استعارہ کیا ہے؟ تعریف، ارکان، اقسام، تشبیہ سے فرق اور مثالوں کے ساتھ مکمل وضاحت

استعارہ کیا ہے؟ تعریف، ارکان، اقسام، تشبیہ سے فرق اور مثالوں کے ساتھ مکمل وضاحت

اردو ادب میں علمِ بیان کی بڑی اہمیت ہے۔ شاعر اور ادیب اپنے خیالات کو زیادہ مؤثر، دلکش اور بلیغ انداز میں پیش کرنے کے لیے مختلف ادبی صنعتوں سے مدد لیتے ہیں۔ ان میں استعارہ ایک نہایت اہم اور خوبصورت صنعت ہے۔

اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں یا امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں تو استعارہ، اس کے ارکان، اقسام اور تشبیہ سے اس کا فرق جاننا ضروری ہے۔ اس مضمون میں ان تمام موضوعات کو آسان زبان اور مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

استعارہ کیا ہے؟

استعارہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ادھار لینا، مستعار لینا یا عاریتاً لینا ہیں۔

اصطلاحی طور پر جب کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ دونوں معنوں میں مشابہت موجود ہو، لیکن حرفِ تشبیہ استعمال نہ کیا جائے، تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں، استعارہ میں ایک چیز کو دوسری چیز جیسا نہیں کہا جاتا بلکہ وہی چیز قرار دے دیا جاتا ہے۔

استعارہ کو آسان مثال سے سمجھیں

تشبیہ:

تم چاند کی طرح خوبصورت ہو۔

استعارہ:

تم چاند ہو۔

پہلی مثال میں کی طرح استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ تشبیہ ہے۔

دوسری مثال میں تمہیں براہِ راست چاند کہا گیا ہے، اس لیے یہ استعارہ ہے۔

اسی طرح:

  • علی شیر ہے۔
  • بچہ پھول ہے۔
  • ماں نے کہا: میرا چاند آ گیا۔

یہ تمام استعارے کی مثالیں ہیں۔

استعارہ کی وضاحت

لفظ چاند حقیقت میں آسمان پر موجود ایک سیارہ ہے، لیکن جب کسی خوبصورت انسان کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے مراد اس کی خوبصورتی ہوتی ہے۔

اسی طرح شیر حقیقت میں جنگل کا درندہ ہے، لیکن جب کسی بہادر شخص کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے بہادری مراد ہوتی ہے۔

یہی اندازِ بیان استعارہ کہلاتا ہے۔

استعارہ کی شعری مثال

کسی شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن ایک طرف چرخِ کہن کانپ رہا ہے

اس شعر میں شیر سے مراد جنگل کا درندہ نہیں بلکہ ایک نہایت بہادر شخص ہے، اس لیے یہ استعارہ ہے۔

استعارہ اور تشبیہ میں فرق

اگرچہ استعارہ کی بنیاد تشبیہ پر ہوتی ہے، لیکن دونوں میں واضح فرق موجود ہے۔

مثال:

تشبیہ:

تم چاند کی طرح خوبصورت ہو۔

استعارہ:

تم چاند ہو۔

تشبیہ میں دونوں چیزوں کے درمیان موازنہ کیا جاتا ہے، جبکہ استعارہ میں ایک چیز کو براہِ راست دوسری چیز قرار دیا جاتا ہے۔

ارکانِ استعارہ

استعارہ کے تین بنیادی ارکان ہیں۔

مستعار لہ

جس شخص یا چیز کے لیے کوئی لفظ مستعار لیا جائے، اسے مستعار لہ کہتے ہیں۔

مثال:

تم چاند ہو۔

اس مثال میں تم مستعار لہ ہو۔

مستعار منہ

جس چیز سے لفظ مستعار لیا جائے، اسے مستعار منہ کہتے ہیں۔

اوپر دی گئی مثال میں چاند مستعار منہ ہے۔

وجہِ جامع

وہ مشترک خوبی جو مستعار لہ اور مستعار منہ کے درمیان موجود ہو، وجہِ جامع کہلاتی ہے۔

اوپر دی گئی مثال میں خوبصورتی وجہِ جامع ہے۔

اہم بات

استعارہ میں عموماً مستعار لہ اور وجہِ جامع کا صراحت سے ذکر نہیں کیا جاتا، بلکہ قاری انہیں سیاق و سباق سے سمجھتا ہے۔

استعارہ کی اقسام

اردو ادب میں استعارہ کی متعدد اقسام بیان کی جاتی ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں۔

