حمد

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم حمد جس کے شاعر ماہر القادری ہیں ۔ اس نظم کے اشعار کی تشریح ، مشکل الفاظ کے معانی اور مفہوم پڑھیں گے ۔

شعر نمبر 1 : 

فکر و دانش کی ہے معراج خدا کا اقرار

یہی وجدان کی آواز ہے فطرت کی پکار

مشکل الفاظ کے معانی : فکر (سوچ) ،  دانش( علم، عقل ، حکمت، سمجھ) ،  معراج ( بلندی ، عروج)  اقرار ( تسلیم کرنا ،  اعتراف کرنا) ،  وجدان ( باطن،  ) ضمیر کی آواز ، ادراک شعور) ،  فطرت ( قدرت مفہوم : انسانی تخیل اور عقل و خرد کی رفعت یہ ہے کہ وہ اللہ کی ذات کو تسلیم کر لے ۔ انسان کے باطن اور فطرت کی پکار بھی یہی ہے کہ اللہ کو مان لیا جائے ۔

تشریح : ماہر القادری نے تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کی اصل شہرت نعت گوئی کی وجہ سے ہے ۔ ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات میں سادگی اور بے تکلفی ہے چونکہ ان کی شاعری کا محور حضور اکرم خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی ہے اس لیے موضوع کی مناسبت سے ان کی زبان پاکیزہ اور شستہ ہے ۔ ان کا دل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور تھا ۔ حضور اکرم خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت ہی اصل ایمان ہے اور یہی عشق ان کی نعتوں کا محور و مرکز ہے ۔ اسی جذبے سے سرشار   ہو کر جب آپ نعت لکھتے ہیں تو سماں بندھ جاتا ہے ۔ حضور اکرم خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہی والہانہ ممحبت آپ کا سرمایہ حیات ہے ۔ آپ کا انتقال بھی مکہ مکرمہ میں ہوا اور وہاں کے مشہور قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

نوٹ : مندرجہ بالا اقتباس آپ اس نظم کے کسی بھی شعر کے شروع میں لکھ سکتے ہیں ۔

تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ انسانی عقل اور فکر و خیال کی بلندی اور رفعت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ہونے کا اقرار کرے۔ اس کی ذات کی معرفت حاصل کرے انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اللہ تعالٰی نے اسے عقل و شعور سے نوازا ہے ۔ وہ عقل سے کام لے کر ہزاروں گتھیوں اور الجھنوں کو سلجھا سکتا ہے ۔ ہزاروں پوشیدہ چیزوں کے رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے ۔ چنانچہ اگر وہ عقل و شعور سے کام لے اور کائنات پر غور کرے تو اللہ کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ زمین و آسمان میں بکھری ہوئی ہزاروں نشانیاں اس بات کی گواہی دیں گیں کہ اس کارخانہ حیات کو چلانے والی کوئی ہستی موجود ہے۔ اس پر عیاں ہوگا کہ یہ کائنات خود بخود وجود میں نہیں آگئی بلکہ اس کا ایک خالق و مالک ہے جس نے ایک مقصد کے تحت اس کائنات اور اس کی مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔ جس طرح ایک مکان کو دیکھ کر اس کے معمار کا تصور ذہن میں آتا ہے ۔ ایک گھڑی کو دیکھ کر گھڑی ساز کا تصور ذہن میں آتا ہے اور کرسی کو دیکھ کر بڑھئی کا تصور ذہن میں آتا ہے اسی طرح کائنات کا بغور مشاہدہ کرنے سے اس کے خالق کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے اور بالا آخر اللہ تعالٰی کی ذات عیاں ہو جاتی ہے ۔ قران مجید میں اللہ تعالٰی جگہ جگہ اپنی پہچان کے لیے اہل عقل کو کائنات کے مشاہدے کی دعوت دیتا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :

ترجمہ :  بے شک زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن اور رات کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔

