مرثیہ کیا ہے؟ تعریف، ارکان، خصوصیات اور شعری مثالیں
اردو شاعری میں مرثیہ ایک اہم اور مؤثر صنفِ سخن ہے۔ اس صنف میں کسی وفات پانے والے شخص کے غم، جدائی اور اوصاف کو درد مندانہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں مرثیہ خاص طور پر واقعۂ کربلا اور شہدائے کربلا کے بیان کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
اس مضمون میں ہم مرثیے کی تعریف، خصوصیات، اہم ارکان اور معروف مرثیہ گو شعراء کی مثالوں کو آسان انداز میں سمجھیں گے۔
مرثیہ کیا ہے؟
مرثیہ عربی زبان کے لفظ رثا سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی کسی وفات پانے والے کے غم میں رونا، میت پر آنسو بہانا اور اس کے اوصاف بیان کرنا ہیں۔
شاعری کی اصطلاح میں ایسی نظم جس میں کسی وفات پانے والے شخص کی خوبیوں، اوصاف اور کردار کو درد و غم کے ساتھ بیان کیا جائے، مرثیہ کہلاتی ہے۔
اردو اور فارسی شاعری میں مرثیہ بالخصوص واقعۂ کربلا، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کے مصائب اور شہادت کے واقعات کے بیان کے لیے بہت اہم صنف بن گیا۔
مرثیے کی تعریف
ایسی نظم جس میں کسی وفات پانے والے شخص کے انتقال پر غم، دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جائے اور اس کی خوبیوں اور اوصاف کو درد مندانہ انداز میں بیان کیا جائے، مرثیہ کہلاتی ہے۔
اردو شاعری میں مرثیے کا سب سے نمایاں موضوع واقعۂ کربلا اور شہدائے کربلا کے حالات، مصائب، بہادری اور شہادت ہے۔
مرثیے کی اہم خصوصیات
مرثیے کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- مرثیے میں کسی وفات پانے والے شخص یا شخصیت کے غم کا اظہار کیا جاتا ہے۔
- مرحوم یا شہید کے اوصاف اور خوبیوں کو بیان کیا جاتا ہے۔
- واقعۂ کربلا اردو مرثیے کا ایک اہم موضوع ہے۔
- مرثیے میں درد، غم، جذبات اور اثر انگیزی نمایاں ہوتی ہے۔
- جنگ، بہادری، قربانی اور شہادت کے مناظر کو تفصیل سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
- اردو مرثیے میں منظر نگاری اور واقعہ نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
- مرثیے میں کرداروں کے جذبات اور کیفیات کو بھی مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
مرثیے کے اہم ارکان
روایتی اردو مرثیے کے اہم ارکان درج ذیل ہیں:
- چہرہ
- سراپا
- رخصت
- آمد
- رجز
- رزم
- شہادت
- بین
- دعا
اب ان تمام ارکان کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
۱۔ چہرہ
مرثیے کے ابتدائی حصے کو چہرہ کہا جاتا ہے۔
اس حصے میں عموماً مرثیے کی تمہید باندھی جاتی ہے۔ شاعر حمد، نعت، منقبت، اخلاقی باتوں یا فطری مناظر کے ذریعے مرثیے کا آغاز کر سکتا ہے۔
چہرے کا مقصد قاری یا سامع کو مرثیے کے اصل موضوع کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔
۲۔ سراپا
سراپا میں مرثیے کے مرکزی کردار یا ممدوح کے حلیے، شکل و شباہت، حسن و جمال اور ظاہری اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔
شاعر کردار کی خوب صورتی، لباس، قد و قامت اور دیگر ظاہری خصوصیات کو شعری انداز میں پیش کرتا ہے۔
۳۔ رخصت
رخصت میں مرکزی کردار کے میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہونے کا منظر بیان کیا جاتا ہے۔
اس حصے میں اہلِ خانہ سے جدائی، جذباتی کیفیت اور میدانِ جنگ کی طرف روانگی کو مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
۴۔ آمد
آمد میں مرکزی کردار کی میدانِ جنگ میں آمد کا منظر بیان کیا جاتا ہے۔
