرسہ لینے والا) کوئی نہ تھا۔

شعر نمبر 34

وہ جس کو زندگی کے نام سے لرزہ بر اندام تھی

اسی کی موت پر ہر سمت شادی تھی، مئے آشام تھی

مفہوم: بیٹی کی پیدائش پر باپ کانپ اٹھتا تھا اور اس کی موت پر جشن منایا جاتا تھا۔

تشریح: عرب کی سنگدلی کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب بیٹی پیدا ہوتی تو باپ شرم سے کانپنے (لرزہ بر اندام) لگتا۔ اگر وہ معصوم بچی مر جاتی یا اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تو لوگ خوشی مناتے اور شرابیں (مئے آشامی) پیتے کہ ایک ننگ و عار ختم ہو گئی۔

شعر نمبر 35

اسی کو دی ہے عزت، حرمت و توقیر احمد ﷺ نے

بنایا ہے اسے شریکِ قسمت و تقدیر احمد ﷺ نے

مفہوم: حضور ﷺ نے عورت کو عزت بخشی اور اسے مرد کے برابر حقوق دے کر زندگی کا ساتھی بنایا۔

تشریح: محسنِ انسانیت ﷺ نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں تقدس عطا کیا۔ اسے وراثت کا حقدار بنایا اور یہ تعلیم دی کہ “تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے”۔ آپ ﷺ نے اسے مرد کی تقدیر کا حصہ (Life Partner) بنا کر معاشرے کا فعال رکن بنا دیا۔

شعر نمبر 36

غلاموں کو کیا ہمسر، کیا آزاد آقا کا

بنایا ہے انہیں کو چاند، روشن برجِ بطحیٰ کا

مفہوم: آپ ﷺ نے غلاموں کو آقا کے برابر کر دیا اور انہیں مکہ (بطحیٰ) کے افق کا چمکتا چاند بنا دیا۔

تشریح: نظم کا اختتام غلاموں کی آزادی پر ہوتا ہے۔ “ہمسر” کا مطلب ہے برابر کرنا۔ اسلام نے غلامی کی زنجیریں توڑ دیں اور انہیں وہ مقام دیا کہ بلالِ حبشیؓ جیسے غلام مکہ (بطحیٰ) کی فضائوں میں معزز قرار پائے۔ وہ لوگ جو معاشرے کے پسماندہ طبقے سے تھے، آپ ﷺ کی برکت سے ہدایت کے مینار بن گئے۔

Leave a Reply