نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن
بند نمبر 1 :
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نذر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
تشریح :
اس بند میں فیض احمد فیض اپنے مخصوص دھیمے مگر پرتاثیر لہجے میں اپنے وطن سے مخاطب ہو کر محبت اور افسوس کی ملی جلی کیفیات کا اظہار کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب وطن! میں تیری ان گلیوں اور راستوں پر قربان جاؤں جہاں کبھی آزادی کی ہوائیں چلتی تھیں، مگر اب وہاں کی فضا اس قدر مسموم ہو چکی ہے کہ عزت دار اور باضمیر انسان کا جینا محال ہو گیا ہے۔ یہاں اب یہ رواج عام ہو گیا ہے کہ کوئی بھی شخص “سر اٹھا کے” یعنی اپنی خودداری اور وقار کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ جو لوگ تیرے سچے عاشق ہیں اور تیرے طواف (عقیدت کا اظہار) کے لیے نکلتے ہیں، انہیں چوروں اور مجرموں کی طرح چھپ کر، نظریں جھکا کر اور اپنی جان بچاتے ہوئے گزرنا پڑتا ہے۔ گویا محبِ وطن ہونا اس ملک میں سب سے بڑا جرم بن گیا ہے۔
شاعر اس ملک کے نظامِ حکومت اور عدل پر گہرا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انتظام و انصرام (نظمِ بست و کشاد) الٹ چکا ہے۔ فیض نے یہاں شیخ سعدی کے ایک مشہور قول کو منظوم کیا ہے کہ “سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد”۔ یعنی معاشرے میں امن، محبت اور تعمیر کرنے والے شریف شہریوں (پتھر اور اینٹ) کو تو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے، جبکہ کاٹنے والے کتے (شرپسند، ظالم اور ملک دشمن عناصر) آزاد دندناتے پھر رہے ہیں۔ یہ لاقانونیت کی بدترین مثال ہے جہاں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون رائج ہو۔ اس بند میں شاعر کا دکھ یہ ہے کہ جس وطن کو اسلام کی تجربہ گاہ اور آزادی کا گہوارہ بننا تھا، وہاں اب زبانوں پر تالے ہیں اور حق بات کہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
بقول شاعر:
؎ یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
؎ زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہء زنجیر میں زباں میں نے
؎ ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا
بند نمبر 2 :
بہت ہے ظلم کے دستِ بہانہ جو کے لیے
جو چند اہلِ جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
تیرے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں
تشریح :
دوسرے بند میں شاعر عدالتی نظام کی بددیانتی اور حکمرانوں کے جابرانہ رویے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ فیض کہتے ہیں کہ ظالم حکمرانوں کا “دستِ بہانہ جو” (بہانے تلاش کرنے والا ہاتھ) ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کس طرح محبِ وطن لوگوں کو کچلا جائے۔ انہیں سزا دینے کے لیے کسی بڑے جرم کے ارتکاب کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کا “اہلِ جنوں” (دیوانہ وار محبت کرنے والا) ہونا اور وطن کا نام لینا ہی ان کے لیے سب سے بڑا ثبوتِ جرم ہے۔ ظالم کو صرف وفادار لوگوں کو قید کرنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے اور وہ بہانہ ان کی حب الوطنی بن جاتی ہے۔
اس کے بعد شاعر نے پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے المیے کی عکاسی کی ہے جہاں انصاف کا قتل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مقدمے کا فیصلہ کون کرے؟ کیونکہ جو لوگ “اہلِ ہوس” ہیں (جو صرف اقتدار، دولت اور لالچ کے پجاری ہیں)، وہی ہم پر مقدمہ دائر کرنے والے (مدعی) ہیں اور وہی کرسیِ عدالت پر بیٹھ کر فیصلہ سنانے والے (منصف) بھی ہیں۔ جب قاتل ہی جج بن جائے تو مظلوم کس وکیل کے پاس جائے اور کس سے انصاف کی بھیک مانگے؟ یہ شعر معاشرتی بے بسی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود، فیض مایوس نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سمجھوتہ نہیں کیا، ہم جیل کی کوٹھریوں میں تیرے فراق (جدائی) کا غم سینے سے لگا کر دن گزار رہے ہیں۔ یہ صبر اور استقامت ظالم کے منہ پر طمانچہ ہے کہ ہم ٹوٹے نہیں ہیں۔
بقول شاعر:
؎ بربادِ گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا
؎ بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے
بند نمبر 3 :
بجھا جو روزنِ زندان تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر تیرے رخ پہ بکھر گئی ہوگی
غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایہء دیوار و در میں جیتے ہیں
تشریح :
تیسرا بند فیض کی رومانیت اور رجائیت (Optimism) کا شاہکار ہے۔ قید خانے کی تاریک اور گھٹن زدہ فضا میں بھی شاعر کا تخیل آزاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب جیل کی کوٹھری کا چھوٹا سا روشن دان (روزنِ زندان) اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور باہر کی روشنی آنا بند ہو جاتی ہے، تو میں مایوس نہیں ہوتا۔ میرا دل یہ تصور کر لیتا ہے کہ باہر اب رات ہو چکی ہوگی اور میرے پیارے وطن کا آسمان ستاروں سے جگمگا اٹھا ہوگا۔ شاعر نے وطن کو ایک سہاگن عورت سے تشبیہ دی ہے جس کی مانگ ستاروں سے بھر گئی ہے۔ یہ منفی حالات میں مثبت پہلو تلاش کرنے کا فن ہے۔
