محنت کی برکات از الطاف حسین حالی

محنت کی برکات از الطاف حسین حالی

بند نمبر 1   : 

مشقت کی ذلت جنھوں نے اُٹھائی

جہاں میں ملی اُن کو آخر بڑائی

کسی نے بغیر اس کے ہر گزنہ پائی

فضیلت ، نہ عزت ، نہ فرماں روائی

نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں

ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں

نظم کا عنوان :

محنت کی برکات

شاعر کا نام :

مولانا الطاف حسین حالی

مسدس :

یہ عربی لفظ ہے جس کے معنی چھے ہیں۔ مسدس سب سے مقبول ہیئت ہے۔ اس میں چھ مصرعوں کا ایک بند ہوتا ہے۔ عام طور پر پہلے چار مصرعوں کا قافیہ الگ ہوتا ہے اور باقی کے دو مصرعے اپنا الگ قافیہ رکھتے ہیں۔ یہ نظم بھی مسدس کی شکل میں لکھیں گئی ہے ۔

تشریح :

اس بند میں شاعر نے محنت اور مشقت کے تجربات کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں مشقت اور مشکل حالات کا سامنا کیا، انھیں آخر کار کامیابی ملی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ محنت اور جد وجہد ہی انسان کو اس کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ شاعر یہ کہ رہا ہے کہ کوئی بھی شخص بغیر محنت کے کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے لیے محنت ضروری ہے۔

بقول شاعر :

وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ

جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ

در حقیقت شاعر اپنی قوم کو پستی سے نکل کر بلندیوں تک جانے کا گر بتا رہے ہیں کہ جن اقوام نے محنت اور کوشش کی ، روشن مستقبل انھیں کا منتظر ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے محنت کی سختیاں برداشت کی ہیں، آنے والا وقت انھیں کی جھولی میں آسانیاں اور خوش حالیاں ڈال کر جاتا ہے۔ خدائے واحد نے اپنے کلام مقدس میں یہ اٹل اصول دو بار بیان فرمایا ہے کہ

“پس بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔”

جن اقوام اور افراد نے محنت کی ہے، وہی دنیا میں برتری اور سرداری کا حق بھی رکھتے ہیں۔ شاعر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بیان کر رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی کام بھی محنت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین حق کے لیے جو محنت ، کوشش اور مشقت کی۔ یہ اس کا ثمر ہے کہ آج ہم بطور کلمہ گو زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محنتی فرد کو اللہ کا دوست ” کہہ کر پکارا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصافحہ کیا،اُس کے ہاتھوں کا کھردرا پن محسوس کر کے آپ نے دریافت فرمایا۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول سخت محنت کرنے کے باعث ہاتھوں کی ایسی حالت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا:

” انسان کے لیے وہی کچھ ہے، جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ “

شاعر گلستان کی مثال دے رہا ہے ، جس کا مطلب ہے زندگی کی خوبصورتی اور کامیابی۔ وہ کہتا ہے کہ جتنے بھی لوگ اس گلستان میں پھول کی طرح کھلتے ہیں، وہ سب محنت کے ذریعے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ شاعر نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ جو لوگ محنت کرتے ہیں وہی اپنی زندگی میں ترقی کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں۔