سورۃ آل عمران آیت نمبر 190

اسی کا یہ جلوہ ہے چاروں طرف

ہزاروں نشاں ہیں ، ہزاروں طرف

خواجہ میر درد

عقل و خرد جتنی بھی ترقی کر لے دنیا کے مسائل کی کتنی ہی گتھیاں سلجھا لے اگر وہ اللہ کی ذات کو نہ پہچان سکے تو وہ گمراہی اور ظلمت کے عمیق گڑھے میں بھٹک رہی ہے گویا اس نے کوئی ترقی نہیں کی ۔ کائنات اور اس میں موجود اشیاء چاند ، ستارے ، سورج ، موسم ، ہوا ، بادل ، بارش ، دریا اور سمندر ذرے( ایٹم) سے لے کر سورج تک ہر چیز میں ایک نظم و ترتیب کا قائم ہونا کسی زبردست خالق کے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔

بقول شاعر :

ہر ایک شے میں جھلک وہ اپنی ربوبیت کی دکھا رہا ہے

نظام اس کائنات کا جو بہ حسن خوبی چلا رہا ہے

دوسرے مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ انسان کے وجدان یعنی باطن اور فطرت کی پکار بھی یہی ہے کہ اللہ تعالٰی کی ذات کو تسلیم کیا جائے ۔ ہر بچہ اس فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے جو اللہ تعالٰی نے اسے ودیعت کی ہے ۔ انسان فطری طور پر متجسس پیدا ہوا ہے ۔ اسے ہر لمحہ کچھ نہ کچھ جاننے کا تجسس رہتا ہے ۔ تحقیق ، جستجو ، ایجاد اور دریافت اس کی فطرت ہے چنانچہ وہ اپنے خالق اور اپنے مقصد تخلیق کو جاننے سے کیوں کر اعتراض کر سکتا ہے ۔ انسان کا باطن یا ضمیر اسے پکار پکار کر کہتا ہے کہ کوئی اس کا خالق ہے وہ بے وجہ اور بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا ۔ انسان کی جسمانی ساخت دل اور خون کا نظام ، دماغ کا نظام ، پھیپھڑوں اور گردوں کا نظام ، ڈی این اے میں پوشیدہ اس کی تمام ہسٹری اس بات کا پکار پکار کر اعلان کر رہی ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے جو زبردست علم والا ہے۔  اللہ تعالٰی قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے ۔

ترجمہ : عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق (اطرافِ عالم) میں بھی اور اس کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ حق واضح ہو جائے۔

سورت حم سجدہ آیت نمبر 53

فطرت میں بکھری ہزاروں نشانیاں اس کی ذات پر دلالت کرتی ہیں صبح و شام ، موسم و  ہوا اور بہار و خزاں اہل دانش پر اس کی ذات کو عیاں کرتے ہیں ۔

شعر نمبر 2 : 

ذرے ذرے کی شہادت کہ خدا ہے موجود

پتے پتے کو ہے صانع کی صفت کا اقرار

مشکل الفاظ کے معانی : شہادت( گواہی) ،  صانع (خالق ،  کاریگر ، بنانے والا ) ، صفت ( خوبی ،  ہنر )

مفہوم : کائنات کا ہر ذرہ اور ہر پتا اللہ کے وجود اور اس کی صفت کاریگری کا گواہ ہے ۔

تشریح :  تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اس بات کا شاہد ہے کہ اللہ  تعالٰی کی ذات برحق ہے ۔ تمام کائنات خدائی مہارت اور صنعت گری کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ جس طرح ایک مکان کو دیکھ کر اس کے معمار کا تصور ذہن میں آتا ہے ۔ ایک گھڑی کو دیکھ کر گھڑی ساز کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے ۔ کرسی کو دیکھ کر بڑھئی کا تصور ذہن میں آتا ہے اور جس طرح تصویر اپنے مصور کا پتہ دیتی ہے ۔ اسی طرح کائنات کی ہر شے اپنے خالق کا پتہ دیتی ہے ۔ ایک معمولی ذرے ایٹم سے لے کر سورج تک کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی تخلیق ذات باری تعالٰی پر دلالت کرتی ہے ۔ ایٹم میں موجود الیکٹران ، پروٹان اور نیوٹران کا نظام از خود نہیں بن گیا بلکہ ان کو بنانے والا اور ایک ضابطے میں باندھنے والا کوئی ہے ۔ ہر ذرہ اللہ کی عظمت اور اس کے وجود کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالٰی کی ذات خالق ہے وہی مالک ہے اور وہی سب کا معبود ہے ۔

