کعبے کی رونق کعبے کا منظر
نظم” حمد ” از سید صبیح الدین رحمانی کا مفہوم ، مشکل الفاظ کے معانی اور تشریح ۔
شعر نمبر 1 :
کعبے کی رونق کعبے کا منظر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر ، اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
مشکل الفاظ کے معانی :رونق ( چہل پہل ) ، اللّٰہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے )
تشریح : تشریح طلب شعر معروف نعت گو اور حمد یہ شاعر سید صبیح الدین رحمانی کی حمد سے ماخوذ ہے جو کعبہ اللہ کے مقدس مقام وہاں کے روحانی ماحول اور اللہ تعالیٰ کے کرم کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ شعر شاعر کے گہرے روحانی تعلق ، عقیدت اور کعبے کے لیے والہانہ محبت کا اظہار ہے ، جو ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ یہ شاعرانہ انداز ، میں کعبہ کے دیدار ، وہاں کی عبادات اور اللہ کی عظمت کو بیان کرتا ہے ۔
نوٹ: مندرجہ بالا اقتباس اس نظم کے کسی بھی شعر کے شروع میں لکھا جا سکتا ہے ۔
تشریح : اس شعر میں شاعر کعبہ مشرفہ کی ظاہری چمک دمک، عظمت اور جمال کا ذکر کر رہا ہے۔ “کعبے کی رونق ” سے مراد اس کی نورانیت ، طواف کرتے ہجوم اور وہاں کی پر کیف فضا کی دلکشی ہے۔ کعبے کا منظر ” محض ایک عمارت کا دیدار نہیں بلکہ ایمان کو تازگی بخشنے والا اور روح کو سکون دینے والا نظارہ ہے۔ شاعر کی آنکھیں اس منظر سے سیر نہیں ہوتیں اور وہ اس لازوال حسن کو مسلسل دیکھتے رہنے کی تمنا کرتا ہے۔
تیری نگاہ میں ہے معراج ضبط دید
ورنہ کمالِ دید ہے اس کے جمال میں
یہاں کمال دید کی جانب اشارہ ہے جو کعبہ کے دیدار سے حاصل ہوتا ہے ۔ اس مسلسل مشاہدے اور کعبے کی عظمت کے ہر پہلو پر بے ساختہ ” اللہ اکبر” کی صدا بلند ہوتی ہے، جو اللہ کی بڑائی اور اس کے تخلیق کردہ معجزات پر کامل یقین کا اظہار ہے۔ یہ کلمہ ہر لمحہ اللہ کی کبریائی کو یاد دلاتا ہے اور دل کو اس کے جلال و جمال میں گم کر دیتا ہے۔ شاعر نے کعبے کی رونق اور منظر کو اللہ کی بڑائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لِلَّذِي بِبَكَةَ مُبَارَكًا وَهُدًى للعالمين “
ترجمہ : ” بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ مکہ والا ہے، جو برکت والا اور تمام جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔ “
اس آیت کی روشنی میں شاعر نے کعبے کی عظمت کو ” رونق ” اور “منظر ” کے الفاظ سے بیان کیا ہے جو اس کی روحانی کشش اور برکت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اللہ اکبر کی تکرار اور تسبیح نظم میں ” اللہ اکبر” کی بار بار تکرار قرآن و حدیث میں تسبیح و تکبیر کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا:
“بہترین ذکر لا الہ الا اللہ اور بہترین دعا الحمد للّہ ہے ۔”
شعر نمبر 2 :
حمد خدا سے تر ہیں زبانیں ، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آ رہی ہے برابر ، اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
تشریح: شاعر نے اسی ذکر کو اپنی حمد کا مرکزی نکتہ بنایا ہے۔ ” حرم کی برکات اور مغفرت کی التجا ” شاعر نے حرم کی زیارت کو اپنی زندگی کا مقدر بنانے کی دعا کی ہے: ” تا عمر لکھ دے آنا مقدر ، اللہ اکبر اللہ اکبر”
حدیث میں آیا ہے: “جو شخص بیت اللہ کا حج کرے اور کوئی فحش بات یا گناہ نہ کرے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ۔ “
شاعر کعبہ کے گرد موجود روحانی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ “خدا سے تر ہیں زبانیں ” کا مطلب ہے کہ ہر زبان اللہ کے ذکر ، تسبیح و تحلیل اور دعاؤں سے تر اور مصروف ہے۔ یہ کیفیت کعبہ کے مقدس ماحول کی برکت سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی ماحول میں “کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں ” یعنی مؤذن کی دلکش اور پر سوز آواز میں دی جانے والی اذانیں صرف کانوں تک نہیں پہنچتیں بلکہ روح میں اتر کر ایک میٹھا اور پر کیف احساس پیدا کرتی ہیں۔ یہ اذانیں گویا روح کی پیاس بجھاتی ہیں۔ اس ذکر و اذکار کے درمیان ، ہر طرف سے مسلسل ایک ہی صدا گونجتی ہے: “اللہ اکبر ” ،جو ہر لمحہ اللہ کی عظمت، اس کی شانِ کبریائی اور اس کے جلال و جمال کا اعلان کرتی ہے۔ یہ صدا دلوں کو توحید اور اللہ کی