اس حصے میں کردار کی شان، بہادری اور میدان میں داخل ہونے کی کیفیت کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
۵۔ رجز
رجز اس حصے کو کہتے ہیں جس میں جنگ شروع ہونے سے پہلے مرکزی کردار اپنے اوصاف، بہادری، خاندان اور نسب کا ذکر کرتا ہے۔
اس کے ذریعے کردار اپنی شناخت اور اپنے حوصلے کا اظہار کرتا ہے۔
۶۔ رزم
مرثیے کے رزم والے حصے میں جنگ اور معرکے کا منظر بیان کیا جاتا ہے۔
اس حصے میں مرکزی کردار کی شجاعت، بہادری، جنگی مہارت اور دشمن کے ساتھ مقابلے کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔
۷۔ شہادت
شہادت میں مرکزی کردار کے شہید ہونے کا منظر بیان کیا جاتا ہے۔
یہ مرثیے کا نہایت دردناک اور جذباتی حصہ ہوتا ہے، جس میں شہادت کے واقعے اور اس کے اثرات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
۸۔ بین
بین میں شہادت یا وفات کے بعد اہلِ خانہ اور متعلقہ افراد کے غم اور ماتم کی کیفیت بیان کی جاتی ہے۔
اس حصے میں شاعر ایسے درد انگیز مناظر پیش کرتا ہے جن سے مرثیے کی جذباتی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔
۹۔ دعا
مرثیے کے آخری حصے میں دعا کے اشعار بیان کیے جاتے ہیں۔ شاعر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا اور التجا کرتا ہے اور مرثیے کو دعائیہ انداز میں اختتام تک پہنچاتا ہے۔
مرثیے کی شعری مثالیں
اردو کے عظیم مرثیہ نگار میر ببر علی انیس کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
وہ لو، وہ آفتاب کی حدت، وہ تاب و تب
کالا تھا رنگ دھوپ سے دن کا مثالِ شب
خود نہرِ علقمہ کے بھی سوکھے ہوئے تھے لب
خیمے جو تھے حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب
اڑتی تھی خاک، خشک تھا چشمۂ حیات کا
کھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا
ان اشعار میں میدانِ کربلا کی شدید گرمی، پیاس اور ماحول کی منظر نگاری کی گئی ہے۔
شاعر: میر ببر علی انیس
ایک اور مثال
میر ببر علی انیس کے یہ اشعار بھی مرثیے کے انداز کو واضح کرتے ہیں:
گھوڑے کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
آتے تھے اونٹ گھاٹ پر باندھے ہوئے قطار
پیتے تھے آب، نہر پرند آ کے بے شمار
سقے زمین پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بار
پانی کا دام و در پلانا ثواب تھا
اک ابنِ فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا
ان اشعار میں پانی کی فراوانی اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر کے لیے پانی کی قلت کے درمیان ایک مؤثر منظر پیش کیا گیا ہے۔
صبا اکبر آبادی کی مثال
صبا اکبر آبادی کے یہ اشعار بھی مرثیہ نگاری کی مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں:
میدانِ کربلا میں جو پہنچا نبی کا پھول
فردوس میں علی سے یہ فرماتی تھی بتول
مانی تھی زندگی میں جو منت ہوئی قبول
قرآنِ دیں کی آخری آیت کا ہے نزول
بھٹکے گی اس کے بعد نہ امت رسول کی
تکمیل پا رہی ہے رسالت رسول کی
ان اشعار میں واقعۂ کربلا کو مذہبی اور جذباتی تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
مرزا دبیر کی مثال
مشہور مرثیہ نگار مرزا دبیر کے یہ اشعار بھی معروف ہیں:
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن ایک طرف، چرخِ کہن کانپ رہا ہے
ان اشعار میں میدانِ جنگ میں ایک بہادر کردار کی آمد اور اس کے رعب و شجاعت کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
میر انیس کی ایک اور مثال
