مجازِ مرسل کیا ہے؟ تعریف، اقسام اور مثالوں کے ساتھ مکمل وضاحت

مجازِ مرسل کیا ہے؟ تعریف، اقسام اور مثالوں کے ساتھ مکمل وضاحت

اردو ادب میں علمِ بیان کی مختلف صنعتیں اظہار کو مؤثر، خوبصورت اور بلیغ بناتی ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم صنعت مجازِ مرسل ہے۔ اگرچہ یہ استعارہ سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہے، لیکن دونوں میں بنیادی فرق موجود ہے۔

اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں یا امتحان کی تیاری کر رہے ہیں تو مجازِ مرسل کی تعریف، اس کی اقسام اور مثالوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس مضمون میں ہم ان تمام نکات کو آسان زبان میں بیان کریں گے۔

مجازِ مرسل کیا ہے؟

اصطلاحی طور پر جب کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال ہو کہ حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق موجود ہو، تو اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔

یعنی مجازِ مرسل میں لفظ اپنے اصل معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ کسی دوسرے معنی کے لیے بولا جاتا ہے، اور دونوں معنوں کے درمیان کوئی نہ کوئی تعلق ضرور موجود ہوتا ہے، لیکن وہ تعلق مشابہت (تشبیہ) کا نہیں ہوتا۔

مجازِ مرسل کی مثال

مثال:

اس کام میں میرا ہاتھ نہیں ہے۔

اس جملے میں ہاتھ سے مراد جسم کا عضو نہیں بلکہ اختیار، طاقت یا حصہ ہے، اس لیے یہ مجازِ مرسل کی مثال ہے۔

مجازِ مرسل کی اہم اقسام

مجازِ مرسل کی متعدد اقسام بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے امتحانی نقطۂ نظر سے اہم اقسام درج ذیل ہیں۔

جز بول کر کل مراد لینا

اس میں کسی چیز کے ایک حصے کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن مراد پوری چیز ہوتی ہے۔

مثال

الحمد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

یہاں الحمد سے مراد پوری سورۂ فاتحہ ہے۔

شعری مثال

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
کل اس پہ یہی شور ہے پھر نوحہ گری کا

اس شعر میں سر سے مراد پورا انسان ہے۔

کل بول کر جز مراد لینا

اس میں پوری چیز کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن مراد اس کا کوئی حصہ ہوتا ہے۔

مثال

اور لے آئے بازار سے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے میرا جامِ سفال اچھا ہے

یہاں بازار سے مراد پورا بازار نہیں بلکہ اس کی ایک دکان ہے۔

اسی طرح اگر کوئی کہے:

میں اسلام آباد میں رہتا ہوں۔

تو اس سے مراد پورا شہر نہیں بلکہ اس کا کوئی ایک سیکٹر یا علاقہ ہوتا ہے۔

سبب بول کر مسبب مراد لینا

اس میں سبب کا ذکر کیا جاتا ہے جبکہ مراد اس کا نتیجہ یا مسبب ہوتا ہے۔

مثال

آج بادل خوب برسا۔

حقیقت میں بارش برستی ہے، لیکن سبب یعنی بادل کا ذکر کیا گیا ہے۔

مسبب بول کر سبب مراد لینا

اس میں نتیجے کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن مراد اس کا سبب ہوتا ہے۔

مثال

آج اناج برس رہا ہے۔

اس سے مراد اناج نہیں بلکہ بارش ہے، جو اناج پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے۔

زمانۂ ماضی بول کر حال مراد لینا

کسی شخص کو اس کے سابق عہدے یا حیثیت سے پکارنا۔

مثال

  • ریٹائرڈ پرنسپل کو “پرنسپل صاحب” کہنا۔
  • ریٹائرڈ فوجی کو “فوجی صاحب” کہنا۔

زمانۂ مستقبل بول کر حال مراد لینا

کسی شخص کو اس کے مستقبل کے پیشے یا مقام سے پہلے ہی پکارنا۔

مثال

میڈیکل کے طالب علم کو ڈاکٹر صاحب کہنا۔

ظرف بول کر مظروف مراد لینا

ظرف سے مراد برتن اور مظروف سے مراد برتن کے اندر موجود چیز ہے۔

مثال

بوتل پی لو۔

حقیقت میں بوتل نہیں بلکہ بوتل میں موجود مشروب پیا جاتا ہے۔

مظروف بول کر ظرف مراد لینا

اس میں برتن کے اندر موجود چیز کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن مراد برتن ہوتا ہے۔

مثال

الماری سے شربت اٹھا لاؤ۔

حقیقت میں شربت نہیں بلکہ شربت والی بوتل اٹھائی جاتی ہے۔

مجازِ مرسل اور استعارہ میں فرق

مجازِ مرسل استعارہ
حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہوتا ہے۔ حقیقی اور مجازی معنی میں مشابہت یا تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے۔
لفظ کسی تعلق کی بنیاد پر مجازی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لفظ مشابہت کی بنیاد پر دوسری چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مجازِ مرسل کی اہمیت

مجازِ مرسل ادب میں اختصار، خوبصورتی اور اثر پیدا کرتا ہے۔ شاعر اور ادیب اس کے ذریعے کم الفاظ میں گہرا مفہوم بیان کرتے ہیں، جس سے کلام زیادہ مؤثر اور دلنشین بن جاتا ہے۔

خلاصہ

مجازِ مرسل علمِ بیان کی ایک اہم صنعت ہے۔ اس میں لفظ اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن دونوں کے درمیان تعلق تشبیہ کا نہیں ہوتا۔ جز و کل، سبب و مسبب، ظرف و مظروف اور زمانے کے تعلقات مجازِ مرسل کی مشہور صورتیں ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مجازِ مرسل کیا ہوتا ہے؟

جب کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال ہو کہ دونوں معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق موجود ہو، تو اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔

مجازِ مرسل کی ایک مثال بیان کریں۔

اس کام میں میرا ہاتھ نہیں ہے۔

یہاں ہاتھ سے مراد جسم کا عضو نہیں بلکہ اختیار یا حصہ ہے۔

مجازِ مرسل اور استعارہ میں کیا فرق ہے؟

استعارہ میں مشابہت کا تعلق ہوتا ہے، جبکہ مجازِ مرسل میں تشبیہ کے علاوہ کوئی دوسرا تعلق پایا جاتا ہے۔

مجازِ مرسل کی اہم اقسام کون سی ہیں؟

جز و کل، کل و جز، سبب و مسبب، مسبب و سبب، ظرف و مظروف اور زمانے کے تعلقات مجازِ مرسل کی اہم اقسام ہیں۔

مجازِ مرسل اردو ادب کی ایک اہم ادبی صنعت ہے جو الفاظ کو نئے مفاہیم عطا کرتی ہے اور اظہار کو زیادہ مؤثر بناتی ہے۔ اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں تو تشبیہ، استعارہ، مجازِ مرسل اور کنایہ کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کریں، کیونکہ یہ علمِ بیان کی بنیادی اصطلاحات ہیں اور امتحانات میں بھی اکثر پوچھے جاتے ہیں۔

سائیکالوجی روٹس پر اردو ادب، تعلیم، نفسیات اور دیگر معلوماتی موضوعات پر مستند، آسان فہم اور تحقیق پر مبنی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ ایسے مزید مفید مضامین پڑھنا چاہتے ہیں تو ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