آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم نعت ” دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھیں تو ہو” کی تشریح ، مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی پڑھیں گے ۔
شعر نمبر 1 :
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تم ہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی: دل ( قلب، انسان کا باطنی اور روحانی مرکز ) ، زندہ (جیتا جاگتا، متحرک) ، تمنا ( آرزو، خواہش) ، دنیا (عالم، زندگی، حیات)
مفہوم : میرا دل جس جذبے کی وجہ سے زندہ ہے اور میں جس دنیا میں بس رہا ہوں وہ دنیا اور وہ جذبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ہی ہے ۔
تشریح: اس شعر میں شاعر نے نبی کریم ﷺ سے اپنی محبت، عقیدت، اور روحانی وابستگی کا اظہار انتہائی مؤثر اور دلنشین انداز میں کیا ہے۔ شاعر اس شعر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور گل ہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “دل جس سے زندہ ہے” یعنی میرا دل جس تمنا، خواہش یا جذبے کی وجہ سے زندہ ہے، وہ تمنا تم ہی ہو، یا رسول اللہ ﷺ! گویا میری زندگی کی اصل روح، اصل محبت، اصل تمنا صرف اور صرف آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔”ہم جس میں بس رہے ہیں” یعنی جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں، وہ دنیا بھی آپ ہی کی بدولت ہے۔ اس دنیا میں اگر کوئی روشنی، مقصد یا کشش ہے تو وہ آپ ﷺ ہی کی ذات کی وجہ سے ہے۔
بقول علامہ اقبال :
کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ شعر اس عقیدے کا اظہار ہے کہ نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کا مرکز ہے اور مومن کی زندگی کا اصل جمال و کمال آپ ﷺ کی نسبت سے ہے۔
اب ہم اس شعر کی تشریح میں بطور حوالہ قرآن و حدیث بھی پیش کر سکتے ہیں جیسا کہ ۔
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ … أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ … فَتَرَبَّصُوا
(التوبہ 24)
ترجمہ : “کہہ دو اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، قبیلے، تمہاری کمائی ہوئی دولت تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ عزیز ہیں، تو انتظار کرو “
“لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين”
(صحیح بخاری)
ترجمہ: “تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں (نبی ﷺ) اُسے اس کے باپ، بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
شعر نمبر 2 :
جو ما سوا کی حد سے بھی آگے نکل گیا
اے راہ نورد جادہ اسری تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی:سوا (اللہ کے سوا سب کچھ کائنات، مخلوق، دنیا) ، حد (سرحد، آخری مقام ) ، راہ نورد (مسافر، سفر کرنے والا ) ، جادۂ اسریٰ (معراج کی راہ، واقعۂ معراج میں طے ہونے والا راستہ)
مفہوم: آپ ﷺ کی رفعتِ مقام ایسی ہے کہ ما سوا کی تمام حدود کو عبور کر کے آپ ﷺ رب کے قرب تک پہنچے جہاں کسی فرشتے کی رسائی بھی ممکن نہ تھی ۔
تشریح: اس شعر میں شاعر حضور نبی اکرم ﷺ کے عظیم مرتبے کو بیان کر رہا ہے۔”ما سوا کی حد” سے مراد مخلوق کی آخری سرحد ہے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی آگے نہیں جا سکے لیکن رسول اللہ ﷺ وہ ہستی ہیں جو اس حد سے بھی آگے رب کے قرب کا مشاہدہ کرنے گئے۔