  بند نمبر 2

نہ بو نصر تھا نوع میں ہم سے بالا

نہ تھا بو علی کچھ جہاں سے نرالا

طبیعت کو بچپن سے محنت میں ڈالا

ہوئے اس لیے صاحب قدر والا معزز

اگر فکر کسب ہنر تم کو بھی ہو

تمہیں پھر ابو نصر اور بو علی ہو

تشریح : فارابی ( بو نصر)کی ابتدائی زندگی نہایت ہی غربت اور تنگدستی میں گذری، مگر غربت و تنگدستی اس کے علم و جستجو پر غالب نہ ہو سکی۔ ان کو ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے علم ریاضی، طب، فلسفہ اور موسیقی میں بڑا نام کمایا۔ اسی طرح بو علی سینا جو دنیا کے ممتاز طبیب، مفکر اور فلسفی ہیں۔ وہ جامع العلوم شخصیت تھے۔ ابن سینا کے نام پر ہی آج ادویات کو میڈیسن کہا جاتا ہے۔ اس بند مولانا حالی کہتے ہیں کہ بو نصر ہو یا بو علی سینا، وہ بھی ہم جیسے ہی انسان تھے ناکہ کوئی مافوق الفطرت مخلوق ۔ انہوں نے بھی اپنی محنت کے بل بوتے پر دنیا میں نام بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے بچپن سے ہی اپنے آپ کو محنت کا عادی بنایا۔ اپنی محنت کی بدولت ہی انہوں نے شہرت و نام وری حاصل کی اور اب رہتی دنیا تک ان کا علمی کام لوگوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ یہ اہل علم تم لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ویسے بھی کہتے ہیں کہ ” نامی کوئی بغیر مشقت  نہیں ہوا۔ اگر تم بھی باہنر اور باصلاحیت ہو اور محنت پر یقین رکھنے والے ہو تم بھی اپنے وقت کے ابو نصر فارابی اور بو علی سینا ہوں گے۔ دنیا تمہاری معترف ہو گی اور رہتی دنیا تک تم لوگوں کا نام بھی رہے گا۔

 : بقول شاعر

وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ

جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ

بند نمبر 3 : 

 اسی طرح یاں اہل ہمت ہیں جتنے

کمر بستہ ہیں کام پر اپنے اپنے

جہاں کی ہے سب دھوم دھام ان کے دم سے

فقیر اور غنی سب طفیلی ہیں ان کے

بغیر ان کے بے ساز و سامان تھی مجلس

نہ ہوتے اگر یہ تو ویراں تھی مجلس

تشریح :  “اہل ہمت” سے مراد وہ شخص ہے جو ہمت ، عزم اور حوصلہ رکھتا ہو ۔ اس کا مطلب ہے بہادر ، لچکدار ، اور چیلنجوں یا مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے کردار کی طاقت کا ہونا۔ یہاں اس کا ترجمہ ” حوصلے والے لوگ ” یا ” عزم والے لوگ ” کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بہادری اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔   :مشہور مقولہ ہے

ہمت مرداں مدد خدا”۔ یعنی اللہ باہمت لوگوں کا ساتھ دیتا ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ یہ اہل ہمت لوگ ہر وقت اپنے کام کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ نہ وہ سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور نہ کسی ڈر اور خوف کا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں انقلاب یا تبدیلی ان ہی کی بدولت رو نما ہوتے ہیں۔ امیر و غریب ، شاہ و گدا سب ان ہی پر انحصار کرتے ہیں۔

بند کے آخری شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر یہ اہل ہمت دنیا میں نہ ہوتے تو دنیا کی یہ مجلس رنگ و رونق سے خالی ہوتی۔ انہی لوگوں نے دنیا کو حسن بخشا۔ اگر یہ لوگ عزم و ہمت کا مظاہرہ نہ کرتے تو دنیا کی یہ مجلس بے آباد ہوتی۔ انسان ترقی کی اس معراج پر بھی نہ پہنچ پاتا۔

وہی لوگ پاتے ہیں عزت زیادہ

جو کرتے ہیں دنیا میں محنت زیادہ

بند  نمبر 4 : 

بشر کو ہے لازم کہ ہمت نہ ہارے

جہاں تک ہو کام آپ اپنے سنوارے

خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے

کہ ہیں عارضی زور ، کمزور سارے

 

آڑے وقت تم دائیں بائیں نہ جھانکو

سدا اپنی گاڑی کو گر آپ ہانکو

تشریح : مولانا حالی کہتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ مشکل حالات میں ہمت نہ ہارے۔ اللہ اور اپنے آپ پر بھروسا کرے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے کام کو خود سنوارے۔ کسی اور سے مدد نہ مانگے کیونکہ اللہ کے سوا سارے سہارے عارضی اور کمزور ہوتے ہیں۔ دوسرے لوگ ہماری مدد کے لیے ہر وقت موجود اور تیار نہیں ہوں گے۔ اس لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھا کر مشکلات اور آزمائشوں کا خود مقابلہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ ایک مشہور قول ہے ” الکاسب حبیب اللہ محنت کرنے والوں کو ہی اللہ دوست رکھتا ہے۔ جس طرح ایک اچھا دوست مشکل میں کام آتا ہے ۔ اسی طرح اللہ بھی محنت کی مشقت میں مبتلا اپنے دوست کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ اس کی مدد کرتا ہے۔

