مطلع کیا ہے؟ مطلع، مطلعِ ثانی، حسنِ مطلع اور مطلعِ ثالث کی مکمل وضاحت مثالوں کے ساتھ
شاعری ایک خوبصورت فن ہے جس میں ہر لفظ اور ہر اصطلاح کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر آپ اردو ادب یا شاعری کے طالب علم ہیں تو آپ نے مطلع، مطلعِ ثانی، مطلعِ ثالث اور حسنِ مطلع جیسے الفاظ ضرور سنے ہوں گے۔ ان اصطلاحات کو سمجھنے سے غزل کی ساخت اور حسن کو بہتر انداز میں جانا جا سکتا ہے۔
اس مضمون میں ان تمام اصطلاحات کو آسان زبان اور مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر طالب علم انہیں باآسانی سمجھ سکے۔
شعری اصطلاحات کیا ہیں؟
جب کوئی لفظ اپنے عام یا لغوی معنی کے بجائے کسی مخصوص ادبی یا فنی مفہوم میں استعمال ہو، اور اہلِ علم اس معنی پر متفق ہوں، تو اسے اصطلاح کہا جاتا ہے۔
اردو شاعری میں بھی متعدد اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جنہیں شعری اصطلاحات کہا جاتا ہے، جیسے:
- مطلع
- مقطع
- قافیہ
- ردیف
- بیت الغزل
یہ اصطلاحات شاعری کو سمجھنے اور اس کی فنی خوبصورتی کو جاننے میں مدد دیتی ہیں۔
مطلع کیا ہے؟
مطلع عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی طلوع ہونا، ظاہر ہونا یا سامنے آنا ہیں۔
اصطلاحی طور پر غزل، قصیدہ یا بعض دیگر اصنافِ شاعری کا پہلا شعر، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، مطلع کہلاتا ہے۔
مطلع پوری غزل کا آغاز ہوتا ہے اور اسی سے غزل کے قافیہ اور ردیف کا تعین ہوتا ہے۔
مطلع کی مثال
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
اس شعر کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف موجود ہیں، اس لیے یہ مطلع کہلاتا ہے۔
مطلعِ ثانی کیا ہے؟
اگر غزل کا دوسرا شعر بھی اسی انداز میں ہو کہ اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، تو اسے مطلعِ ثانی کہا جاتا ہے۔
مثال:
کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
مطلعِ ثالث کیا ہے؟
اگر تیسرا شعر بھی مطلع کی ہی طرز پر ہو اور اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، تو اسے مطلعِ ثالث کہا جاتا ہے۔
مثال:
ہنسا ہنسا کے شبِ وصل اشک بار کیا
تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا
حسنِ مطلع کیا ہے؟
اگر غزل میں متعدد مطلع موجود ہوں تو آخری ایسا شعر، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، حسنِ مطلع کہلاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والے اشعار عام غزل کے اشعار ہوتے ہیں، جن میں صرف دوسرا مصرع قافیہ اور ردیف پر ختم ہوتا ہے۔
مثال:
یہ کس نے جلوہ ہمارے سرِ مزار کیا
تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا
اگر پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ نہ ہوں تو؟
اگر غزل کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف نہ ہوں تو وہ مطلع نہیں کہلاتا، بلکہ صرف پہلا شعر شمار کیا جاتا ہے۔
مطلع کی اہمیت
ادبی نقطۂ نظر سے مطلع غزل کا تعارف ہوتا ہے۔ جس طرح ایک نقیب بادشاہ کی آمد کا اعلان کرتا ہے، اسی طرح مطلع پوری غزل کے مزاج، آہنگ اور فضا کا آغاز کرتا ہے۔ بعد کے تمام اشعار اسی فنی ترتیب کی پیروی کرتے ہیں۔
بیت الغزل کیا ہوتا ہے؟
غزل کا سب سے خوبصورت، مؤثر اور یادگار شعر بیت الغزل کہلاتا ہے۔
مثال کے طور پر مومن خان مومن کا مشہور شعر:
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یہ شعر اردو ادب کے مشہور بیت الغزل میں شمار کیا جاتا ہے۔
خلاصہ
- مطلع غزل کا پہلا شعر ہوتا ہے۔
- مطلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔
- دوسرا ایسا شعر مطلعِ ثانی کہلاتا ہے۔
- تیسرا ایسا شعر مطلعِ ثالث کہلاتا ہے۔
- آخری ایسا شعر حسنِ مطلع کہلاتا ہے۔
- مطلع پوری غزل کے انداز، قافیہ اور ردیف کا تعین کرتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مطلع کیا ہوتا ہے؟
مطلع غزل یا قصیدے کا پہلا شعر ہوتا ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔
مطلعِ ثانی کیا ہے؟
غزل کا دوسرا شعر جس کے دونوں مصرعے بھی مطلع کی طرح ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں۔
حسنِ مطلع کیا ہوتا ہے؟
غزل میں موجود آخری مطلع کو حسنِ مطلع کہا جاتا ہے۔
مطلع کے لغوی معنی کیا ہیں؟
مطلع کے لغوی معنی طلوع ہونا، ظاہر ہونا یا سامنے آنا ہیں۔
بیت الغزل کیا ہوتا ہے؟
غزل کا سب سے بہترین اور مؤثر شعر بیت الغزل کہلاتا ہے۔