بقول شاعر :

ہر ذرہ ہے اس بات کا شاہد کہ خدا ہے

حیراں ہے مگر عقل کے وہ کیسا ہے؟ کیا ہے؟

بقول مولانا ظفر علی خان:

   ہر ایک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے

ہر ایک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا

الغرض کائنات کا بغور مشاہدہ کرنے سے اس کے خالق کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے اور بالاخر اللہ تعالی کی ذات عیاں ہو جاتی ہے ۔ دوسرے مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ ہر پتے کی بناوٹ اور صنعت اللہ کے خالق ہونے کا اقرار کر رہی ہے ۔ پتوں میں سبز مادے کے ذریعے درخت کی غذا بنانے کا نظام ، پتوں کی سطح پر چھوٹے چھوٹے مسام کے ذریعے پانی کے اخراج کا نظام اور گیسوں کے تبادلے کا نظام اس بات کا شاہد ہے کہ اسے بنانے والا اور حسن ترتیب دینے والا کوئی ہے ۔ جو زبردست علم والا ہے ۔جو احسن الخالقین ہے ۔ جو رب العالمین ہے اور جو الہ العالمین ہے ۔ درخت اور ان کے پتے پھل پھول سبھی اللہ کے وجود پر دلالت کرتے ہیں ۔ ہر درخت کے پتے کی بناوٹ الگ ہے ۔ ہر پھول کی خوشبو اور اس کا رنگ ڈھنگ الگ ہے ہر پھل کا ذائقہ مختلف ہے ۔ یہ تنوع اہل علم و عقل کو غور کی دعوت دیتا ہے ۔

بقول امیر مینائی :

رنگ تیرا ، چمن میں بو تیری

خوب دیکھا تو باغباں تو ہے

شعر نمبر 3 : 

اسی خلاق نے جوہر کو توانائی دی

پھول پتوں کو عطا جس نے کیے نقش و نگار

مشکل الفاظ کے معانی : خلاق ( بڑا خالق ، تخلیق کرنے والا) ،  جوہر ( ذرے کا خلاصہ ، ایٹم ) ،  توانائی (قوت ،  طاقت ، حرارت) ،  نقش و نگار (خوبصورتی , کاری گری ، گل کاری ،  بیل بوٹے بنانے کا کام)

مفہوم :  اسی خالق کائنات نے ذرے کو توانائی بخشی اور پھول پتوں کو خوبصورتی عطا کی ۔ تشریح :  تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالٰی ہی وہ خالق ہے کہ جس نے ایک چھوٹے سے ذرے میں توانائی بھر دی ۔ ایک چھوٹے سے ایٹم میں جو آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا ۔ توانائی کا ایک بحر ذخار ہے ۔ آج دنیا سائنسی ترقی کی جتنی بھی منزلیں طے کر رہی ہے اس کی بنیاد ایٹم کی توانائی ہے ۔ ایٹم کو توڑ کر انسانیت کی فلاح کے بہت سے کام لیے جا رہے ہیں ۔ ملکی دفاع اور بجلی کی پیداوار اور اس کی مثال ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ توانائی اسی خلاق اعظم نے پیدا کی ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالٰی نے سورج کو حرارت اور توانائی کا ذریعہ بنایا ہے ۔ سورج سب سے بڑا توانائی کا منبع و ماخذ ہے ۔ اہل زمین کی فصلوں اور پھلوں کے پکنے میں سورج کی حرارت کا عمل دخل ہے ۔ اگر یہ توانائی کا منبع نہ ہو تو دنیا کو اناج اور پھل میسر نہ آئیں ۔ پہننے کو کپڑا نہ ملے ۔ سورج میں ہر لمحہ ہیلیم اور ہائیڈروجن کے کیمیائی عمل سے ذرات کی توڑ پھوڑ ہوتی رہتی ہے ۔ جس کی وجہ سے سورج سے لا متناہی حرارت اور توانائی کا اخراج ہوتا ہے ۔ بلاشبہ یہ اللہ تعالٰی کی خلاقیت اور حکمت کا کرشمہ ہے ۔ بقول مظفر وارثی :