شاعر حضور اکرم ﷺ کو راہ نوردِ جادۂ اسریٰ یعنی سفرِ معراج کے راہی قرار دے رہا ہے جنہوں نے وہ سفر طے کیا جو کسی اور کے بس میں نہیں تھا۔
بقول اقبال:
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
یہ شعر واقعۂ معراج النبی ﷺ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی آتا ہے جیسا کہ :
1. سورۃ الاسراء (17:1):
> “سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی…”
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی…
2. سورۃ النجم (53:13-18):
> “وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ * عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ…
اور بے شک انہوں نے (جبریل کو) دوسری بار بھی دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس…
سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں حضرت جبرائیلؑ نے کہا تھا: “اگر میں ایک بال برابر بھی آگے بڑھا، تو جل جاؤں گا!” اور وہاں رسول اکرم ﷺ اکیلے آگے تشریف لے گئے۔ یہی نکتہ اس شعر میں بیان ہوا ہے کہ آپ ﷺ “ما سوا کی حد” سے بھی آگے نکل گئے۔
حدیثِ معراج:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں حضرت جبرائیل بھی ساتھ نہ جا سکے۔ میں نے رب کا دیدار کیا۔”
(مشکوٰۃ المصابیح، صحیح مسلم کی احادیث کے مطابق)
واللہ اعلم باالصواب
شعر نمبر 3 :
گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاجدارِ یثرب و بطحا تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی : گرتے ہوؤں (گناہوں، مایوسی، گمراہی یا مصیبت میں مبتلا لوگ) ، تھام لیا (بچا لیا، سہارا دیا، نجات دی) ، تاجدار (بادشاہ، آقا، سردار) ، یثرب (مدینہ کا پرانا نام) ، بطحا (مکہ مکرمہ اور اس کا قرب و جوار )
مفہوم : گناہ گاروں، مایوسی کی زندگی گزارنے والے اور دنیا کی ٹھوکروں سے گرنے والوں کو آپ ﷺ کا دستِ رحمت بچاتا ہے ۔ مدینہ و مکہ دونوں کے روحانی بادشاہ آپ ﷺ ہی تو ہیں ۔
تشریح : یہ شعر نبی کریم ﷺ کی محبت، رحمت، شفاعت اور روحانی بادشاہت کا پراثر بیان ہے۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ: گناہگاروں، مایوسوں ، اور دنیا کی ٹھوکروں سے گرنے والوں کو آپ ﷺ کا دستِ رحمت بچاتا ہے ۔
گرتے ہوؤں سے مراد وہ لوگ ہیں جو گناہوں کی پستی میں گر چکے ہیں یا روحانی طور پر کمزور، ایمان سے دور یا زندگی کے مسائل سے شکستہ ہوں ان کے بارے میں شاعر بیان کرتا ہے کہ اس گری ہوئی انسانیت کو سہارا دینے والا ہاتھ وہ رحمت بھرا ہاتھ، صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کا ہے، جنہوں نے: انسانیت کو کفر و شرک سے نکالا ، گناہگاروں کو رحمت کی پناہ دی اور امت کو ناامیدوں کو امید دی ۔
مزید شاعر رسول اللہ ﷺ کو یثرب (مدینہ) اور بطحا (مکہ) دونوں کا تاجدار کہتا ہے یعنی آپ ﷺ تمام حرمین کے سردار، محبوب، آقا اور رہنما ہیں ۔ یہ صرف جغرافیائی یا سیاسی سرداری نہیں، بلکہ روحانی، اخلاقی، اور الٰہی مقام کا اعلان ہے۔
بقول شاعر :
جو جھک کے تھام لے دامن گناہگاروں کا
وہی شفیع ہے، وہی تاجدار ہے، آقا
ﷺ
اب ہم اس شعر کا تعلق قرآن و حدیث سے معلوم کرتے ہیں ۔
رحمت للعالمین:
> “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
(سورۃ الانبیاء: 107)
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے”
: شفاعتِ کبری
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن سب انبیاء معذرت کریں گے، لیکن رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے:
