مقطع کیا ہے؟ تعریف، خصوصیات اور مثالوں کے ساتھ مکمل وضاحت
اردو شاعری میں بعض اصطلاحات ایسی ہیں جنہیں سمجھے بغیر غزل کی فنی ساخت کو مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہی اہم اصطلاحات میں سے ایک مقطع ہے۔ اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں یا شاعری سے دلچسپی رکھتے ہیں تو مقطع کی تعریف، اس کی خصوصیات اور اس کی اہمیت سے واقف ہونا ضروری ہے۔
اس مضمون میں ہم مقطع کے لغوی اور اصطلاحی معنی، اس کی بنیادی خصوصیات، مثالیں اور مطلع سے اس کا فرق آسان زبان میں بیان کریں گے۔
مقطع کیا ہے؟
مقطع عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے لغوی معنی کاٹنے کی جگہ، اختتام یا کسی چیز کے ختم ہونے کی جگہ ہیں۔
اصطلاحی طور پر غزل یا قصیدے کا آخری شعر، جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرے، مقطع کہلاتا ہے۔
یعنی صرف آخری شعر ہونا کافی نہیں بلکہ اس میں شاعر کا تخلص بھی موجود ہونا ضروری ہے۔
مقطع کی اہمیت
مقطع غزل کا آخری شعر ہوتا ہے اور یہی شعر پوری غزل کے اختتام کا اعلان کرتا ہے۔ بہت سے شعرا اپنے مقطع میں اپنی شخصیت، خیالات یا غزل کا مرکزی پیغام نہایت خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔
مقطع کی خصوصیات
مقطع کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- یہ غزل یا قصیدے کا آخری شعر ہوتا ہے۔
- اس میں شاعر کا تخلص شامل ہوتا ہے۔
- مقطع غزل کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔
- اس کے ذریعے شاعر اپنی شناخت بھی ظاہر کرتا ہے۔
- بعض اوقات پوری غزل کا مرکزی خیال مقطع میں سمٹ آتا ہے۔
- مقطع غزل کی وحدت اور تکمیل کو نمایاں کرتا ہے۔
مقطع کب نہیں کہلاتا؟
ہر آخری شعر مقطع نہیں ہوتا۔ مقطع کہلانے کے لیے مخصوص شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔
اگر آخری شعر میں تخلص نہ ہو
اگر غزل کے آخری شعر میں شاعر کا تخلص موجود نہ ہو تو وہ صرف غزل کا آخری شعر ہوگا، مقطع نہیں۔
اگر تخلص آخری شعر کے علاوہ کسی اور شعر میں ہو
اگر شاعر نے کسی درمیانی شعر میں اپنا تخلص استعمال کیا ہو لیکن وہ غزل کا آخری شعر نہ ہو تو اسے بھی مقطع نہیں کہا جائے گا۔
مقطع کی مثالیں
مندرجہ ذیل اشعار میں آخری شعر ہونے کے ساتھ شاعر کا تخلص بھی موجود ہے، اس لیے یہ مقطع کی مثالیں ہیں۔
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کیا
کیوں سنے عرضِ مضطرب مومن
صنم آخر خدا نہیں ہوتا
ان اشعار میں فیض، میر اور مومن شاعر کے تخلص ہیں، اسی وجہ سے یہ مقطع کہلاتے ہیں۔
ایسی مثال جو مقطع نہیں ہے
مندرجہ ذیل شعر غزل کا آخری شعر تو ہے، لیکن اس میں شاعر کا تخلص موجود نہیں، اس لیے اسے مقطع نہیں کہا جائے گا۔
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
یہ شعر غزل کے اختتام پر موجود ہونے کے باوجود مقطع نہیں کہلاتا کیونکہ اس میں شاعر کا تخلص شامل نہیں ہے۔
مقطع اور مطلع میں فرق
| مقطع | مطلع |
|---|---|
| غزل کا آخری شعر ہوتا ہے۔ | غزل کا پہلا شعر ہوتا ہے۔ |
| شاعر کا تخلص موجود ہوتا ہے۔ | دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ |
| غزل کے اختتام کی علامت ہے۔ | غزل کے آغاز کی علامت ہے۔ |
مقطع کی ادبی اہمیت
مقطع صرف غزل کا آخری شعر نہیں بلکہ شاعر کی شناخت بھی ہوتا ہے۔ بہت سے شعرا اپنے تخلص کو اس انداز سے استعمال کرتے ہیں کہ مقطع پوری غزل کا یادگار ترین شعر بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اردو شاعری میں مقطع کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
خلاصہ
مقطع غزل یا قصیدے کا آخری شعر ہوتا ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ اگر آخری شعر میں تخلص موجود نہ ہو تو وہ مقطع نہیں کہلاتا۔ اسی طرح اگر تخلص کسی درمیانی شعر میں آئے تو وہ بھی مقطع شمار نہیں ہوتا۔ مقطع غزل کی تکمیل، شاعر کی شناخت اور فنی حسن کو نمایاں کرتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مقطع کیا ہوتا ہے؟
مقطع غزل یا قصیدے کا آخری شعر ہوتا ہے جس میں شاعر کا تخلص موجود ہو۔
مقطع کے لغوی معنی کیا ہیں؟
مقطع کے لغوی معنی اختتام، کاٹنے کی جگہ یا کسی چیز کے ختم ہونے کی جگہ ہیں۔
کیا ہر آخری شعر مقطع ہوتا ہے؟
نہیں۔ آخری شعر میں شاعر کا تخلص موجود ہونا ضروری ہے، ورنہ وہ مقطع نہیں کہلاتا۔
مقطع اور مطلع میں کیا فرق ہے؟
مطلع غزل کا پہلا شعر ہوتا ہے جبکہ مقطع غزل کا آخری شعر ہوتا ہے جس میں شاعر کا تخلص شامل ہوتا ہے۔
مقطع اردو شاعری کی اہم اصطلاحات میں سے ایک ہے۔ اس کی درست سمجھ نہ صرف غزل کی ساخت کو واضح کرتی ہے بلکہ شاعر کے فنی انداز کو بھی بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں تو مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف اور دیگر شعری اصطلاحات کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کریں۔
سائیکالوجی روٹس پر اردو ادب، تعلیم، نفسیات اور دیگر معلوماتی موضوعات پر مستند اور آسان فہم مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ ایسے مزید مفید مضامین پڑھنا چاہتے ہیں تو ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