سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت نہم فیڈرل بورڈ کی غزل ” سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا ” کی تشریح و وضاحت کریں گے ۔

خواجہ حیدر علی آتش

شعر 1  :

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا افسانہ کیا

    کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

تشریح : خواجہ حیدر علی آتش کو دبستان لکھنو کا نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے ۔ ان کے کلام میں دونوں دبستانوں (دلی اور لکھنو) کی خصوصیات ملتی ہیں۔وہ ایک درویش صفت شاعر تھے۔ ان کا مزاج قلندرانہ تھا۔

تشریح طلب شعر میں شاعر اپنا احتساب کر رہا ہے۔ وہ خود سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ خلق خدا کی آواز کو غور سے سن کہ وہ تیرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ کیا وہ تیری غیر موجودگی میں تجھے اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں یا تیرا گلا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وہ تیری برائی بیان کرتے ہیں تو آواز خلق کو تقارہ خدا سمجھو اور خود کو سدھار لو۔ اپنے رویے پر غور کرو اور اسے بہتر بناو۔

اس شعر کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاعر نے اس شعر میں حاکم وقت کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ تیرے ڈر اور خوف کی وجہ سے تیرے سامنے لوگ تجھے برا بھلا نہیں کہتے بلکہ تیری خوشامد کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر تیری غیر موجودگی میں لوگ تیرے بارے میں درست رائے نہیں رکھتے اور تجھے برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔

شعر 2 :

زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف

    قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا

تشریح : تشریح طلب شعر میں شاعر نے صنعت تلمیح اور صنعت حسن تعلیل کو بڑی خوب صورتی سے استعمال کیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ایک بادشاہ قارون تھا جسے اللہ نے مال و زر سے خوب نوازا تھا مگر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے حق کی دعوت دی تو اس نے دعوت توحید کو ماننے سے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا۔اس شعر میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ قارون کا خزانہ زمین میں دھنس گیا تھا وہ اب آہستہ آہستہ پھولوں کے زردانوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اب جو بھی پھول زمین سے اگتا ہے وہ سونے میں لپٹا ہوا اگتا ہے۔

شعر 3 :

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر

    دل صاف ہو تیرا تو ہے آئینہ خانہ کیا

تشریح : تشریح طلب شعر میں شاعر خود کو عشق کی حقیقت سے آگاہ کر رہا ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ ہمارا دل دنیاوی لذتوں اور نعمتوں میں اس قدر مگن ہو گیا ہے کہ اسے اپنے بنانے والے کا خیال ہی نہیں آتا۔ دل دنیا کی محبت میں گرفتار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر دل کو دنیا کی محبت سے پاک کر لیا جائے تو پھر ہر وقت اور ہر جگہ اللہ کی محبت نظر آئے گی۔

بقول اقبال:

  جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

  وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں

اس شعر کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کو جس سے محبت ہو اس کا چہرہ ہر جگہ نظر آتا ہے۔ شاعر نے دل کو آئینہ خانہ سے تشبیہ دی ہے۔ آئینہ خانہ سے مراد ایسا کمرہ ہے جس کے چاروں طرف شیشہ لگا ہو۔ آئینہ خانہ میں ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ اگر دل کو بھی آئینہ خانہ بنا لیا جائے تو ہر طرف محبوب کا چہرہ ہی نظر آتا ہے۔

بقول شاعر:

دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار

  جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

شعر  4 : 

آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو

    دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

تشریح : اس شعر میں شاعر نے ایک اٹل اور ناقابلِ تردید حقیقت کو بیان کیا ہے ۔ شاعر کہتا ہے جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے جانا ضرور ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے۔ ” ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔” روح قبض کرنے کی ذمہ داری حضرت عزرائیل کے سپرد ہے۔ موت سے کسی کو فرار نہیں۔ یہ زندگی عارضی ہے اور کسی وقت اور کس مقام پر بھی ہمارا ساتھ چھوڑ سکتی ہے مگر جب موت آتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ ضرور ساتھ لاتی ہے۔

بقول شاعر:

    آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

    ساماں سو برس کا پل کی خبر نہیں

شاعر کہتا ہے کہ میری موت میری روح کو نکالنے کے لیے کون سا بہانہ ڈھونڈ رہی ہے۔ میری موت کا سبب کیا بنتا ہے۔ جب موت آتی ہے تو کوئی نا کوئی بہانہ ضرور ساتھ لاتی ہے۔

شعر 5 :

طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال

    ہم سے خلاف ہو کر کرے گا زمانہ کیا

تشریح : خواجہ حیدر علی آتش قلندرانہ اور درویشانہ مزاج کے شاعر تھے۔ اس شعر میں بھی وہ اپنی درویشی اور قلندری کی صفت بیان کرتے ہیں۔ رواج عام ہے کہ لوگ شہرت یا مال و دولت کی خواہش رکھتے ہیں اور جن کے پاس یہ چیزیں ہوتی ہیں ان کی مخالفت کی جاتی ہے جبکہ شاعر کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے پاس تو نہ طبل و علم ہے اور نہ ہی میرے پاس مال و زر ہے تو میری کوئی مخالفت کر کے کیا کرےگا۔ شاعر کی زندگی ایک درویشانہ زندگی تھی۔ وہ فقیر منش انسان تھے۔ اور یہی خوبی ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔

بقول شاعر :

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

    میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

شعر 6 :

  یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے

    آتش غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا

تشریح : مقطع کے اس شعر میں شاعر شاعرانہ تعلی سے کام لے رہا ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنی غزل کی تعریف کی ہے اور مدعی سے کہتا ہے کہ حسد اور بغض کی وجہ سے اگر کوئی میری غزل کی داد نہ دے تو نہ دے ورنہ میری غزل میں کوئی کمی نہیں اور یہ ایک خوب صورت کلام ہے جس کی داد بنتی ہے۔

مدعی کا لفظ شاعر نے اپنے ہم عصر شاعر شیخ امام بخش ناسخ کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ دونوں ایک ہی عہد کے شاعر تھے اور ان دونوں کے درمیان اکثر شاعرانہ چشمک ہوتی رہتی تھی۔ شاعر حیدر علی آتش امام بخش ناسخ سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ حسد اور بغض کی وجہ سے تو اگر میرے کلام کی تعریف نہ کرے تو یہ الگ بات ہے مگر میرا کلام قابل  تعریف ہے۔

بقول شاعر :

    جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہرگز

    تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا

نوٹ : امید ہے کہ آپ حیدر علی آتش کی اس غزل کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہوں گے ۔ اگر اس پوسٹ میں آپ کو کوئی غلطی نظر آئے یا اس کو مزید بہتر کیسے کیا جائے تو کومنٹس میں ہماری ضرور اصلاح فرمائیں اور اگر اس سے متعلقہ کچھ سمجھ نہ پائیں تو بھی کومنٹس کر کے پوچھ سکتے ہیں ۔

شکریہ

Leave a Reply