“أنا لها، أنا لها”
“میں (شفاعت کے لیے) موجود ہوں”
(صحیح بخاری، کتاب التوحید)
: مقامِ محمود
> “عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا”
(سورۃ بنی اسرائیل: 79)
“امید ہے کہ تیرا رب تجھے مقامِ محمود عطا فرمائے گا”
شعر نمبر 4 :
دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ ، وہ تنہا تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی : رحمتِ دو جہاں ( دنیا و آخرت یعنی دونوں جہانوں کے لیے سراپا رحمت ہستی ) ، نظیر ( مثل، برابر، ہم پلّہ ، مانند ، تنہا اکیلا، واحد، جس کی کوئی نظیر نہ ہو )
مفہوم : دو جہانوں کے لیے رحمت صرف آپ ﷺ ہیں
اور ایسی بے نظیر ہستی دنیا میں کوئی اور نہیں ہے ۔
تشریح: تشریح طلب شعر میں شاعر تسلیم و اعتراف کے ساتھ ایک سوالیہ انداز میں بیان کرتا ہے کر پوری دنیا میں اور دونوں جہانوں (دنیا و آخرت) میں ایسی رحمت والی ہستی اور کون ہے؟ جس کی رحمت انسانوں، جنات، جانوروں، درختوں، بلکہ پوری کائنات کے لیے ہو؟ اس کا جواب خود شعر میں ہے:
“بس آپ ﷺ ہی ہیں۔”
یہاں شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ بے نظیر ہیں۔ ان جیسا کوئی ہوا ہے نہ ہو گا ۔ آپ ﷺ کی صفات، مقام، سیرت، قربِ الٰہی ایسی ہے کہ کسی اور کے لیے ممکن ہی نہیں ۔
“وہ تنہا تم ہی تو” میں تاکید کا خوبصورت انداز ہے کہ ایسی ہستی محض تم ہی ہو یا رسول اللہ ﷺ!
بقول اقبال :
کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
احمد رضا خان بریلویؒ:
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
(یعنی خدا کے بعد سب سے بلند مقام آپ ﷺ کا ہے)
اب ہم قرآن و سنت سے اس شعر کی کچھ مثالیں لیتے ہیں جیسا کہ:
“وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
(سورۃ الانبیاء: 107)
“اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے” ۔
یہی “رحمتِ دو جہاں” کا قرآنی اعلان ہے۔
مقامِ لا نظیر:
“وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ”
(سورۃ الشرح: 4)
“اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا”
اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے خود رسول اللہ ﷺ کو ایسا بلند مقام دیا جس کی نظیر نہیں۔
شفاعتِ کبریٰ (سب سے اعلیٰ مقام):
حدیث شریف کے مطابق:
قیامت کے دن ساری مخلوق پریشان ہو گی، سب انبیاء معذرت کریں گے، مگر رسول اللہ ﷺ فرمائیں گے:
“أنا لها، أنا لها”
یعنی “میں اس کے لیے ہوں”
یہ شفاعتِ کبریٰ کا منصب کسی اور کو نہیں دیا گیا۔
شعر نمبر 5 :
پھوٹا جو سینۂ شبِ تارِ اَلست سے
اس نورِ اوّلیں کا اُجالا تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی : پھوٹا ( ظاہر ہوا، نکلا، نمودار ہوا ) ، سینۂ شبِ تارِ الست ( عہدِ ازل کی تاریک رات کا سینہ، یعنی کائنات کے آغاز سے پہلے کا گہرا اندھیرا) ، اَلست قرآن کی اصطلاح: “ألستُ بربکم؟”، یعنی “کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟” — اس موقعے کو یومِ الست کہتے ہیں ۔ نورِ اوّلیں ( سب سے پہلا نور، مراد: نورِ محمدی ﷺ) ، اُجالا( روشنی، نور، چمک)
مفہوم : جب کائنات کی تاریکیوں میں کچھ بھی نہ تھا تو سب سے پہلا نور جو ظاہر ہوا وہ نبی کریم ﷺ کا نور تھا ۔ اسی نور نے پوری کائنات کو روشنی بخشی ۔