ہر ستارے میں آباد ہے اک جہاں

چاند سورج تیری عظمتوں کے نشاں

پتھروں کو بھی تو نے عطا کی زباں

 جانور ، آدمی کر رہے ہیں سبھی

تیری حمد و ثنا ، اے خدا ، اے خدا

بقول علامہ اقبال :

حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

دوسرے مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ اسی خالق نے پھولوں اور پتوں کو نقش و نگار عطا کیے ۔  اللہ نے اس دنیا کو صرف تخلیق ہی نہیں کیا بلکہ اس کی تزئین و آرائش کا اہتمام بھی کیا ۔ اللہ تعالٰی صرف خالق ہی نہیں بلکہ احسن الخالقین ہے ۔ اس نے کائنات میں جو بھی چیز تخلیق کی اس میں حسن و جمال کا پہلو رکھا ۔ حضور اکرم خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

ترجمہ :  اللہ تعالٰی خود جمیل ہے اور وہ جمال (خوبصورتی) کو پسند فرماتا ہے ۔

صحیح مسلم 265

چنانچہ اللہ تعالٰی نے اس کائنات کو رنگ و بو اور خوبصورت نظاروں سے بھر دیا ۔ پھل ، پھول ، بوٹے اور درخت پیدا کیے ۔ ہر ایک کا رنگ، ڈھنگ ، ذائقہ اور خوشبو دوسرے سے جدا ہے ۔ ہر ایک کا اپنا حسن ہے اور اپنا جوبن اور بانک پن ہے ۔ یہ سب اللہ تعالٰی نے انسان کی حسی جمالیات کی تسکین کے لیے پیدا کیے ۔ الغرض اللہ تعالٰی سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہے ۔ مظاہر فطرت کی رنگینی اور خوبصورتی اسی پر دلالت کرتی ہے ۔

شعر نمبر 4 : 

اسی خالق ، اسی مالک کی ہے سب حمد و ثنا

آبشاروں کا ترنم ہو کہ گل بانگِ ہزار

مشکل الفاظ کے معانی : خالق (پیدا کرنے والا ) ، آبشاروں )جھرنوں ، بلندی سے گرتا ہوا شفاف پانی) ،  ترنم (موسیقی ،  نغمہ، سر )،  گلبانگ( بلبل کے چہکنے کی آواز ، نغمہ سرائی)