استعارہ بالتصریح

اس میں صرف مستعار منہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔

مثال:

چاند آیا۔

یہاں چاند سے مراد خوبصورت شخص ہے۔

استعارہ بالکنایہ

اس میں مستعار لہ کا ذکر ہوتا ہے جبکہ مستعار منہ کا اندازہ کسی قرینے سے لگایا جاتا ہے۔

مثال:

موت کے پنجے سے بچ نکلا۔

یہاں پنجہ اس بات کا قرینہ ہے کہ موت کو درندے کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔

استعارہ مطلقہ

ایسا استعارہ جس میں مستعار لہ اور مستعار منہ کے کسی مناسبت کا الگ سے ذکر نہ کیا جائے۔

استعارہ مجردہ

ایسا استعارہ جس میں مستعار منہ کی مناسبت یا صفات کا ذکر موجود ہو۔

استعارہ تخییلیہ

ایسا استعارہ جس میں شاعر یا ادیب اپنے تخیل کی بنیاد پر کسی چیز کو دوسری چیز تصور کرتا ہے۔

استعارہ وفاقیہ

ایسا استعارہ جس میں مستعار لہ اور مستعار منہ کی صفات ایک ہی چیز میں جمع ہو سکتی ہوں۔

استعارہ عنادیہ

ایسا استعارہ جس میں دونوں کی صفات کا ایک ہی چیز میں جمع ہونا ممکن نہ ہو۔

استعارہ عامیہ

ایسا استعارہ جس میں مشترک خوبی بہت واضح ہو۔ اسے مبتذلہ بھی کہا جاتا ہے۔

تشبیہ اور استعارہ میں فرق

تشبیہ استعارہ
ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دیا جاتا ہے۔ ایک چیز کو براہِ راست دوسری چیز قرار دیا جاتا ہے۔
حرفِ تشبیہ موجود ہوتا ہے۔ حرفِ تشبیہ موجود نہیں ہوتا۔
مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔ عموماً صرف مستعار منہ کا ذکر ہوتا ہے۔
حقیقت کے قریب اندازِ بیان ہوتا ہے۔ مجازی اندازِ بیان ہوتا ہے۔

استعارہ کی اہمیت

استعارہ ادب اور شاعری میں درج ذیل فوائد رکھتا ہے:

  • کلام کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
  • الفاظ میں اختصار پیدا کرتا ہے۔
  • اظہار کو زیادہ بلیغ بناتا ہے۔
  • قاری کے ذہن میں مضبوط تصور پیدا کرتا ہے۔
  • شاعری اور نثر کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔

خلاصہ

استعارہ علمِ بیان کی ایک اہم صنعت ہے۔ اس میں کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور حرفِ تشبیہ حذف کر دیا جاتا ہے۔ استعارہ کے تین بنیادی ارکان مستعار لہ، مستعار منہ اور وجہِ جامع ہیں۔ اردو شاعری اور نثر میں استعارہ اظہار کو زیادہ مؤثر، خوبصورت اور بلیغ بناتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

استعارہ کیا ہوتا ہے؟

استعارہ وہ ادبی صنعت ہے جس میں کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں بغیر حرفِ تشبیہ کے استعمال کیا جاتا ہے۔

استعارہ کے کتنے ارکان ہیں؟

استعارہ کے تین ارکان ہیں: مستعار لہ، مستعار منہ اور وجہِ جامع۔

استعارہ اور تشبیہ میں کیا فرق ہے؟

تشبیہ میں حرفِ تشبیہ موجود ہوتا ہے، جبکہ استعارہ میں حرفِ تشبیہ حذف کر دیا جاتا ہے اور ایک چیز کو براہِ راست دوسری چیز قرار دیا جاتا ہے۔

استعارہ کی ایک مثال بیان کریں۔

علی شیر ہے۔

یہ استعارہ ہے کیونکہ یہاں علی کو براہِ راست شیر کہا گیا ہے۔

استعارہ اردو ادب کی نہایت اہم ادبی صنعت ہے۔ اس کی درست سمجھ سے نہ صرف امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے بلکہ شاعری اور نثر کے فنی حسن کو بھی گہرائی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں تو تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجازِ مرسل کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کریں تاکہ علمِ بیان پر مضبوط گرفت حاصل ہو۔

سائیکالوجی روٹس پر اردو ادب، تعلیم، نفسیات اور دیگر معلوماتی موضوعات پر مستند، آسان فہم اور تحقیق پر مبنی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ ایسے مزید مفید مضامین پڑھنا چاہتے ہیں تو ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