تشریح: اس شعر میں شاعر عہدِ الست (یعنی “یومِ الست”) کی طرف اشارہ کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے فرمایا :
“ألستُ بربکم؟”
(“کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟”)
“شبِ تار” کا مطلب ہے ازل کی وہ تاریکی جب نہ زمین تھی، نہ آسمان، نہ وقت، نہ مخلوق۔
“سینہ پھوٹنا” ایک استعاراتی اظہار ہے، یعنی اُس ازلی تاریکی کے پردے کو پھاڑ کر جو پہلی روشنی ظاہر ہوئی، وہ نورِ محمدی ﷺ تھا۔ یعنی جو سب سے پہلا نور اللہ نے پیدا فرمایا، وہ نورِ محمدی ﷺ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اُسی نور کی روشنی سے تمام کائنات منور ہوئی اور وہ نورِ اوّلین تم ہی ہو اے نبی کریم وہ نور اولیں تم ہی ہو ۔
اب ہم اس شعر کی تشریح قرآن و سنت میں کرتے ہیں :
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِیٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ ۖ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ
“اور جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور اُن سے خود ان کے بارے میں گواہی لی: ‘کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟’ وہ سب بولے: کیوں نہیں!” ۔
یہی یومِ الست ہے جس کی “شبِ تار” کی ترکیب یہاں استعمال ہوئی۔
نورِ محمدی ﷺ کی حدیث :
“أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ نُورِي”
“اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا”
(بحوالہ: امام عبدالرزاق، امام بیہقیؒ، و دیگر محدثین — اگرچہ سند میں اختلاف ہے، لیکن اہلِ تصوف و نعتیہ ادب میں اس کا قبول عام ہے ۔
شعر نمبر 6 :
جلتے ہیں جبریل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی : جبریل (حضرت جبرائیلؑ، وحی لانے والے عظیم فرشتے) ، پر جلنا ( استعارہ ہے یعنی وہاں تک جانا ممکن نہیں، نورانی قوت بھی بے بس ہو جائے) ، مقام (وہ بلند روحانی درجہ ، یہاں مراد مقامِ معراج ہے ) حقیقتوں کے شناسا ( رازوں اور حقیقتوں کو جاننے والے، معرفت رکھنے والے)
مفہوم : جہاں حضرت جبرائیلؑ جیسا مقرب فرشتہ بھی ٹھہر گیا لیکن رسولِ خدا ﷺ وہاں تنہا آگے بڑھے اور اُس مقامِ قرب و حقیقت کے رازوں کے شناسا صرف آپ ﷺ ہی ہیں ۔
تشریح : اس شعر میں واقعۂ معراج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ وہ مقام جہاں حضرت جبریلؑ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رک کر کہا:
“یا رسول اللہ ﷺ! اگر میں ایک بال برابر بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا! یہ وہ عرشی مقام ہے جہاں فرشتوں کی بھی پرواز ختم ہو جاتی ہے، یعنی وہاں صرف نبوت کا نور ہی جا سکتا ہے ۔ عقل، فرشتہ، وحی، علم سب کی حد ختم ہو جاتی ہے ۔ یعنی اس مقام کے اسرار، انوار، حقیقتیں اور مشاہدات صرف رسول اکرم ﷺ ہی جانتے ہیں ۔ نہ کوئی نبی، نہ فرشتہ، نہ ولی یہ مقام صرف مصطفیٰ ﷺ کا نصیب ہے ۔
بقول حفیظ تائب:
وہی جو عرش کے پردے میں نور کا منظر
وہی جو سدرة المنتہیٰ میں جلوہ گر آیا
اب اس شعر کی مزید وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتے ہیں ۔
سورۃ النجم (آیات 13–18):
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ * عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ * عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ * إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ * مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ * لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