مفہوم : جھرنوں کا ترنم ہو اور پرندوں کی نغمہ سرائی اسی اللہ کی حمد و ثنا ہے ۔

تشریح :  تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دریاؤں کی روانی ، آبشاروں اور جھرنوں کا ترنم ، پرندوں کے نغمے اور چہچہے سب اللہ کی حمد و ثنا ہے ۔ اللہ رب العالمین ہے ۔ سارے عالمین کا خالق و مالک ہے اور پالن ہار ہے ۔ اللہ مخلوقات کے رزق کا انتظام کرتا ہے ۔ تمام مخلوقات اپنے خالق و مالک اور رازق کی حمد و ثنا بیان کرتی ہے۔  شاعر نے شعر میں آبشاروں اور بلبل کی حمد و ثنا کا ذکر کیا ہے ۔پہاڑوں پر سخت سردی کی وجہ سے برف جم جاتی ہے پھر اللہ کی قدرت سے سورج کی حرارت اس برف کو پگھلا دیتی ہے ۔ چنانچہ بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں سے پانی نیچے زمین کی طرف بہنا شروع ہو جاتا ہے ۔ کہیں یہ پانی چشموں کی صورت میں بہتا ہوا پہاڑوں سے نیچے آتا ہے اور کہیں آبشاروں اور جھرنوں کی شکل میں پہاڑوں کی بلندی سے نیچے گرتا ہے ۔ گرتے ہوئے پانی کا منظر بہت خوبصورت اور مسحور کن ہوتا ہے ۔ پانی کے گرنے سے ایک خاص طرح کی نغمگی اور ترنم پیدا ہوتا ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ آبشاروں کا یہ نغمہ اور ترنم دراصل اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا ہے ۔ آبشاریں اپنے خالق و مالک کی تسبیح بیان کرتی ہیں ۔ دریاؤں اور چشموں کے پانی سے زمین سیراب ہوتی ہے ۔ پھل ، پھول اور پودے اگتے ہیں ۔ باغات ہرے بھرے ہو جاتے ہیں ۔ سبزہ زار اور گلزار کھلتے ہیں ۔باغوں اور گلزاروں میں پھولوں کو دیکھ کر خوش آواز پرندے بلبل ، کوئل ، طوطا مینا وغیرہ آ کر چہچہانے لگتے ہیں ۔ ہر پرندے کی آواز کا ترنم جدا ہوتا ہے ۔ جب ہزاروں قسم کے پرندے اپنی اپنی بولی میں چہچاتے ہیں تو ہزار طرح کی نغمگی اور ترنم پیدا ہوتا ہے ۔ جو کانوں میں رس گھولتا ہے ۔

شاعر کہتا ہے دراصل پرندوں کا یہ ترنم اور یہ نغمہ بھی اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا ہے ۔ پرندے اپنی اپنی بولی میں اور اپنے رسوم کے مطابق اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔

بقول مظفر وارثی :

ہر سحر پھوٹتی ہے نئے رنگ سے

سبز و گل کھلیں سینہ سنگ سے

گونجتا ہے جہاں تیرے آہنگ سے

جس نے کی جستجو مل گیا اس کو تو

سب کا تو رہنما اے خدا ، اے خدا

شاعر نے گلبانگ ہزار کی ترکیب استعمال کی ہے جس کا مطلب بلبل کی ہزار طرح سے نغمہ سرائی ۔بلبل کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ گلاب کے پھول کی عاشق ہوتی ہے ۔ جہاں گلاب کا پھول کھلتا ہے وہاں بلبل آ کر نغمے گانے لگتی ہے ۔ شاعر کے مطابق یہ نغمے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا ہے ۔ اگرچہ شاعر نے شعر میں آبشاروں اور نغمہ اور بلبل کے نغموں کا ذکر کیا ہے لیکن کائنات کی ہر چیز اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا بیان کرتی ہے اور اپنے خالق و مالک کی عظمت کا اقرار کرتی ہے اس کی تسبیح و تہلیل اور تحمید و تقدیس بیان کرتی ہے جیسا کہ قران مجید میں ارشاد ہے ۔

ترجمہ :  ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو ۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح نہیں سمجھ سکتے ۔ وہ بڑا بردبار اور بخشنے والا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل ایت 44

شعر نمبر 5 : 

یہ سب آیات الٰہی ہیں ذرا غور سے دیکھ

اس کی پھر حمد بیاں کر ، اسی خالق کو پکار

مشکل الفاظ کے معانی : آیات الٰہی (اللہ کی نشانیاں) ، حمد ( اللہ کی تعریف اور شکر گزاری) ،  خالق( پیدا کرنے والا )

مفہوم :  کائنات کی ہر شے اللہ کی نشانی ہے ۔ اے انسان عقل سے کام لے اور اس اللہ کی حمد و ثنا بیان کر اور اسے ہی دعا و عبادت میں پکار ۔

تشریح :  تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مظاہر فطرت کی جتنی بھی چیزیں ہیں یہ سب اللہ کی آیات اور اس کی نشانیاں ہیں جو اللہ کی ذات کے ہونے کی گواہی دیتی ہیں ۔ جس طرح قران اللہ کا کلام ہے اور اس میں موجود آیات اللہ کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اور اس کی توحید بیان کرتی ہیں ۔ اسی طرح مظاہر فطرت اور کائنات کی ہر چیز اللہ کی آیت ہے ۔ اللہ تعالٰی ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتا اور اس کی حقیقت کو کوئی نہیں جان سکتا لیکن لیکن کائنات میں ہر سمت اللہ تعالٰی کی ہزاروں نشانیاں موجود ہیں جو اس کے ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ قران مجید میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔

