صنعتِ تکرار کیا ہے؟ تعریف، اقسام اور شعری مثالوں کے ساتھ وضاحت

صنعتِ تکرار کیا ہے؟ تعریف، اقسام اور شعری مثالوں کے ساتھ وضاحت

اردو شاعری میں شاعر اپنے کلام کو خوبصورت، مؤثر اور پُرتاثیر بنانے کے لیے مختلف ادبی صنعتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ صنعتِ تکرار بھی علمِ بدیع کی ایک اہم صنعت ہے۔ اس میں کسی لفظ، فقرے یا ترکیب کو خاص انداز سے بار بار استعمال کیا جاتا ہے، جس سے کلام میں حسن، زور اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔

اس مضمون میں ہم صنعتِ تکرار کی تعریف، اس کی خصوصیات اور شعری مثالوں کے ذریعے اسے آسان انداز میں سمجھیں گے۔

صنعتِ تکرار کیا ہے؟

تکرار کے لغوی معنی بار بار کرنا، دوبارہ کہنا یا دہرانا ہیں۔

اصطلاحی طور پر جب شاعر یا ادیب کلام میں کسی لفظ، فقرے یا ترکیب کو بار بار استعمال کرے اور اس تکرار سے حسن، زور، موسیقیت یا تاثیر پیدا ہو تو اسے صنعتِ تکرار کہتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں:

کلام میں کسی لفظ یا فقرے کو خوبصورتی اور تاثیر پیدا کرنے کے لیے بار بار دہرانا صنعتِ تکرار کہلاتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ صرف کسی لفظ کا بار بار آ جانا ہر صورت میں صنعتِ تکرار نہیں ہوتا۔ تکرار کا فنی اور بامقصد استعمال ہونا ضروری ہے۔

صنعتِ تکرار کی اہم خصوصیات

صنعتِ تکرار کو پہچاننے کے لیے درج ذیل باتیں ذہن میں رکھیں:

  • کسی لفظ یا فقرے کو دہرایا جاتا ہے۔
  • تکرار عموماً شعوری اور بامقصد ہوتی ہے۔
  • اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔
  • شعر کی موسیقیت اور روانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • کسی خیال یا جذبے پر زور دینے میں مدد ملتی ہے۔
  • بعض اوقات تکرار سے شعر میں جذباتی تاثیر زیادہ ہو جاتی ہے۔

صنعتِ تکرار کی پہلی شعری مثال

مومن خان مومن کا مشہور شعر ملاحظہ کریں:

پتا پتا، بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

اس شعر میں پتا، بوٹا، جانے اور دیگر الفاظ کی تکرار نمایاں ہے۔

خاص طور پر “جانے” کا بار بار استعمال شعر میں زور اور تاثیر پیدا کرتا ہے۔

اسی طرح “پتا پتا” اور “بوٹا بوٹا” کی تکرار سے شاعر نے یہ احساس پیدا کیا ہے کہ باغ کی ہر چیز شاعر کے حال سے واقف ہے۔

اس لیے یہ صنعتِ تکرار کی خوبصورت مثال ہے۔

صنعتِ تکرار کی دوسری مثال

نہ سمجھ مجھ کو رائیگاں، نہ سمجھ
نہ سہی تیرے کام کا، نہ سہی

اس شعر میں “نہ سمجھ” اور “نہ سہی” کی تکرار ہوئی ہے۔

الفاظ کی یہ تکرار شاعر کے جذبات پر زور پیدا کرتی ہے اور شعر کی تاثیر میں اضافہ کرتی ہے۔

یہ صنعتِ تکرار کی مثال ہے۔

صنعتِ تکرار کی تیسری مثال

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

اس شعر میں “خیاباں خیاباں” کی تکرار ہوئی ہے۔

لفظ خیاباں کو دہرانے سے شاعر نے وسعت اور کثرت کا احساس پیدا کیا ہے۔ اس تکرار سے شعر میں موسیقیت اور خوبصورتی بھی پیدا ہوئی ہے۔

صنعتِ تکرار کو کیسے پہچانیں؟

کسی شعر میں صنعتِ تکرار تلاش کرنے کے لیے یہ آسان طریقہ اختیار کریں:

  1. شعر کو غور سے پڑھیں۔
  2. ایسے الفاظ یا فقروں کو تلاش کریں جو ایک سے زیادہ مرتبہ آئے ہوں۔
  3. دیکھیں کہ ان کی تکرار محض اتفاقی ہے یا شاعر نے اسے خاص مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔
  4. اگر تکرار سے شعر میں زور، حسن، موسیقیت یا تاثیر پیدا ہو رہی ہو تو وہاں صنعتِ تکرار موجود ہو سکتی ہے۔