ترجمہ:
“اور بے شک انہوں نے (محمد ﷺ نے) اسے دوسری مرتبہ بھی دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب۔ جس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا وہ جو کچھ چھا رہا تھا۔ نہ نگاہ ٹیڑھی ہوئی اور نہ حد سے بڑھی۔ یقیناً انہوں نے اپنے رب کی سب سے بڑی نشانیاں دیکھیں ” ۔
ان آیات میں مقامِ سدرة المنتہیٰ کا ذکر ہے، جہاں تک جبریلؑ بھی ساتھ گئے، اور وہاں سے رسول اللہ ﷺ تنہا آگے بڑھے۔
حدیثِ معراج (صحیح مسلم):
حضرت جبریلؑ نے فرمایا:
“یا محمد ﷺ! اس مقام سے آگے میرا گزر نہیں، اگر میں ایک قدم بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا۔”
شعر نمبر 7 :
سب کچھ تمھارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایت اولی تم ہی تو ہو
مشکل الفاظ کے معانی: سب کچھ (پوری کائنات، مخلوق، اجرام، زمین و آسمان ، واسطے ( سبب، خاطر، وجہ) ، غایت ( مقصد، انتہا، انجام) ، غایتِ اولیٰ ( سب سے اعلیٰ، برتر، اولین اور آخری مقصد ) تم ہی تو ہو ( اشارہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کی طرف)
مفہوم :کائنات کی تخلیق کا اصل سبب نبی کریم ﷺ کی ذات ہے اور کائنات کی ہر غایت، ہر مقصد، ہر ہدف کی حقیقی انتہا بھی آپ ﷺ ہی ہیں ۔
تشریح: یہ نعتیہ شعر نہایت ہی عارفانہ، توحیدی اور حقیقتِ محمدیہ ﷺ پر مبنی کلام ہے جس میں شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ کائنات کی ہر شے کا مقصد و مرکز نبی کریم ﷺ ہی ہیں۔ یہ شعر نبی کریم ﷺ کی عظمتِ ازلی اور وجودِ کائنات کے مقصد کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے ۔ ساری کائنات، تمام مخلوقات، زمین و آسمان، دن اور رات، فرشتے، انبیاء، سب کچھ نبی کریم ﷺ کی خاطر تخلیق کیا گیا۔
یہ تصور عقیدۂ حقیقتِ محمدیہ ﷺ کی بنیاد ہے کہ حضور ﷺ سببِ تخلیقِ کائنات ہیں۔ یعنی ہر مقصد،
ہر ہدف، ہر منزل کی اصل انتہا، اعلیٰ ترین حقیقت وہ نبی کریم ﷺ کی ذات ہے۔ تمام الہامی کتابوں، نبوّتوں، عبادات، اخلاق، حتیٰ کہ خود نظامِ ہدایت کی آخری غایت مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مقدسہ ہے۔
بقول حفیظ تائب :
جہاں کو کوئی بھی مقصد ملا ہے
تو وہ ابتدا تم سے ہے، انتہا تم سے ہے
اب ہم اس شعر کی مزید وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتے ہیں ۔
(سورۃ الانبیاء: 107):
“وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے”
یعنی آپ ﷺ کی ذات تمام جہانوں کا مرکزِ رحمت ہے
حدیثِ قدسی :
“لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ”
(“اگر تُو نہ ہوتا [اے محمد ﷺ] تو میں آسمان و زمین کو پیدا نہ کرتا”)
اگرچہ سنداً ضعیف ہے، لیکن متصوفانہ اور نعتیہ روایت میں اسے حقیقتِ محمدیہ ﷺ کے اظہار کے لیے قبول کیا گیا ہے۔
سورۃ احزاب (33:45-46):
“يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا”
یعنی: آپ ﷺ روشن چراغ، نبی، رہنما، ہدایت دینے والے ہیں اور تمام مقصدوں کا مرکز ہیں ۔
نوٹ : امید ہے کہ آپ نظم ” نعت ” کی تشریح کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہوں گے ۔ اگر اس پوسٹ میں آپ کو کوئی غلطی نظر آئے یا اس کو مزید بہتر کیسے کیا جائے تو کومنٹس میں ہماری ضرور اصلاح فرمائیں اور اگر اس سے متعلقہ کچھ سمجھ نہ پائیں تو بھی کومنٹس کر کے پوچھ سکتے ہیں ۔