وحدانیت کے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔
اذانیں گونجتی ہیں جب حرم میں
دل مسلم مچل جاتا ہے آکر
شعر نمبر 3 :
تیرے حرم کی کیا بات مولی ، تیرے کرم کی کیا بات مولی
تا عمر لکھ دے آنا مقدر ، اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
تشریح: شاعر براہ راست اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہے اور اس کے حرم (کعبہ) کی بے مثال عظمت اور اس کے بے پایاں کرم کا اعتراف کر رہا ہے۔ ” تیرے حرم کی کیا بات مولی” ایک سوالیہ فقرہ ہے جو دراصل حرم کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے ، یعنی اس کی شان و شوکت اور تقدس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ، ” تیرے کرم کی کیا بات مولی ” اللہ کی لامحدود مہر بانیوں اور نوازشات کا اعتراف ہے جو اس نے اپنے بندوں پر فرمائی ہیں۔ شاعر یہ سمجھتا ہے کہ حرم میں موجود گی اللہ کے خالص کرم کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ ” تا عمر لکھ دے آنا مقدر ” ، یعنی میری تمام عمر کعبہ کی حاضری نصیب ہوتی رہے۔ یہ دعا ایک سچے مومن کی دلی آرزو کو ظاہر کرتی ” ہے کہ اسے بار بار اس مقدس مقام پر آنے کی سعادت حاصل ہو۔ ہر دعا اور آرزو کے ساتھ ” اللہ اکبر” کی صدا اس بات کی علامت ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور اس کے بے مثال فضل سے ہی ممکن ہے۔
شعر نمبر 4 :
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں ، منظور ہوں گی ، مقبول ہوں گی
میزاب رحمت ہے میرے سر پر ، اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
تشریح : شاعر کعبہ کے مقدس ماحول میں اپنی دعاؤں کی قبولیت پر غیر متزلزل یقین کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس بابرکت مقام پر جو بھی دعائیں مانگی گئی ہیں۔ وہ یقینا اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں “منظور اور مقبول ” ہوں گی۔ یہ یقین حرم کی پاکیزگی اور وہاں کی روحانی کشش کا نتیجہ ہے۔ “میزاب رحمت ہے میرے سر پر ” سے مراد کعبہ کی چھت پر نصب وہ پرنالا ہے جسے ” میزاب رحمت ” کہا جاتا ہے جس سے بارش کا پانی گرتا ہے۔ شاعر اس روحانی کیف و سرور میں محسوس کرتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ کی رحمت کے حصار میں ہے اور یہ احساس اس کے یقین کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اس کی التجائیں سنی جارہی ہیں۔ اس تمام کیفیت میں ہر لمحہ ” اللہ اکبر” کی صدا بلند ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت، اس کے سننے اور قبول کرنے کی قدرت پر کامل ایمان کو ظاہر کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
” اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دو کہ میں نزدیک ہی ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ “
یہ آیت دعاؤں کی قبولیت پر شاعر کے یقین کو تقویت دیتی ہے۔
حدیثِ قدسی:
“میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ” (میزاب رحمت کا تصور اللہ کی وسیع رحمت سے جڑا ہے ، جو اس حدیث سے واقع ہوتا ہے۔)
شعر نمبر 5 :
حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں ، اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
کہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر ، اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