ترجمہ :  بے شک زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن اور رات کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔

سورۃ آل عمران آیت نمبر 190

یہ کائنات ان گنت آیات الٰہی سے بھری ہوئی ہے جو اہلِ علم و عقل کو دعوت غور و فکر دیتی ہیں ۔ ایک عقل سلیم رکھنے والا شخص اللہ تعالٰی کی کاریگری تخلیق اور نشانیوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اللہ تعالٰی کی ذات کی معرفت حاصل کر سکتا ہے ۔

بقول خواجہ میر درد :

اسی کا یہ جلوہ ہے چاروں طرف

ہزاروں نشاں ہیں ہزاروں طرف

دوسرے مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ اے انسان تجھے بھی اسی خالق و مالک کی حمد و ثنا کرنی چاہیے اور اس سے ہی پکارنا چاہیے ۔ چرند  پرند  صبح اس کی عبادت اور حمد و ثنا کے لیے بیدار ہو جاتے ہیں ۔ تجھے بھی چاہیے کہ تو بھی اپنے خالق و مالک کے حضور سر بہ سجود ہونے کے لیے بیدار ہو جائے ۔ تو اشرف المخلوقات ہے ۔ تجھے اللہ نے عقل و فہم عطا کی اور نطق و گویائی کی نعمت سے نوازا ہے تجھے اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔

بقول مظفر وارثی :

سونپ کر منصب آدمیت مجھے

تو نے بخشی ہے اپنی خلافت مجھے

شوق سجدہ بھی کر اب عنایت مجھے

خم رہے میرا سر ، تیری دہلیز پر

ہے یہی التجا ، اے خدا ، اے خدا

ساری مخلوقات اس کی حمد و ثنا بیان کرتی ہے ۔ہواؤں کے سرسراہٹ ، بادلوں کی گرج ، گھٹاؤں کی لطافت ، سورج کی حدت و تمازت ، چاند کی ٹھنڈی میٹھی چاندنی ، پھولوں کی دل کشی اور صبا و نسیم کے عطر بیز جھونکے ، دریاؤں کی روانی اور سمندروں کی طغیانی ، آبشاروں اور جھرنوں کا جل ترنگ ، خوش آواز پرندوں کے چہچہے غرض سب اللہ کی حمد و ثنا کے انداز ہیں ۔ زمین و آسمان اس کی تعریف و توصیف کے نغمے گنگناتے ہیں ۔ زمین پر جتنی بھی مخلوقات ہیں سب اللہ کی تسبیح و تحمید کے ساز چھیڑتی ہے ۔ کوئی ایسا نہیں جو اس کی حمد کے ترانے اور اس کی توصیف و ثنا کے نغمے نہ گنگناتا ہو ۔ اس لیے اے انسان تجھے بھی اپنے خالق و مالک کے ترانے گانے چاہیئے ۔ اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اسی سے دعا و مناجات کرنی چاہیے۔

شعر نمبر 6 :

اس کی صنعت کے نمونے ہیں وہ نکت ہو کے رنگ

اس کی قدرت کے کرشمے ہیں ، خزاں ہو کہ بہار

مشکل الفاظ کے معانی : صنعت (کاریگری ،  تخلیق ہنرمندی) ،  نکت( خوشبو ،  مہک) ،  کرشمہ( ایسا کام جو عقل کو دنگ کر دے ،  انہونی چیز )

مفہوم : پھولوں کی خوشبو رنگ اور بہار و خزاں اللہ کی ہنرمندی اور قدرت کے کرشمے ہیں ۔

