شکوہ بند نمبر 18

شکوہ بند نمبر 18

بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا

رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دُنیا

ہم تو رُخصت ہوئے اَوروں نے سنبھالی دُنیا

پھر نہ کہنا ہُوئی توحید سے خالی دُنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دُنیا میں ترا نام رہے

کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے

Leave a Reply