تشریح: شاعر کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے وجود اور اپنے مقدر پر حیرت کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کبھی حیرانی سے اپنی ذات کو دیکھتا ہے، اپنی نالائقیوں ، گناہوں اور سابقہ زندگی پر غور کرتا ہے اور پھر کبھی حرم کعبہ کے عظیم الشان منظر کو دیکھتا ہے۔ یہ موازنہ اسے ایک گہری حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ ” کہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر! یعنی یہ اس کے اپنے کمال یا استحقاق کا نتیجہ نہیں بلکہ خالصتاً اللہ کا فضل اور اس کے مقدر کی مہربانی ہے کہ اسے اس مقدس ترین مقام پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ یہ احساس عاجزی اور اللہ کی تقدیر پر کامل توکل کا اظہار ہے۔ ہر بار جب یہ سوچ آتی ہے تو بے ساختہ ” اللہ اکبر” کی صدا بلند ہوتی ہے جو اللہ کی بے پناہ قدرت اور اس کے فیصلوں کی عظمت کا اقرار ہے۔
یہ تیری رحمت ہے کہ تیرے در پہ آپہنچا
یہ کیا مجھ سے ہوا، اور میں کیا کر رہا تھا
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“یقینا ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔ ” (یہ آیت انسان کے مقدر اور ہر چیز کے اللہ کے حکم سے ہونے پر دلالت کرتی ہے، جو شاعر کی حیرت کو تقویت دیتی ہے۔ )
دوسری جگہ ارشاد ہے :
” اور ہاں وہ جس نے اللہ کا فضل چاہا تو وہ اس کی رحمت میں داخل ہو گا۔ ” ( حرم میں موجود گی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے، جس پر شاعر حیران ہے۔)
شعر نمبر 6 :
یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگی التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر ، اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر
تشریح: شاعر اپنے روحانی سفر کے ایک انتہائی جذباتی اور اہم پہلو کو بیان کر رہا ہے اور وہ ہے ندامت اور توبہ ۔ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی نورانی فضا اور تقدس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ” یاد آئیں جب اپنی خطائیں ” یعنی اسے اپنے کیے ہوئے گناہ اور کوتاہیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ یہ احساسِ ندامت اتنا گہرا ہوتا ہے کہ ” اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں ” یعنی اس کی دعائیں محض الفاظ میں نہیں رہتیں بلکہ آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں سے جاری ہو جاتی ہیں جو سچی توبہ کی علامت ہے۔ اس جذباتی لمحے میں وہ ” رویا غلاف کعبہ پکڑ کر ” یعنی اللہ کی رحمت اور مغفرت کو پانے کے لیے بے قراری اور عاجزی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ غلاف کعبہ کو پکڑ کر رونا در حقیقت اللہ کی دہلیز پر نہایت عاجزی سے گناہوں کی بخشش طلب کرنا ہے جو اس کی بے پناہ بخشش پر ایمان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تمام کیفیت میں بھی اللہ اکبر” کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے جو اللہ کی ذات کی عظمت اس کے غفور و رحیم ہونے اور اس کی بارگاہ میں ہر گناہ گار کی شنوائی کا یقین دلاتی ہے۔
غلاف کعبہ تھامے ، وہ روتا رہا ہے مسلسل
کہ یا رب معاف کر دے، یہ خطا کار بندہ ہے تیرا
قرآن مجید ارشاد ہے: “(اے پیغمبر!) کہو، اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقینا اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی غفور و رحیم ہے۔” یہ آیت گناہوں سے مایوس نہ ہونے اور توبہ کی قبولیت کا واضح حکم دیتی ہے۔ )
گریہ و زاری کی فضیلت: حدیث نبوی صلی علیم ہے : ” دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں دوزخ کی آگ چھو نہیں سکتی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرا دیتے ہوئے جاگتی رہے۔ ” ( یہ حدیث اللہ کے خوف اور ندامت میں بہائے گئے آنسوؤں کی قدر و قیمت کو بیان کرتی ہے۔ )
شعر نمبر 7 :
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے چوما ہے تجھ کو میرے مصطفی نے
اے سنگ اسود تیرا مقدر اللہ اکبر اللہ اکبر