تشریح : تشریح طلب شعر میں شہر کہتا ہے کہ پھول کی دل اویز خوشبو یا پھول کا دل کش رنگ یہ سب اللہ تعالٰی کی صنعت و کاریگری کا نمونہ ہے ۔ اللہ تعالٰی نے رنگ برنگ کے پھول پیدا کیے اور ان میں مسحور کن خوشبو بھر دی ۔ ہر پھول کا رنگ جدا اور ہر پھول کی خوشبو الگ ہے ۔ جب پھولوں سے ٹکرا کر ہوا چلتی ہے تو تمام ماحول کو معطر اور خوشبودار بنا دیتی ہے ۔

بقول امیر مینائی :

مہکتے پھول سے خوشبو جدا کی

یہ ساری مہربانی ہے صبا کی

اللہ کے سوا اور کون ہے جو پھولوں کو دل کشی اور رعنائی عطا کرے اور انہیں معطر کر دے ۔ اگرچہ شاعر نے پھول اور خوشبو کا ذکر کیا ہے لیکن کائنات میں ہر سو حسن فطرت کے نمونے بکھرے پڑے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے اس کائنات کو رنگ و بو اور خوبصورت نظاروں سے بھر دیا ہے ۔ پھل ، پھول ، بیل بوٹے ، چاند ، سورج ، ستارے ، کہکشائیں ، موسم ، دریا ، سمندر ، جنگل ، پہاڑ ، وادیاں ، بادل بارش ، قوسِ قزح ، آبشاریں ، چرند پرند ، جمادات و نباتات غرض کائنات کی ہر شے اپنے اندر حسن و جمال رکھتی ہے ۔ ہر ایک کا اپنا جوبن اور بانکپن ہے ۔ یہ سب اللہ تعالٰی نے انسان کی حس جمالیات کی تسکین کے لیے پیدا کیے ہیں الغرض اللہ تعالٰی سب سے بہترین تخلیق  کرنے والا ہے ۔ مظاہر فطرت کی رنگینی اور خوبصورتی اسی پر دلالت کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے ۔

ترجمہ :  برکتوں والا ہے اللہ جو سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہے ۔

بقول امیر مینائی :

رنگ تیرا چمن میں بو تیری

خوب دیکھا تو باغبات تو ہے

دوسرے مصرع میں شاعر کہتا ہے کہ بہار اور خزاں کا موسم بھی اللہ تعالٰی کی قدرت کاملہ کا ایک کرشمہ ہے ۔ کائنات میں اللہ تعالٰی نے بہت سی چیزیں ایک دوسرے کا الٹ اور متضاد بھی بنائی ہیں تاکہ لوگوں میں شکر گزاری کا احساس اجاگر ہو ۔ پھول کے ساتھ کانٹے بھی پیدا کیے ہیں ۔ سرسبز اور زرخیز زمینوں کے ساتھ ساتھ چٹیل میدان اور صحرا بھی پیدا کیے ہیں ۔ بلندی کے ساتھ پستی بھی رکھی ۔ دن کے ساتھ رات بھی بنائی اور بہار کے ساتھ خزاں کا موسم بھی بنایا ۔ خزاں میں درختوں کے پھول اور پتے جھڑ جاتے ہیں جبکہ بہار کے موسم میں پھر سے نئے پتے اور پھول کھل جاتے ہیں ۔ گویا کائنات نئے سرے سے حسین ہو جاتی ہے اور نئے انداز سے سنگھار کر لیتی ہے ۔ یہ سب اللہ تعالٰی کی قدرت کاملہ ہے کہ وہ جو چاہے تخلیق کر سکتا ہے ۔

بقول شاعر :

سب ہیں اسی کے حکم سے دن ہو کہ رات ہو

شام خزاں اسی کی ہے ، صبحِ بہار بھی

نوٹ : امید ہے کہ آپ نظم” حمد ” از ماہر القادری کی تشریح و توضیح  کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہوں گے ۔ اگر اس پوسٹ میں آپ کو کوئی غلطی نظر آئے یا اس کو مزید بہتر کیسے کیا جائے تو کومنٹس میں ہماری ضرور اصلاح فرمائیں اور اگر اس سے متعلقہ کچھ سمجھ نہ پائیں تو بھی کومنٹس کر کے پوچھ سکتے ہیں ۔

Leave a Reply