میر ببر علی انیس کے یہ اشعار بھی مرثیے کی درد انگیز کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں:
پیاسی جو تھی سپاہِ خدا تین رات کی
ساحل سے سر ٹپکتی تھی موجیں فرات کی
ان اشعار میں کربلا کے واقعے میں پانی کی قلت اور پیاس کی شدت کو بیان کیا گیا ہے۔
مشہور مرثیہ گو شعراء
اردو ادب میں متعدد شعراء نے مرثیہ نگاری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان میں خصوصاً:
- میر ببر علی انیس
- مرزا سلامت علی دبیر
- صبا اکبر آبادی
شامل ہیں۔
میر انیس اور مرزا دبیر اردو مرثیہ نگاری کے دو سب سے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
مرثیے کے ارکان آسانی سے کیسے یاد کریں؟
مرثیے کے روایتی ارکان کو اس ترتیب سے یاد کیا جا سکتا ہے:
چہرہ → سراپا → رخصت → آمد → رجز → رزم → شہادت → بین → دعا
اس ترتیب کو یاد رکھنے سے مرثیے کے مختلف حصوں کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
امتحانی سوال کے لیے مختصر جواب
مرثیہ عربی لفظ رثا سے نکلا ہے، جس کے معنی کسی وفات پانے والے کے غم میں رونا اور اس کے اوصاف بیان کرنا ہیں۔ اصطلاح میں ایسی نظم جس میں کسی فوت شدہ شخص کی خوبیاں اور اوصاف درد و غم کے ساتھ بیان کیے جائیں، مرثیہ کہلاتی ہے۔ اردو ادب میں مرثیہ بالخصوص واقعۂ کربلا اور شہدائے کربلا کے بیان کے لیے مشہور ہے۔ اس کے اہم روایتی ارکان چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، رزم، شہادت، بین اور دعا ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مرثیہ کسے کہتے ہیں؟
ایسی نظم جس میں کسی وفات پانے والے شخص کے غم، اوصاف اور خوبیوں کو درد مندانہ انداز میں بیان کیا جائے، مرثیہ کہلاتا ہے۔
مرثیہ کے لغوی معنی کیا ہیں؟
مرثیہ عربی لفظ رثا سے نکلا ہے، جس کے معنی میت پر رونا، غم کا اظہار کرنا اور اس کے اوصاف بیان کرنا ہیں۔
اردو مرثیے کا سب سے اہم موضوع کیا ہے؟
اردو شاعری میں واقعۂ کربلا اور شہدائے کربلا مرثیے کے اہم ترین موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔
مرثیے کے کتنے اہم ارکان ہیں؟
روایتی اردو مرثیے کے نو اہم ارکان بیان کیے جاتے ہیں: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، رزم، شہادت، بین اور دعا۔
چہرہ کسے کہتے ہیں؟
مرثیے کے ابتدائی حصے کو چہرہ کہتے ہیں، جس میں عموماً تمہید، حمد، نعت، منقبت، اخلاقی باتوں یا فطری مناظر کا بیان ہوتا ہے۔
سراپا کیا ہے؟
مرثیے میں مرکزی کردار کے حلیے، شکل و شباہت، حسن و جمال اور ظاہری اوصاف کے بیان کو سراپا کہتے ہیں۔
رجز کیا ہے؟
جنگ سے پہلے مرکزی کردار کی جانب سے اپنے اوصاف، نسب اور بہادری کے اظہار والے حصے کو رجز کہتے ہیں۔
رزم کیا ہے؟
مرثیے میں جنگ اور معرکے کے منظر اور مرکزی کردار کی شجاعت و بہادری کے بیان کو رزم کہتے ہیں۔
مرثیے کے مشہور شعراء کون ہیں؟
میر ببر علی انیس، مرزا سلامت علی دبیر اور صبا اکبر آبادی مرثیہ نگاری کے معروف شعراء میں شامل ہیں۔
خلاصہ
مرثیہ اردو شاعری کی ایک اہم اور جذباتی صنف ہے جس میں کسی وفات پانے والے یا شہید کی یاد، غم، اوصاف اور واقعات کو مؤثر انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں مرثیہ بالخصوص واقعۂ کربلا کے بیان کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
مرثیے کے روایتی ارکان:
چہرہ → سراپا → رخصت → آمد → رجز → رزم → شہادت → بین → دعا
میر ببر علی انیس اور مرزا دبیر اردو مرثیہ نگاری کے نمایاں ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