تشریح : اس شعر میں شاعر سنگ اسود کی غیر معمولی فضیلت اور عظمت کو بڑے والہانہ انداز میں بیان کر رہا ہے۔ یہ وہ مقدس سیاہ پتھر ہے جو خانہ کعبہ کے ایک کونے میں نصب ہے اور جسے طواف کے دوران بوسہ دینے یا اشارہ کرنے کی سنت موجود ہے۔ شاعر اس پتھر کے مقدر (قسمت) پر رشک کا اظہار کرتا ہے، کیونکہ اس کی فضیلت کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ اسے براہ راست جنت سے بھیجا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو اس کی قدسیت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق، یہ پتھر جنت سے نازل ہوا اور ابتدا میں سفید تھا، لیکن بنی نوع انسان کے گناہوں کے باعث سیاہ ہو گیا۔ اس شعر میں شامل ” اللہ اکبر اللہ اکبر” کا ترانہ اس ساری کیفیت پر اللہ تعالٰی کی کبریائی اور عظمت کا ایک پر شکوہ اعتراف ہے۔ گویا سنگ اسود کی اس حیرت انگیز فضیلت کو دیکھ کر ہر مومن کی زبان پر بے اختیار اللہ کی بڑائی کا اقرار آجاتا ہے۔
تری رحمتوں کا بوجھل ہے بار الٰہی
کہ جس کے کرم کا کوئی بھی ہمتا نہ ہو
شعر نمبر 8 :
دیکھا ہے صفا اور مروہ بھی دیکھا رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا
دیکھا وہاں اک سروں کا سمندر اللہ اکبر اللہ اکبر
تشریح: مزید شاعر اپنے مشاہدات اور تجربات کو بیان کر رہا ہے جو اس نے حج یا عمرہ کی ادائیگی کے دوران حاصل کیے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی ( دوڑنا) کی ، جو اسلامی عبادات کا ایک لازمی رکن ہے اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی سنت ہے۔ ان پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور رب کے کرم کا جلوہ ” نظر آیا۔ یہ کرم صرف ظاہری مناظر تک محدود نہیں بلکہ اس روحانی کیف و سرور سے بھی عبارت ہے جو وہاں ہر طرف محسوس ہوتا ہے۔
اس کرم کا ایک بڑا ظاہری اظہار “سروں کا سمندر ” ہے، یعنی دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں کروڑوں مسلمان حاجیوں اور زائرین کا ایک نہ ختم ہونے والا ہجوم جو ایک ہی مقصد کے لیے، یعنی اللہ کی رضا اور اس کے گھر کی زیارت کے لیے یکجا ہوتے ہیں۔ یہ منظر اللہ کی لامحدود قدرت ، اس کی وحدانیت، اور امت مسلمہ کے اتحاد و اخوت کا ایک شاندار ثبوت ہے۔ اس عظیم اجتماع میں ہر رنگ و نسل کے لوگ ایک ہی لباس میں ، ایک ہی سمت اور ایک ہی مقصد کے لیے رواں دواں نظر آتے ہیں۔ یہ منظر انسان کو اللہ کی عظمت کا احساس دلاتا ہے اور اس کے دل میں بے اختیار ” اللہ اکبر ” کا نعرہ گونج اٹھتا ہے ، جو اللہ کی لا محدود شان اور بندوں پر اس کے فضل و کرم کا اعتراف ہے۔
دیکھے وہ طواف کعبہ و زمزم و حطیم
دل کہہ رہا تھا اللہ اکبر اللہ اکبر
شعر نمبر 9 :
مولا صبیح اور کیا چاہتا ہے بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر اللہ اکبر اللہ اکبر
تشریح: یہ شعر حمد کا اختتامی حصہ ہے جہاں شاعر ( اپنا خلص ، صبیح، استعمال کرتے ہوئے) اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اپنی ذاتی التجا اور انتہائی عاجزانہ طلب کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ اپنے پروردگار ، اپنے مولی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اسے دنیا کی کوئی اور چیز در کار نہیں ہے ، نہ مال و دولت کی حرص ہے، نہ جاہ و حشمت کی تمنا۔ اس کی واحد خواہش، اس کی سب سے بڑی تمنا اور طلب اپنے گناہوں کی مغفرت ( بخشش) اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے عنایت ہے۔
یا رب! گناہگار ہوں، نادم ہوں، شرمسار ہوں
تیرے کرم کا طالب ہوں، تیری رضا چاہتا ہوں
وہ خود کو نہایت انکساری سے ” بخشش کے طالب ” (یعنی مغفرت کا طلبگار ) قرار دیتے ہوئے اللہ کی بے پناہ رحمت اور کرم کی بھیک مانگتا ہے۔ یہ اللہ کی شان غفاری اور ستاری پر شاعر کے کامل یقین کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اور اس کی ذات وہ ہے جو تمام گناہوں کو معاف کرنے پر قادر ہے ۔ “بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر ” کا جملہ اس کی دلی تمنا اور اللہ پر اس کے مکمل توکل کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ یہاں بھی ” اللہ اکبر اللہ اکبر ” کی تکرار اللہ کی بے پناہ قدرت، اس کی مغفرت کی وسعت اور اس کی عظمت کو نمایاں کرتا ہے اور یہ اس امید کو تقویت دیتا ہے کہ اللہ کی بڑائی کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں جو معاف نہ ہو سکے۔ یہ شعر بندے کے اپنی رب کے حضور مکمل انکساری، بند گی اور کامل تو کل کو ظاہر کرتا ہے۔