مخمس کیا ہے؟ تعریف، قافیہ بندی اور مثال
اردو شاعری میں مختلف اصناف ایسی ہیں جو اپنے مخصوص بند اور مصرعوں کی تعداد کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔ مخمس بھی اردو شاعری کی ایک اہم صنف ہے۔ اس مضمون میں ہم مخمس کی تعریف، اس کی قافیہ بندی اور ایک شعری مثال کو آسان انداز میں سمجھیں گے۔
مخمس کی تعریف
مخمس ایسی نظم کو کہتے ہیں جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔
مخمس کا نام بھی اس کی ساخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہونے کی وجہ سے اسے مخمس کہا جاتا ہے۔
مخمس کی قافیہ بندی
مخمس کے پہلے بند کے پانچوں مصرعے آپس میں ہم قافیہ ہوتے ہیں۔
اس کے بعد آنے والے تمام بندوں میں پہلے چار مصرعے آپس میں ہم قافیہ ہوتے ہیں، جبکہ ہر بند کا پانچواں اور آخری مصرع پہلے بند کے قافیے کے ساتھ ہم قافیہ ہوتا ہے۔
اسے آسانی سے یوں سمجھا جا سکتا ہے:
پہلا بند:
الف — الف — الف — الف — الف
دوسرا بند:
ب — ب — ب — ب — الف
تیسرا بند:
ج — ج — ج — ج — الف
یہ قافیہ بندی مخمس کی اہم شناخت ہے۔
مخمس کی اہم خصوصیات
مخمس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- مخمس ایک بند دار صنفِ شاعری ہے۔
- ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔
- پہلے بند کے پانچوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔
- بعد کے بندوں کے پہلے چار مصرعے آپس میں ہم قافیہ ہوتے ہیں۔
- بعد کے ہر بند کا آخری مصرع پہلے بند کے قافیے سے ہم قافیہ ہوتا ہے۔
- ہر بند میں پانچ مصرعوں کی مخصوص ترتیب برقرار رہتی ہے۔
مخمس کی مثال
اردو کے معروف شاعر نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں مخمس کی ایک مثال ملتی ہے:
کیا کیا رکھے ہیں یا رب سامان تیری قدرت
بدلے ہے رنگ کیا کیا ہر آن تیری قدرت
سب مست ہو رہے ہیں پہچان تیری قدرت
تیتر پکارتے ہیں سبحان تیری قدرت
کیا کیا مچی ہیں یارو! برسات کی بہاریں
مذکورہ بند میں پانچ مصرعے ہیں، اسی لیے یہ مخمس کی مثال ہے۔
پہلے چار مصرعوں کے اختتام پر قدرت کا لفظ آ رہا ہے، جبکہ آخری مصرع بہاریں پر ختم ہو رہا ہے۔ اس مثال کو مخمس کی قافیہ بندی اور ساخت سمجھنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
مخمس کو آسانی سے کیسے یاد کریں؟
مخمس کو یاد رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے:
مخمس = ہر بند میں پانچ مصرعے
اس کے بعد قافیہ بندی یاد رکھیں:
الف — الف — الف — الف — الف
ب — ب — ب — ب — الف
ج — ج — ج — ج — الف
یعنی پہلے بند کے تمام مصرعے ایک قافیے میں ہوتے ہیں، جبکہ بعد کے بندوں کا آخری مصرع پہلے بند کے قافیے سے جڑا رہتا ہے۔
امتحانی سوال کے لیے مختصر جواب
مخمس ایسی نظم کو کہتے ہیں جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں۔ پہلے بند کے پانچوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، جبکہ بعد کے بندوں کے پہلے چار مصرعے آپس میں ہم قافیہ اور آخری مصرع پہلے بند کے قافیے سے ہم قافیہ ہوتا ہے۔ نظیر اکبر آبادی کی برسات کے موضوع پر مذکورہ نظم مخمس کی مثال ہے۔
خلاصہ
مخمس اردو شاعری کی ایک اہم بند دار صنف ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے بند کے تمام مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور بعد کے بندوں کا آخری مصرع پہلے بند کے قافیے کے ساتھ مربوط رہتا ہے۔
اگر آپ اردو شاعری کی دوسری اصناف جیسے مربع، مثلث، مسدس، ترکیب بند اور ترجیع بند کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں تو سائیکالوجی روٹس پر موجود دیگر مضامین بھی ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مخمس کسے کہتے ہیں؟
ایسی نظم جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں، مخمس کہلاتی ہے۔
مخمس کے ہر بند میں کتنے مصرعے ہوتے ہیں؟
مخمس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔
مخمس کی ایک مشہور مثال کس شاعر کی ہے؟
نظیر اکبر آبادی کی برسات کے موضوع پر مذکورہ نظم مخمس کی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
مخمس اور مربع میں کیا فرق ہے؟
مربع کے ہر بند میں چار مصرعے ہوتے ہیں، جبکہ مخمس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔
مخمس اور مسدس میں کیا فرق ہے؟
مخمس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں، جبکہ مسدس کے ہر بند میں چھ مصرعے ہوتے ہیں