اس بند میں مولانا حالی لوگوں کو اپنی مدد آپ کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی محنت کے بل بوتے پر انسان کو آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور صرف اللہ پر توکل کرنی چاہیئے۔ دوسرے کسی وقت بھی ساتھ چھوڑ سکتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ضرور ساتھ دیتا ہے۔

بند نمبر 5 : 

ہر اک ملک میں خیر و برکت ہے ان سے

ہر اک قوم کی شان و شوکت ہے ان سے

نجابت ہے ان سے شرافت ہے ان سے

شرف ان سے ، فخر ان سے ، عزت ہے ان سے

 

جفاکش بنو گر ہو عزت کے خواہاں

کہ عزت کا ہے بھید ذلت میں پنہاں

تشریح: مولانا حالی کہتے ہیں کہ محنت پر یقین رکھنے والے اور محنت کرنے والے لوگوں کی بدولت ہی دنیا میں اس وقت بھلائی اور ترقی ہے۔ دنیا بھر میں جتنی اقوام شان و شوکت کے بام عروج پر ہیں اس کی وجہ ان کی ان تھک محنت ہے۔ ایسی اقوام میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو سخاوت، شرافت، اخلاق، حوصلے اور اعلیٰ کردار کے حامل ہیں۔ وہ محنت پر یق یقین رکھتے ہیں اس لیے وہ اپنی قوم کے لیے اعزاز ، فخر اور عزت کا بھی باعث ہیں۔

بند کے آخری شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر تم بھی دنیا و آخرت میں عزت چاہتے ہو تو جفاکش یعنی محنتی بنو۔ تمہاری عزت کا راز محنت میں ہی چھپا ہے۔

: بقول شاعر

بے محبت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا

یعنی انسان کا اصل جوہر ، اس کی خوبی ، اس کی صلاحیت سامنے ہی تب آتی ہے جب وہ مسلسل محنت کرتا ہے۔ تم بھی اپنے آپ کو محنت میں گم کر دو اللہ تمہیں عزت سے نواز دے گا کیونکہ قانون قدرت ہی یہی ہے۔ اللہ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اس لیے اگر تم محنت کرو گے تو عزت تمہارا مقدر بنے گی۔

 : بقول شاعر

جہاں میں ملی ان کو آخر بڑائی

مشقت کی ذلت جنہوں نے اُٹھائی

کسی نے بغیر اس کے ہر گزنہ پائی

فضیلت ، نہ عزت ، نہ فرماں روائی

بند نمبر 6 :

بہت ہم میں اور تم میں جوہر ہیں مخفی

خبر کچھ نہ ہم کو نہ تم کو ہے جن کی

اگر جیتے جی ، کچھ نہ ان کی خبر لی

تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی

 

یہ جوہر ہیں ہم میں امانت خدا کی

مبادا تلف ہو ودیعت خدا کی

تشریح :

اس بند میں شاعر بیان کرتا ہیں کہ اے مسلمان ! تیرے اندر رب نے بہت سی خوبیاں چھپا رکھی ہیں۔ تم ان خوبیوں سے کام لے کر ملک وملت کی قسمت سنوار دو۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی نیا بچہ جنم لیتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ابھی انسان رب  سے مایوس نہیں ہوا۔ لہذا ہمیں جو کمالات رب کی طرف سے ملے ہیں ان میں نکھار پیدا کر کے اپنی قوم کی بہتری اور اصلاح کے لیے برتنا ہے۔ اس بات کو اقبال اپنے رنگ میں یوں ادا کرتے ہیں :

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

Leave a Reply