صنعتِ مراعات النظیر کیا ہے؟ تعریف، مثالیں اور مکمل وضاحت

صنعتِ مراعات النظیر کیا ہے؟ تعریف، مثالیں اور مکمل وضاحت

اردو شاعری میں شاعر اپنے کلام کو خوبصورت، مؤثر اور دلکش بنانے کے لیے مختلف ادبی صنعتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ صنعتِ مراعات النظیر بھی علمِ بدیع کی ایک اہم صنعت ہے۔ اس میں شاعر کسی ایک چیز کا ذکر کرنے کے بعد اس سے مناسبت رکھنے والی دوسری چیزوں کا ذکر کرتا ہے، جس سے شعر میں معنوی حسن اور خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔

اس مضمون میں ہم صنعتِ مراعات النظیر کی تعریف، اس کی خصوصیات اور شعری مثالوں کے ذریعے اسے آسان انداز میں سمجھیں گے۔

صنعتِ مراعات النظیر کیا ہے؟

جب شاعر یا ادیب کلام میں کسی ایک چیز کا ذکر کرے اور پھر اسی چیز سے مناسبت رکھنے والی دوسری چیزوں کا ذکر کرے، اور ان چیزوں کے درمیان تضاد نہ ہو، تو اسے صنعتِ مراعات النظیر کہتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، اس صنعت میں ایسی چیزوں کو ایک ساتھ بیان کیا جاتا ہے جو ایک دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے تعلق یا مناسبت رکھتی ہوں۔

مثلاً اگر شاعر باغ کا ذکر کرے تو اس کے ساتھ پھول، پتے، شاخ، پھل اور کلی کا ذکر بھی کرے تو ان الفاظ میں باہمی مناسبت پائی جاتی ہے۔

مراعات النظیر کا آسان مفہوم

مراعات کے معنی رعایت کرنا اور نظیر کے معنی مثل یا مشابہت رکھنے والی چیز کے ہیں۔

اس لیے مراعات النظیر کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:

کلام میں ایک چیز کے ساتھ اس سے مناسبت رکھنے والی دوسری چیزوں کا ذکر کرنا مراعات النظیر کہلاتا ہے۔

صنعتِ مراعات النظیر کی اہم خصوصیات

اس صنعت کو پہچاننے کے لیے درج ذیل باتیں یاد رکھیں:

  • کلام میں متعدد چیزوں کا ذکر ہوتا ہے۔
  • ان چیزوں کے درمیان باہمی مناسبت یا تعلق ہوتا ہے۔
  • ان چیزوں میں تضاد نہیں ہوتا۔
  • اس صنعت کا تعلق زیادہ تر معنی اور مفہوم کے حسن سے ہوتا ہے۔
  • یہ صنائعِ معنوی میں شمار ہوتی ہے۔
  • اس سے شعر میں معنوی خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔

صنعتِ مراعات النظیر کی شعری مثال

مندرجہ ذیل شعر ملاحظہ کریں:

ہوا مرا ریشۂ امید وہ نخلِ سرسبز
جس کی ہر شاخ میں ہو پھول، ہر ایک پھول میں پھل

اس شعر میں نخل، شاخ، پھول اور پھل ایک دوسرے سے مناسبت رکھنے والی چیزیں ہیں۔

یہ تمام الفاظ درخت اور باغ سے متعلق ہیں، اس لیے ان میں باہمی مناسبت پائی جاتی ہے اور یہاں صنعتِ مراعات النظیر موجود ہے۔

صنعتِ مراعات النظیر کی ایک اور مثال

مشہور شعر:

پتا پتا، بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

اس شعر میں:

  • پتا
  • بوٹا
  • گل
  • باغ

یہ تمام الفاظ نباتات اور باغ سے متعلق ہیں اور ایک دوسرے سے مناسبت رکھتے ہیں۔

اسی باہمی مناسبت کی وجہ سے اس شعر میں صنعتِ مراعات النظیر پائی جاتی ہے۔

مراعات النظیر اور تضاد میں فرق

مراعات النظیر اور صنعتِ تضاد کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

مراعات النظیر میں ایسی چیزیں جمع کی جاتی ہیں جن میں باہمی مناسبت ہو اور تضاد نہ ہو۔

مثلاً:

پھول، باغ، شاخ، پتے، پھل

یہ سب ایک دوسرے سے مناسبت رکھتے ہیں۔

اس کے برعکس صنعتِ تضاد میں دو ایسے الفاظ یا خیالات لائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف یا متضاد ہوں۔