اسی طرح جب صبح کی پہلی کرن سے قید خانے میں میری زنجیریں (سلاسل) چمک اٹھتی ہیں، تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ میرے وطن کے چہرے پر صبح کی روشنی (سحر) بکھر گئی ہوگی۔ فیض بتانا چاہتے ہیں کہ ظالم مجھے جسمانی طور پر تو ان دیواروں اور دروازوں کے سائے میں قید کر سکتا ہے، مگر میری روح اور میری سوچ کو قید نہیں کر سکتا۔ ہم “تصورِ شام و سحر” میں جیتے ہیں، یعنی ہم اپنے خیالوں میں اپنے وطن کے ساتھ ہیں۔ یہ بند امید کا پیغام دیتا ہے کہ قید کی تکالیف عارضی ہیں اور سچا عاشق ہر تکلیف میں اپنے محبوب (وطن) کی خوبصورتی کا عکس دیکھتا ہے۔ شاعر کا یہ روحانی تعلق ثابت کرتا ہے کہ نظریاتی لوگوں کو دیواریں محدود نہیں کر سکتیں۔
بقول شاعر :
؎ پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں (اقبال)
بند نمبر 4 :
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
تیرے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
تشریح :
چوتھے بند میں فیض احمد فیض اپنی جدو جہد کو تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حق اور باطل کی یہ کشمکش آج کی نہیں بلکہ ازل سے جاری ہے۔ “خلق” (عوام) ہمیشہ ظلم اور جبر کے سامنے سینہ سپر رہی ہے۔ ظالموں کا ظلم کرنا اور مظلوموں کا اس کے خلاف ڈٹ جانا، یہ دونوں رسمیں پرانی ہیں۔ نہ یزیدیت کا طریقہ نیا ہے اور نہ حسینیت کی قربانی کی روایت (ریت) نئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جبر کی آگ بھڑکائی گئی، حق پرستوں نے اس میں اپنے لہو اور صبر سے گلشن تعمیر کیے، جسے شاعر نے “آگ میں پھول کھلانا” کہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا استعارہ ہے جو نامساعد حالات میں بھی زندہ رہنے اور مسکرانے کی علامت ہے۔
شاعر پورے اعتماد کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ آخری فتح ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے۔ ظالموں کی ہار اور حق پرستوں کی جیت تاریخ کا مستقل فیصلہ ہے۔ چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہے اور یہ لڑائی پرانی ہے، اسی لیے ہم “فلک کا گلہ” (قسمت کی شکایت) نہیں کرتے۔ ہم روتے دھوتے نہیں ہیں کیونکہ ہم شعوری طور پر اس راستے کے مسافر بنے ہیں۔ تیرے فراق میں ملنے والی تکلیفیں ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں، اس لیے ہم دل برا نہیں کرتے۔ یہ بند مزاحمتی ادب کا وہ حصہ ہے جو کارکنوں کو حوصلہ دیتا ہے کہ مشکلات اس راستے کا لازمی جزو ہیں، ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
بقول شاعر :
؎ آج بھی اپنا یہ عہد ہے ہم حرفِ وفا
خون سے تحریر کریں گے
؎ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہِ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند (اقبال)
بند نمبر 5 :
اگر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
تشریح :
نظم کے آخری بند میں فیض امید کی شمع جلاتے ہوئے مکمل یقین کے ساتھ مستقبل کی نوید سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آج حالات کی وجہ سے ہم اپنے وطن یا اپنے مقصد سے جدا ہیں، تو یہ جدائی دائمی نہیں ہے۔ جس طرح رات کے بعد صبح کا آنا اٹل ہے، اسی طرح ہمارے دوبارہ ملنے (بہم ہونے) کا وقت بھی آئے گا۔ شاعر ظلم کے اس دور کو محض “رات بھر کی جدائی” قرار دیتے ہیں، جو ان کے بلند حوصلے کی نشانی ہے۔
شاعر اپنے دشمنوں اور ظالم حکمرانوں (رقیب) کو للکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آج تمہارا ستارہ (طالع) عروج (اوج) پر ہے تو اس پر مت اتراؤ۔ یہ اقتدار اور طاقت محض “چار دن کی خدائی” ہے یعنی انتہائی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ فرعونیت ہمیشہ نہیں رہتی۔ آخری شعر میں شاعر ایک آفاقی سچائی بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ اپنے وطن اور نظریے کے ساتھ “عہدِ وفا استوار” (مضبوط) رکھتے ہیں، وہ زمانے کے بدلے ہوئے حالات (گردشِ لیل و نہار) کا علاج کرنا جانتے ہیں۔ یعنی وہ اپنی قربانیوں، جدو جہد اور صبر سے تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ یہ بند طلبہ کو درس دیتا ہے کہ وقتی ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ اصل کامیابی استقامت اور وفا میں پوشیدہ ہے۔
بقول شاعر :
؎ دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے (فیض)
؎ نہ خوفِ زنداں، نہ دار کا غم، یہ بات دہرا رہے ہیں ہم
کہ آخری فیصلہ وہ ہوگا جو دس کروڑ آدمی کریں گے (حبیب جالب کے انداز میں)
: نتیجہ
فیض احمد فیض کی یہ نظم محض شعری محاسن کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سیاسی منشور ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاست میں ظلم عام ہو جائے اور عدلیہ مفلوج ہو جائے تو اہلِ حق کا فرض ہے کہ وہ مایوس ہونے کے بجائے استقامت کا مظاہرہ کریں۔ نظم کا پیغام یہ ہے کہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سویرا ضرور ہوتا ہے۔