اردلی کسے کہتے وضاحت کریں ؟
بیٹ مین یا اردلی کی اصطلاح کا مطلب زیادہ تر اردو اور انگریزی لغات میں یوں نکلا ہے۔’برطانوی افسر کی خدمت گزاری اور حکم بجا لانے پر معمور فوجی‘۔
گویا یہ طے ہو گیا کہ اردلی رکھنے کی روایت برطانوی اور نوآبادیاتی ہے۔
برطانوی افسر کا اردلی پر کتنا دارومدار ہوتا تھا اس کا ایک تاریخی ثبوت یہ ہے کہ اٹھارہ سو انتالیس کی پہلی اینگلو افغان جنگ میں حصہ لینے کے لیے ساڑھے سولہ ہزار افسروں اور جوانوں پر مشتمل جو برطانوی فوج سندھ سے کابل روانہ کی گئی تھی اس کی خدمت پر اڑتیس ہزار اردلی معمور تھے۔
اتنے ٹھاٹھ باٹھ کی کی فوج کا انجام یہ ہوا کہ صرف ایک فوجی ڈاکٹر مسٹر برائڈر زندہ بچا جسے افغانوں نے رقعہ دے کر بھیج دیا کہ جاکر اطلاع کر دینا کہ تمھاری فوج کے ساتھ کیا ہوا۔
ہندوستانی اور پاکستانی فوج نے ظاہر ہے اردلی کی یہ روایت اپنے نو آبادیاتی انگریز افسروں سے ہی ورثہ میں پائی ہے۔
پاکستان کی بحریہ اور فضائیہ میں یہ روایت پہلے سے موجود ہے کہ کمیشنڈ افسر کو اردلی کی بجائے ملازم رکھنے کا الاؤنس ملتا ہے لیکن برّی فوج میں آج کے دن تک یہ روایت چلی آرہی ہےکہ صوبیدار میجر سے لے کر جنرل تک ہر افسر کو اس کی حثیت کے مطابق ایک سے لیکر چار، پانچ تک اردلی مل جاتے ہیں جو عموماً فوجی یونٹوں سے ہی لیے جاتے ہیں۔
بلکہ صاحب اور اردلی کا رشتہ ملٹری اکیڈمی سے ہی شروع ہو جاتا ہے جہاں ہر چار کیڈٹس کو ایک اردلی ملتا ہے۔
بنیادی طور پر اردلی کا کام ہے کہ صاحب کی وردی کو صاف ستھرا اور اکڑا ہوا رکھے اور جوتے چمکاتا ر ہے کیونکہ صاحب کواگر پریڈ کی سلامی کے لئے پہنچنا ہے تو انھیں آرائشی وردی پہننا پڑتی ہے جسے ’بلیو پٹرول‘ کہتے ہیں۔ ڈنر کے لئے علیحدہ سے ’میس کِٹ‘ ہوتی ہے۔ روزمرہ کے لیے ’سروس ڈریس‘ ہوتا ہے۔ شام کو کھیلنے کے لیے ’سپورٹس کِٹ‘ ہوتی ہے اور پھر گھر اور باہر پہننے کے لیے سویلین کپڑے بھی ہوتے ہیں۔ سب کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ظاہر ہے اردلی کی ہی ہوتی ہے لیکن عملاً اردلی باورچی سودا سلف لانے یا ڈرائیور کے فرائض بھی انجام دیتا ہے۔
اردلی اور صاحب کا رشتہ زندگی بھر کا بھی ہو سکتا ہے اور چند برس کا بھی۔ اس کا دارومدار دونوں کی طبیعیت ملنے پر ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریٹائر ہونے کے بعد بعض افسر اپنی سابقہ یونٹ کے حاضر کماندار سے ایک دو آدمی عارضی طور پر بطور اردلی منگواتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ سب ہوتا بھی ہے تو نہایت خاموشی سے کیونکہ عادت جاتے جاتے ہی جاتی ہے ۔