مثلاً:

دن اور رات

یہاں دن اور رات ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس لیے یہ تضاد کی مثال ہے۔

مراعات النظیر کو کیسے پہچانیں؟

اگر کسی شعر میں صنعتِ مراعات النظیر تلاش کرنی ہو تو سب سے پہلے اہم الفاظ کو الگ کریں اور دیکھیں کہ کیا وہ ایک ہی موضوع، چیز یا میدان سے تعلق رکھتے ہیں۔

مثلاً:

باغ، پھول، شاخ، پتے، پھل

ان سب کا تعلق باغ اور نباتات سے ہے، اس لیے یہاں مراعات النظیر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

روزمرہ زندگی سے مراعات النظیر کی مثالیں

یہ صنعت صرف شاعری تک محدود نہیں۔ عام نثر میں بھی باہمی مناسبت رکھنے والے الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

مثلاً:

کسان نے کھیت میں ہل چلایا، بیج بوئے، فصل اگائی اور اناج حاصل کیا۔

یہاں کسان، کھیت، ہل، بیج، فصل اور اناج ایک دوسرے سے متعلق الفاظ ہیں۔

اسی طرح:

استاد نے کتاب کھولی، سبق پڑھایا، سوالات پوچھے اور طلبہ نے جوابات دیے۔

یہاں استاد، کتاب، سبق، سوالات اور طلبہ میں باہمی مناسبت پائی جاتی ہے۔

صنعتِ مراعات النظیر کس قسم کی صنعت ہے؟

صنعتِ مراعات النظیر کا تعلق صنائعِ معنوی سے ہے کیونکہ اس کا حسن بنیادی طور پر الفاظ کی ظاہری مشابہت کے بجائے ان کے درمیان موجود معنوی تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔

خلاصہ

صنعتِ مراعات النظیر علمِ بدیع کی ایک اہم صنائعِ معنوی ہے۔ جب کلام میں کسی ایک چیز کا ذکر کرنے کے بعد اس سے مناسبت رکھنے والی دوسری چیزوں کا ذکر کیا جائے اور ان میں باہمی تضاد نہ ہو تو اسے صنعتِ مراعات النظیر کہتے ہیں۔

پھول، شاخ، پتے، پھل اور باغ اس صنعت کو سمجھنے کی آسان مثال ہیں کیونکہ یہ سب ایک دوسرے سے معنوی مناسبت رکھتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

صنعتِ مراعات النظیر کیا ہے؟

کلام میں ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جو ایک دوسرے سے مناسبت رکھتی ہوں اور ان میں تضاد نہ ہو، صنعتِ مراعات النظیر کہلاتا ہے۔

مراعات النظیر کس قسم کی صنعت ہے؟

مراعات النظیر صنائعِ معنوی میں شامل ہے۔

مراعات النظیر کی ایک مثال کیا ہے؟

پھول، شاخ، پتے اور پھل ایک دوسرے سے مناسبت رکھتے ہیں، اس لیے ان کا باہم ذکر مراعات النظیر کی مثال بن سکتا ہے۔

مراعات النظیر اور تضاد میں کیا فرق ہے؟

مراعات النظیر میں باہم مناسبت رکھنے والی چیزیں بیان کی جاتی ہیں، جبکہ تضاد میں ایک دوسرے کے مخالف یا متضاد الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

مراعات النظیر کی شعری مثال کون سی ہے؟

پتا پتا، بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

اس شعر میں پتا، بوٹا، گل اور باغ باہم مناسبت رکھنے والے الفاظ ہیں۔

صنعتِ مراعات النظیر اردو شاعری میں معنوی حسن پیدا کرنے والی ایک اہم ادبی صنعت ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے یہ بات یاد رکھنا کافی ہے کہ جب شاعر یا ادیب ایک چیز کے ساتھ اس سے تعلق رکھنے والی دوسری چیزوں کا ذکر کرے اور ان میں تضاد نہ ہو تو وہاں مراعات النظیر کی صنعت پائی جا سکتی ہے۔

سائیکالوجی روٹس پر اردو ادب، تعلیم، نفسیات اور دیگر معلوماتی موضوعات پر آسان فہم اور مفید مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اردو ادب کی مزید ادبی صنعتیں اور اصطلاحات سمجھنے کے لیے ہمارے دیگر مضامین بھی ضرور پڑھیں۔