روزمرہ زبان میں تکرار کی مثالیں

تکرار کا استعمال صرف شاعری میں نہیں بلکہ عام گفتگو میں بھی ہوتا ہے۔

مثلاً:

آہستہ آہستہ چلو۔

جلدی جلدی کام مکمل کرو۔

دور دور تک کوئی نظر نہیں آیا۔

ان جملوں میں الفاظ کی تکرار سے مفہوم میں خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

البتہ ادبی اصطلاح کے طور پر صنعتِ تکرار میں تکرار کا استعمال فنی حسن اور تاثیر پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

صنعتِ تکرار کی اہمیت

صنعتِ تکرار شاعر کو کسی لفظ یا خیال پر خاص زور دینے کا موقع دیتی ہے۔

اس کے ذریعے:

  • شعر میں موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔
  • جذبات کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔
  • کسی خاص خیال پر زور دیا جاتا ہے۔
  • شعر کی روانی بہتر ہوتی ہے۔
  • کلام زیادہ یاد رہنے والا بن سکتا ہے۔
  • شاعر اپنے احساس کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔

صنعتِ تکرار کس قسم کی صنعت ہے؟

صنعتِ تکرار کا تعلق علمِ بدیع سے ہے۔ اسے بعض درسی تقسیمات میں صنائعِ لفظی کے تحت بیان کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کا نمایاں حسن الفاظ کی تکرار سے پیدا ہوتا ہے۔

صنعتِ تکرار اور عام تکرار میں فرق

ہر بار بار دہرایا جانے والا لفظ لازماً صنعتِ تکرار نہیں بنتا۔

اگر کسی لفظ کو صرف ضرورت کی وجہ سے دوبارہ استعمال کیا جائے تو یہ عام تکرار ہو سکتی ہے۔

لیکن جب شاعر کسی لفظ یا فقرے کو خاص فنی مقصد، زور، حسن، موسیقیت یا تاثیر پیدا کرنے کے لیے دہراتا ہے تو اسے صنعتِ تکرار کہا جاتا ہے۔

خلاصہ

صنعتِ تکرار علمِ بدیع کی ایک اہم ادبی صنعت ہے۔ اس میں شاعر یا ادیب کسی لفظ، فقرے یا ترکیب کو بامقصد انداز میں بار بار استعمال کرتا ہے اور اس تکرار سے کلام میں حسن، موسیقیت، زور اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔

مثلاً:

پتا پتا، بوٹا بوٹا

اور:

خیاباں خیاباں

میں الفاظ کی تکرار شعر کی خوبصورتی اور تاثیر میں اضافہ کرتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

صنعتِ تکرار کیا ہے؟

کلام میں کسی لفظ، فقرے یا ترکیب کو بامقصد انداز میں بار بار استعمال کرنا اور اس سے حسن و تاثیر پیدا کرنا صنعتِ تکرار کہلاتا ہے۔

تکرار کے لغوی معنی کیا ہیں؟

تکرار کے لغوی معنی دوبارہ کہنا، دہرانا یا بار بار کرنا ہیں۔

صنعتِ تکرار کس قسم کی صنعت ہے؟

صنعتِ تکرار کو بعض درسی تقسیمات میں صنائعِ لفظی میں شمار کیا جاتا ہے۔

صنعتِ تکرار کی ایک مثال کیا ہے؟

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

اس شعر میں خیاباں خیاباں کی تکرار صنعتِ تکرار کی مثال ہے۔

کیا ہر بار دہرایا جانے والا لفظ صنعتِ تکرار ہے؟

نہیں۔ ادبی صنعت کے طور پر تکرار میں لفظ یا فقرے کو بامقصد انداز میں دہرانا اور اس سے حسن، زور یا تاثیر پیدا ہونا اہم ہے۔

صنعتِ تکرار اردو شاعری میں لفظی حسن اور تاثیر پیدا کرنے والی ایک اہم ادبی صنعت ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے یہ بات یاد رکھیں کہ جب شاعر کسی لفظ یا فقرے کو محض اتفاقاً نہیں بلکہ خاص فنی مقصد کے تحت بار بار استعمال کرے اور اس سے کلام میں حسن یا تاثیر پیدا ہو تو وہاں صنعتِ تکرار پائی جاتی ہے۔

سائیکالوجی روٹس پر اردو ادب، تعلیم، نفسیات اور دیگر معلوماتی موضوعات پر آسان فہم اور مفید مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اردو ادب کی مزید ادبی صنعتیں اور اصطلاحات سمجھنے کے لیے ہمارے دیگر مضامین بھی ضرور پڑھیں۔